قاتل کا انتظار (مزا حیہ افسانہ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )
وہ بڑھاپے کی گھاٹی تیزی سے اتر رہا تھا۔اس کی بیوی کو مرے پانچ سال ہو چکے تھے اور اس کی تمام اولاد کی شادیاں بھی ہو چکی تھیں اور وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی پناہ میں زندگی کے آخری سالوں کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ اس نے زندگی ایک ڈاکیئے کی وردی میں بسر کر دی تھی اور وہ ہر گلی میں اپنی سوئی ہوئی قسمت جگانے کا سپنا لئے داخل ہوتا کہ شاید اس گلی سے اسے رومانوی طور پر ایک ایسا بیگ ہاتھ لگ جائے جس میں بہت بڑی دولت ہو اور اس کا دعویدار تو کیا اسے دیکھنے والا بھی کوئی نہ ہو اور وہ بیگ پکڑے اور سیدھا گھر جا کے اس دولت کو شمار کرے جو لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہو۔
لیکن اس کی زندگی میں ایسی کوئی رومانوی صبح، دوپہر یا شام نہیں تھی۔ وہ ہر روز اپنی پیاسی اور متلاشی نظروں کو کھوکھلا ہی لے کے گھر چلا جاتا اور رات کو کوشش کرتا کہ اسے خواب میں ہی کوئی اشارہ ملے کہ گلی کے فلاں کونے میں یا سڑک کے فلاں موڑ کے ایک طرف کوئی بہت بڑی دولت پڑی ہے۔ لیکن جب قسمت اچھی نہ ہو خواب بھی اچھے نہیں آتے۔ ایسے سہانے خواب آنے کی بجائے اسے رُلانے والے خواب آ تے ۔ وہ خواب میں دیکھتا کہ وہ مر گیا ہے، یا کسی حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گیا ہے، یا اس کے ذمے کوئی بہت بڑی رقم دوسروں کی واجب الادا نکل آئی ہے۔
اس کی اپنے بیوی ، جب وہ زندہ تھی، سے بھی ہر دوسرے روز بحث ہوا کرتی ، وہ کہا کرتی :
’’ تم ساری زندگی اپنی مرضی کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تو کر کیا سکتے ہو؟ تمہاری قسمت کا ستارا کبھی نہیں چمکے گا ۔ تم ڈاکیئے پیدا ہوئے تھے، ڈاکیئے ہی مرو گے۔ تم کبھی امیر نہیں بن سکتے‘‘۔
وہ کہا کرتا :
’’ میں ضرور ایک دن دنیا کا امیر انسان بنوں گا اور اگر امیر نہ بھی ہو سکا شہرت ضرور حاصل کروں گاچاہے کسی بھی طرح سے ہو ‘‘ ۔
اس کی زندگی کا ایک طویل عرصہ یہ سوچنے میں صرف ہو گیا کہ وہ امیر نہیں ہو سکتا تو مشہور تو کسی نہ کسی طرح سے ہو جائے۔ مشہور ہونے کے طریقے بھی امیر ہونے کے طریقوں کی طرح سوچنے آسان اور کرنے مشکل بلکہ ناممکن سے ہوتے ہیں۔ اور ایک عام انسان ان مشکل کاموں میں پڑے بغیر ہی ان سے توبہ تائب ہو جاتا ہے۔
اس نے بھی کئی طرح سے اپنی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ہستی اور اپنی پسلی کے مطابق اپنا مقدر آزمایا تھا لیکن اس کے مقدر میں کوئی رومانوی تبدیلی نہیں لکھی گئی تھی اور وہ ساری زندگی آس اور امید کے ریگستان میں ہی ریت چھانتے چھانتے گزار چکا تھا ۔
اب اس کی پیاری بیوی ،جو اس کی نفسیات کا مضبوط سہارا ہوا کرتی، اس سے بحث بھی کیاکرتی اور اس کی تسلی و تشفی بھی کیا کرتی، مر چکی تھی۔ اور اب اس کے پاس تنہائی کا لق دق صحرا تھا لیکن اس کے بچپن اور جوانی کی خواہش کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے مشہور ہو جائے اب بھی باقی تھی اور وہ یہ یقین جیسا گمان رکھتا تھا کہ اس کی خواہش اس کے مرنے سے پہلے پہلے ضرور پوری ہو گی۔
ٰٰؒؒ اب اس نے مشہور ہو کے کسے دکھانا تھالیکن اس کا یقین ِکامل تھا کہ وہ مر گیا تو سیدھا اپنی بیوی کے پاس جائے گا جہاں وہ اپنی اس زندگی ،جو وہ اس کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد گزار کر آ رہا ہو گا،پر سیر حاصل گفتگو کرے گا ۔ اس کا خیال تھا کہ اپنی بیوی کے پاس مشہور ہو کر جانے میں ہی عزت وتوقیر ہے ورنہ ایک ریٹائرڈ ڈاکیئے کے روپ میں ہی بیوی کے پاس جانا شرمندگی مول لینا ہے۔
اس کی صحت کی اکائیاں روز بروز گرتی جا رہی تھیں لیکن اس کے مشہور ہونے کی خواہش بھی زور پکڑتی جا رہی تھی۔ عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا ۔ گرمی ، سردی پہلے کی طرح اپنا رنگ جما کر گزر رہی تھیں اور ویسے ہی بہار اور خزاں ایک دوسرے کا تعاقب کرتی پھر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ تو ، اسے لگتا ،جیسے دنیا کی کسی چیز کوکوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ حتیٰ کہ اس کے گلی محلے والے بھی اس کے پاس بیٹھنا پہلے جیسا پسند نہیں کر رہے تھے ۔گھر والوں کے پاس تو اس کے پاس بیٹھنے کا وقت ہی نہ تھا ۔ بچے اس سے یوں دور بھاگتے جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ ڈراؤنا بھوت ہے۔ بیوی کیا مری ساری دنیا ہی بیگانی ہو گئی۔اب اسے بیوی کی اہمیت پہلے ہر زمانے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ اب اسے اس کی بحثوں میں وزن، جو پہلے کبھی بھی محسوس نہ ہوا تھا، محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی ایک ایک چھٹانک کی دلیل اب کئی کئی من وزنی لگ رہی تھیں۔ یہ وقت کا کمال ہے کہ انسان کے نظریئے بدل دیتا ہے۔
آخرِ کار قسمت اس پے مہربان ہو ہی گئی۔ ایک شام اس نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا کیوں اس شام اس کے گھر میں اس کا پسندیدہ سالن یعنی کڑھی پکی تھی جسے اس کی مرحوم بیوی بڑے کمال سے بنایا کرتی تھی اور مرنے سے پہلے وہ اپنی بہو کو مزیدار کڑھی پکانے کا گُر سکھا چکی تھی۔ اور یوں اس کے گھر میں مہینے میں ایک دو بار اس کی فرمائش پے مزیدار کڑھی بن جایا کرتی تھی۔ آج پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے اسے گہری نیند آئی اور وہ خوابوں کی دنیا میں بھی چلا گیا۔
وہ دیکھتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑا آدمی بن چکا ہے۔ اس کی اہمیت دنیا میں مسلمہ ہو چکی ہے۔ اس کے بہت سے رقیب اور حریف بھی میدان میں آ چکے ہیں اور شب وروز اس کے خلاف سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ وہ اسے جان سے مار دینا چاہتے ہیں تا کہ اس طرح ان کی تجارت کا رستہ ہموار ہو سکے اور وہ دنیا کی بہت بڑی منڈیوں میں اپنا مال بھیج کر منافع کما سکیں جس کے رستے میں وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیوں کہ ان عالمی منڈیوں میں اس کا سکہ چلتا ہے۔ وہ تجارت کی دنیا کا ایک بہت بڑا ڈان بن چکا ہے۔ اور اس کے مخالفین نے جرائم کی دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد اپالو دی گریٹ کو اس ٹارگٹ کے لئے منتخب کیا ہے اور اسے ایک بڑی رقم دے کر ایک اور بڑی رقم کی آفر کر دی ہے جو اسے اپنا ٹارگٹ پورا کرنے کی صورت میں دی جائے گی۔اس نے اپنے گارڈز بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ بھی خوف ناک اپالو سے سہمے محسوس ہوتے ہیں۔
اچانک کہیں سے ’ٹاہ‘ کی آواز آتی ہے اور اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ شکر کرتا ہے کہ وہ امیر آدمی نہیں بن سکا ورنہ اس کے ساتھ خواب والی بات حقیقت میں بھی بن سکتی تھی۔ وہ خدا کی باتوں کی حکمت ،یعنی خدا جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے ،کا اقرار کرتا ہوا پھر سو گیا ۔
اس بار وہ خواب میں بھی ایک ریٹارئرڈ ڈاکیا ہی ہے۔ لیکن اسے قتل کرنے کی پلاننگ اور تیاری پھر بھی پہلے کی طرح ہی ہو رہی ہے۔ اس بار اس کے پاس اپنے گارڈ بھی نہیں ہیں۔ وہ بالکل نہتا ہے اور اپنے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر واقع سڑک کے کنارے ایک ٹی سٹال کے بنچ پر بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ لیکن دنیا میں اسے ایک پُراسرار انسان سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ ایجنسیاں اس کے پیچھے لگی ہوئی ہیں اور کچھ لوگ ،نہ جانے کیوں ،اسے قتل کروانے کے در پئے ہیں۔ وہ دراصل ریٹائرڈ ڈاکیا ہی ہے لیکن کوئی قاتل اس کے تعاقب میں ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جس ہوٹل کے باہر بیٹھا وہ چائے پی رہا ہے اس کے اندر سے ایک خوفناک شخص برآمد ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک کلاشنکوف ہے۔ اس نے کالا لباس پہنا ہے اور منہ پر نقاب چڑھایا ہوا ہے۔ اس کی پہچان سوائے اس کے قد کاٹھ کے کسی اور ذریعے سے نہیں ہو سکتی۔ وہ ہوٹل سے باہر آتے ہی اس ڈاکیئے کی طرف کلاشنکوف کا نشانہ باندھتا ہے اور پلک جھپکنے میں اس کا سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیتا ہے ۔ وہ خون بہہ جانے کے سبب مر جاتا ہے لیکن مرنے کے بعد بھی سارے حالات وواقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ چائے والا ،جو کئی سالوں سے اس کا دوست اور ہمسایہ تھا، جلدی جلدی ہوٹل بند کر کے جائے وقوعہ سے رفو چکر ہوتے ہوئے اس کی لاش کی طرف دیکھ کر خوف محسوس کرتا ہے ۔ پولیس والے اس فائر کی آواز سن کر انتظار کرنے لگتے ہیں کہ کسی طرف سے کوئی انہیں فون پر اطلاع دے لیکن ان کے سینیئر انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ جب بھی فون آیا فوراً ادھر نہیں جانا کوئی آدھ گھنٹہ ضرور تاخیر کرنی ہے کیوں کہ بیگانی آگ میں جلنے میں کوئی دانائی نہیں۔ جب گولیوں کی آوازیں آنا بند ہو جائیں اور لڑنے والے یا کاروائی کرنے والے بھاگ جائیں تب جا کے علاقہ سیل کر دینا بہترین حکمت ِعملی ہوتی ہے اور بعد میں کسی عادی مجرم کو پکڑ کر تفتیش کا آغاز کر دیا جاتا ہے تا کہ پولیس کی کارکردگی بھی سامنے آ جائے۔ اس کی لاش کو وہاں پڑے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا کہ پولیس کی گاڑیاں ہارن بجاتی شور مچاتی وہاں پہنچنے لگ پڑیں اور پولیس والوں نے پوزیشنیں سنبھال لیں اور اس کی لاش اٹھا کر ہسپتال لے گئے تا کہ پوسٹ مارٹم کروا سکیں۔انہوں نے آس پاس کا سارا علاقہ ناکے لگا کر سیل کر دیا ، لیکن قاتل وہاں سے کب کا فرار ہو چکا تھا۔
ٹی وی چینلز پر اس قتل کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہونا شروع ہو گئی اور پھر سارا دن یہ خبر ہر بلیٹن کی پہلی خبر کے طور پر چلتی رہی۔ اس خبر کے نشر ہونے کے فوراً بعد اخباری نمائندے اور میڈیا کے فوٹو گرافر اور اینکر پرسنوں کا وہاں تانتا بندھ گیا ۔ اگلے دن کے اخبار اس قتل کی خبر تصویروں اور موٹی سرخیوں کے ساتھ چھاپ رہے تھے۔ اس کے متعلق زمین وآسمان کے قلابے ملا رہے تھے کہ گھر والے خود ان پر انگشت بدنداں ہو رہے تھے۔ کوئی اسے کسی خفیہ ایجنسی کا کارکن بنا کے اس کی من گھڑت کہانی مزے لے لے کے بیان کر رہا تھا، کوئی اس قتل کو اس کی پرانی دشمنی کا رنگ دے کر کئی سال پہلے ہونے والے قتل کے واقعات سے اس کے لنک تلاش کر رہا تھا اور دعویٰ کر رہا تھا کہ اس سے زیادہ سچی بات کوئی اور ہے ہی نہیں۔ کوئی اس قتل کے پیچھے کسی عورت کی کہانی کو رومانوی رنگ میں پیش کر رہا تھا کہ جب یہ ڈاکیا اِن سروس تھا تو اس کے ایک امیر عورت سے تعلقات بن گئے تھے۔ اِس کا اُس کے گھر آنا جانا تھا جسے اس نے خفیہ رکھا ہو اتھا۔ اس عورت کا شوہر بیرونِ ملک مقیم تھا اور جب اسے ان معاملات کا علم ہوا تو اس نے کسی کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کر کے اسے قتل کروا دیا ۔ کوئی دوسرا افسانہ نگار صحافی اس قتل کے پیچھے اس کے بیٹے اور بہو کا ہاتھ تلاش کر رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ اس کی تحقیق کے مطابق پچھلے ہفتے اس ڈاکیئے کی اپنے بیٹے کے ساتھ اپنی بہو کی وجہ سے منہ ماری ہوئی تھی جس کا بدلہ اسے اس قتل کی شکل میں ملا ہے، اور کل شام سے اس کا بیٹا اور بہو گھر سے غائب ہیں۔کسی نے یہ توجیہہ نکالی کہ یہ سب کچھ اس ڈاکیئے کے بیٹے نے اس کی انشورینس کی رقم حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ جبکہ ان بے چاروں کے فرشتوں کو بھی ان ساری باتوں کی خبر نہ تھی۔ خیر’ جتنے منہ اتنی باتیں‘۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا کہ اس ڈاکیئے کو امریکی ساخت کے اسلحے سے قتل کیا گیا ہے گویا قاتل کوئی انٹرنیشنل دہشت گرد ہے۔
کئی اخباری نمائندے اس کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔ حکومت اس غریب ڈاکئیے کے قتل میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ اور بہت سے اینکر پرسن اس کے بیٹے اور بہو سے کئے گئے انٹرویوز کو اپنے پروگراموں کی زینت بنا رہے ہیں۔ اور اس خاندا ن سے مکمل ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ دفاتر میں لوگ اخبار سامنے رکھ کراخباری تبصروں سے آگے اپنی بصیرت اور استدلال پر مبنی گفتگو پیش کر رہے ہیں اور اپنی آرا کو حرف آخر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرر رہے ہیں کہ جو وہ کہہ رہے ہیں آخر کار وہی بات سچ ثابت ہو گی۔
الغرض اس موت نے اسے دنیا میں مشہور انسان بنا دیا تھا۔اس سے اس کی شہرت حاصل کرنے کی خواہش پوری ہو چکی تھی۔ اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ قبر میں فرشتوں کے سوال وجواب سے فارغ ہو کر جب اپنی بیوی سے ملاقات کرے گا تو اسے بڑے فخر سے بتا سکے گا کہ دیکھا اس کا کہا پورا ہو گیا ۔ وہ کہا کرتا تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور مشہور انسان بن کے رہے گا ، اور آخر کار وہ بن گیا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا قبر میں سوالات کے کامیاب جوابات کے بعد اسے بتایا گیا کہ اب وہ اپنی دنیا والی بیوی سے ملاقات کرنے والا ہے ۔ اسے بہت خوشی محسوس ہو ئی کہ انتظار کے اتنے لمبے سالوں بعد اس کی اپنی بیوی سے ملاقات ہو رہی ہے۔ دوسروں کی بیویوں سے ملاقات تو اکثر ہوتی ہی رہتی تھی، اور وہ بھی اس ماحول میں جب وہ دنیا کے کونے کونے میں مشہور ہو کر اس کے پاس آرہا تھا۔ اس کی بیوی اس کے لئے پھولوں کے ہار لئے کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے بہت سے سسرالی رشتے دار بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔ اسے اپنے سسرال میں ہمیشہ اپنے خاندان میں عزت کی نسبت زیادہ عزت ملی تھی۔ اکثر شوہروں کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ان کی اپنے خاندان میں عزت کے پلڑے سے سسرال میں عزت کا پلڑا بھاری رہے گا۔ اسی طرح اکثر بیویؤں کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ان کے منہ سے ہمیشہ اپنے بھائیوں کی سلامتی اور اتحاد و اتفاق کی دعائیں نکلیں گی اور اپنے شوہر کے بھائیوں کے لئے ان سے الٹ دعائیں نکلیں گی۔
لیکن قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ جب اس کی بیوی اسے ہار پہنانے لگی تو اس نے اسے اپنے بازوؤں کی لپیٹ میں لینے کی کوشش کی۔ ابھی کوشش ادھوری ہی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ تکیئے کو اپنے سینے پے رکھے ہوئے تھا ۔ آنکھ کے کھلتے ہی اس کا مقدر پھر سو گیا ۔ اس کی زندگی بھر کی کوشش پوری ہوتے ہوتے پھر حادثے کا شکار ہو کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھی ۔ اور وہ آنکھیں پھاڑے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ کہیں اسے کسی نے دیکھ تو نہیں لیا ۔ کیا وہ واقعی اپنے گھر میں یا کہ یہ بھی ایک خواب ہے۔ لیکن مسجد سے آنے والی اذانوں کی آوازنے اس کے زندہ ہونے اور اپنے گھر میں ہونے کی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی تھی۔ وہ اٹھا اور محلے کی مسجد کی طرف چل پڑا کہ صبح کی نماز باجماعت ادا کی جائے۔
اس خواب کے آنے اور پھر چلے جانے کے بعد وہ چائے کے ہوٹل پے روزانہ پچھلے پہر بیٹھا کرتا اور اس انتظار میں رہتا کہ شاید خواب والا واقعہ کسی دن حقیقت بن کر اس کے ساتھ پیش آ جائے ۔ وہ ایک لحاظ سے مر تو ہی چکا تھا یعنی بوڑھا ہو چکا تھا لیکن افسوس کہ مشہور نہ ہو سکا تھا ۔ اب اگر مرتے مرتے وہ کسی کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو اس کا کیا جانا ہے موت تو آنی ہی آنی ہے لیکن موت کے آنے سے پہلے اس کا قتل ہو جانا اس کے لئے بڑہاپے کا بونس ہو گا اور وہ خبروں کی زینت بنے گا۔ اس کی موت کی بریکنگ نیوز چلے گی اور اگر بد قسمتی سے وہ قتل ہوئے بغیر مر گیا تو شاید مسجد والے اس کی فوتگی کا اعلان کرنے سے بھی انکار کر دیں کہ اتنے بور اور بوڑھے آدمی کے مر جانے کا اعلان کیا کرنا ہے ،شکر ہے دنیا سے اس کا بوجھ ختم ہوا ۔
کبھی کبھی اس کے پا س سے پولیس کی وین بڑی تیزی سے گزرتی یا ہوٹل کے اندر سے یکدم کوئی شخص باہر نکل کر اسے دیکھتا تو اسے فوراً اپنے خواب کا واقعہ یاد آ جاتا اور وہ کچھ دیر کے لئے ڈر بھی جایا کرتا کہ کہیں اس کا خواب واقعی پورا نہ ہو جائے اور وہ گولیوں کا نشانہ نہ بن جائے۔ لیکن جب ایسا کچھ نہ ہوتا تو اسے افسوس ہوتا کہ کاش ایسا ہو جاتا اور وہ موت سے پہلے قتل ہو جاتا اور یوں خبروں میں جگہ بنا کر اس دارِ فانی سے رخصت ہوتے وقت شہرت کے کندھوں پر سوار ہوتا ۔
کبھی کبھی وہ اخبار میں قتل کی وارداتوں کا حال پڑھتا تو غور کرتا کہ ان واقعات میں اس کے ساتھ خواب میں پیش آنے والے واقعات میں کتنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت سے وہ قیاس کرتا کہ اگر اس کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو جائے تو وہ کتنا مشہور ہو جائے ۔
اس کا jنتظار جاری ہے اور اس کی زندگی کے دن گزرتے جا رہے ہیں اور اسے اپنی بیوی کیے سامنے بغیر مشہور ہوئے جانے میں شرم اور رسوائی کا احساس بڑھتا چلاجا رہا ہے۔ کبھی کبھی وہ اپنی خواہش کی تکمیل کی دعا مانگتا ہے اور کبھی کبھی ڈر بھی جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔لیکن ضروری نہیں کہ انسان کی ہر خواہش کی تکمیل ہوخاص طور پر اس خواہش کی جسے وہ عزیز از جان رکھتا ہو۔۔۔۔۔۔


 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 171123 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
19 Oct, 2020 Views: 377

Comments

آپ کی رائے