”ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ“ سے کیا مراد ہے؟ بچوں کو اگر کامیاب بنانا ہے تو والدین کا اس بارے میں جاننا نہایت ہی ضروری ہے!

 
فرح کی عادت ہے کہ جب ان کے بیٹے کو اسکول میں کوئی بُرا بھلا کہتا ہے تو وہ فوراً اگلے دن اسکول پہنچ جاتی ہیں اور اس لڑکے کے والدین کو بلواتی ہیں۔ اسی طرح فرح کو اپنے بچے کی کامیابی کا بڑا خیال رہتا ہے، اگر ان کے بیٹے کو اسکول کی جانب سے ہوم ورک کرنے کیلئے کوئی مضمون لکھنے کیلئے دیا جائے تو وہ اس کا مضمون خود ہی لکھوا دیتی ہیں تاکہ اسے پورے نمبرز ملیں ۔ وہ اپنے بچے کا حد سے زیادہ خیال رکھتی ہیں، اس کے اردگرد ایسے منڈلاتی ہیں جیسے ہیلی کاپٹر۔۔ وہ اس کی سرگرمیوں پر ناصرف نظر رکھتی ہیں بلکہ اس کی سرگرمیوں پر اپنا مکمل کنٹرول رکھتی ہیں، بس جو وہ کہتی ہیں ، ان کے بیٹے کو وہی کرنا ہوتا ہے، ان کا بیٹا کی نگاہ سے بچ کر کوئی کام نہیں کرسکتا ۔
 
ہماری ویب کی جانب سے پیش کردہ اس مضمون میں والدین کو ”ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ“ کے بارے میں بتایا جا رہاہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا رہاہے کہ اس انداز کی تربیت بچو ں پر کس طرح منفی انداز میں متاثر کرسکتی ہے ۔
 
ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کیا ہے؟
”ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ“ کی اصطلاح سب سے پہلے ڈاکٹر ہائم جینوٹ کی جانب سے 1969میں استعمال کی گئی ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ”والدین کا اپنے بچوں کی ہر سرگرمی پرہر وقت مکمل نظر رکھنا اور ان کی ہر سرگرمی کو خود ہی کنٹرول کرنا اور ان کے ہر کام کو اپنی مرضی کے مطابق کروانا ۔“ دوسرے الفاظ میں بچوں کی زندگی کو مکمل اپنے کنٹرول میں رکھنے کو ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کا نام دیا گیا ۔ اس اصطلاح کو بعد میں ”بل ڈوزر پیرنٹنگ“ اور ”لان موور پیرنٹنگ“ کے نام سے بھی جانا جانے لگا ۔
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل اکثر والدین ”ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ“ کررہے ہیں ۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کو ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اس پر مکمل نظر رکھیں تاکہ وہ کامیاب ہوسکے ۔ جب بھی ان کے بچے کی حفاظت کی بات ہے، وہ حد سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ وہ بچوں پر اس حد تک نظر رکھتے ہیں کہ ان کی آزادی تک سلب کرلیتے ہیں، بچے اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرسکتے ، ناہی وہ اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں، ناہی وہ کوئی کام کرکے، اس میں ناکام ہو کر سبق سیکھ سکتے ہیں ۔ اپنی ناکامی سے سبق سیکھنا ان کے بچوں کو اسلئے نہیں آتا کیونکہ ان کے والدین انہیں کوئی کام اُن کی مرضی سے کرنے ہی نہیں دیتے ۔
 
 
وہ انداز جو بتاتے ہیں کہ والدین ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کررہے ہیں:
ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کے مختلف انداز مندرجہ ذیل ہیں ، والدین ان انداز کو مدنظر رکھیں اور پھر اس انداز میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں ۔
 
سائے کا طرح بچوں کا پیچھا کرنا:
ایسے والدین ہر وقت بچوں کے پیچھے سائے کی طرح لگے ہوتے ہیں ، وہ کہاں آرہا ہے ، جا رہا ہے ،سب پر نظر رکھتے ہیں۔ جب بچوں سے کوئی سوال کرتا ہے تو بچے کے بجائے آپ (والدین) خود اس سوال کا جواب دے دیتے ہیں اور بچے سے پوچھے گئے سوال کا جواب بچہ خود ہی نہیں دے سکتا ۔
 
بچے کے سارے مسئلے اور کام خود کرنا:
اگر آپ بھی اپنے بچے کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے ۔ یا آپ بھی اس کو درپیش کسی چیلنج یا مسئلے کو خود ہی حل کردیتے ہیں اور اس مسئلے سے بچے کو خود نمٹنے نہیں دیتے تو جان لیں کہ آپ بھی ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کررہے ہیں ۔ اگر آپ کے بچے کو اسکول میں کسی بچے نے دھکا دے دیا تو اگلے دن آپ اسکول پہنچ جاتے ہیں اور اس بچے کی شکایت کرتے ہیں ۔ بجائے اپنے بچے کو یہ سکھانے کے کہ اس طرح کے حالات میں کیا کرنا چاہئے اور اس طرح کے مسائل سے کیسے نمٹنا چاہئے ۔
 
 
بچوں کو ناکام نہ ہونے دینا:
آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ہر میدان میں کامیاب ہو، اسے ناکامی کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑے ۔ اس سلسلے میں آپ اپنے بچے کا ہر کام خود کریں تاکہ وہ کامیاب ہوسکے ۔ آپ اسکول کے تمام کاموں میں خود ہی حصہ لیتے ہیں اور بچے کے تمام کام خود کردیتے ہیں ۔ آپ اسکول کی جانب سے ملنے والے مضامین کو خود ہی لکھ دیتے ہیں ۔ بچے کے تمام پروجیکٹس اور اسائنمنٹ خود ہی بناکر دے دیتے ہیں تاکہ آپ کے بچے کو ناکامی یا کم نمبر کا سامنا نہ کرنا پڑے اور آپ کا بچہ اسکول انتظامیہ، ٹیچرز اور دیگر بچوں کے سامنے کامیاب رہے ۔
 
اکیلے کہیں نہ جانے دینا:
اگر آپ کو یہ سن کر ہارٹ اٹیک محسوس ہونے لگے کہ آپ کا بچہ اسکول پکنک پر جا رہا ہے یا اسے کلاس کے ساتھ کسی جگہ گھومنے کی غرض سے جانا ہے ۔ حد سے زیادہ خیال رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو اس طرح اسکول ٹرپ وغیرہ پر اکیلے نہیں جانے دیتے یوں ان کے بچے آزادی سے گھوم پھر نہیں پاتے اور ناہی ان کی زندگی عام بچوں کی طرح ہنستی مسکراتی اور کھیلتی ہوئی گزرتی ہے ۔ ایسے بچے اپنی زندگی کو جیل کے قیدی والی زندگی سمجھنے لگتے ہیں ۔
 
حد سے زیادہ خیال رکھنے والے والدین سکون کا سانس نہیں لیتے ، انہیں لگتا ہے کہ ان کے بچے کو ہر انسان، ہر چیز یا ہر بچے سے خطرہ ہے، اس لئے وہ اپنے بچوں کو ہر لمحہ اپنے پاس رکھتے ہیں ۔
 
 
”ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ“ بچوں کیلئے نقصان دہ کیوں ہے ؟
اگر ایسے والدین سے کبھی پوچھا جائے کہ وہ ”ہیلی کاپٹر“ پیرنٹنگ کیوں کررہے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کوئی نقصان یا ناکامی کا سامنا نہیں کروانا چاہتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ ہمیشہ محفوظ، خوش اور کامیاب رہے ۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس انداز کی تربیت سے ان کا بچہ اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور زندگی میں فیصلہ کرنے یا کامیابی کے زینے کبھی خود نہیں چڑھ سکتا ۔
 
تحقیق کے مطابق جن بچوں کے والدین ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کرتے ہیں، ان کے بچوں کو ڈپریشن زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ انہیں کوئی بھی کام یا کسی بھی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں پیدا ہو پاتی کیونکہ ان کے سارے کام ان کے والدین نے ہی کئے ہوتے ہیں ، اس لئے وہ اکیلے فیصلہ لینے یا کوئی کام کرنے کے بارے میں سیکھ ہی نہیں پاتے ۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن اور خوش نہیں رہتے ۔ انہوں نے ناکامی سے کبھی سبق نہیں سیکھا ہوتا ۔ انہیں آگے جاکر یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے والدین ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے جبھی وہ زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکے ، یوں کا ان میں احساس کمتری اور خود پر اعتماد کی کمی ہونے لگتی ہے ۔
 
والدین ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کو کیسے چھوڑیں؟
وہ والدین جو اپنے بچوں پر اب تک ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کرتے آئے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ اب اسے چھوڑدیں ۔
 
 
انہیں اپنی مرضی سے وقت گزارنے دیں:
بچوں کے کام کرنے کا شیڈول بنائیں ، انہیں آزادی دیں کہ وہ اپنے کام خود ہی کرسکیں ، اس کی ابتدا گھر سے کریں ۔ انہیں کچھ ٹائم اکیلے رہنے ، کھیلنے کودنے اور اپنی مرضی سے سرگرمیوں میں گزارنے کیلئے دیں ۔ تاکہ ان کا اعتماد بحال ہوسکے۔ اپنے بچوں پر اعتماد کریں اور ان کے اپنے تمام کام خود اکیلے کرنے دیں ۔
 
ناکام ہونے دیں:
انہیں کسی بھی کام کو کرنے میں ناکام ہونے دیں ۔ تاکہ وہ اگلی مرتبہ کامیاب ہوسکیں یا کامیابی حاصل کرنے کے طریقے خود ہی سیکھنے دیں ۔
 
بچوں کو رسک لینے دیں:
انہیں زندگی میں رسک لینے دیں ، انہیں اکیلے اسکول اور ٹرپ وغیرہ میں جانے دیں اور گھبرائیں مت ۔ تاکہ انہیں خود پر اعتماد ہوسکے اور مشکل حالت سے نمٹنے کا حوصلہ ان میں پروان چڑھ سکے ۔ تاہم اس دوران بچوں کو یہ باور کروادیں کہ اگر کبھی انہیں والدین کی ضرورت ہو تو وہ مدد کیلئے موجود ہوں گے ۔
 
اعتماد کی بحالی کیلئے نفسیاتی ڈاکٹر سے رابطہ:
ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کے نتیجے میں اگر بچے میں اعتماد کی کمی ہوگئی ہے تو پھر فیملی سائیکولوجسٹ (نفسیاتی ڈاکٹر) سے رابطہ کریں اور ابتدا میں ہی بچے کا یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
25 Oct, 2020 Views: 1926

Comments

آپ کی رائے