کیا لکھوں ؟

(Dr B.A Khurram, Karachi)

گزشتہ روز میں اپنے ہاتھ میں قلم تھا مے سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچ رہا تھا کہ میں اب کیا لکھوں چونکہ میرے وطن عزیز میں سچ لکھنا سچ بو لنا مظلوم کی مدد کر نا ضمیر فروشوں کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر نا کم ظرف بااثر افراد سے اُلجھنا شر پسند عناصر کو آ ئینہ دکھا نا ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے اور تو اور میرے وطن عزیز کی بے حس عوام کی اگر کوئی اہل قلم طرف داری کر بھی لے تو یہی بے حس عوام بُرا وقت آ نے پر اُس اہل قلم کے ساتھ طو طے کی طرح آ نکھیں بد ل لیتی ہے تو کیا کسی نے خوب کہا ہے کہ جیسی روحیں ویسے خداوند کریم نے ہم پر فرشتے نازل کیے ہیں تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ایک بادشاہ اپنی عوام کی بے حسی کو دیکھ کر پریشانی کے عالم میں اپنے وزیر خاص سے کہنے لگا کہ مجھے کوئی ترکیب سمجھاؤ کہ میری بے حس عوام کی غیرت جاگ اُٹھے یہ سننے کے بعد وزیر خاص نے بادشاہ سلامت کو کہا کہ آپ بے روز گاری اور مہنگائی میں اس قدر اضافہ کر دیں کہ جس کو دیکھ کر تڑپ جائے یہ بے حس عوام قصہ مختصر اس ترکیب کے ازمانے کے باوجود عوام بے حسی کا شکار رہی جس کو دیکھ کر بادشاہ نے دوبارہ اپنے وزیر خاص کو بلا کر کہا کہ آپ کی تر کیب تو بیکار ہو گئی لہذا تم مجھے ایسی تر کیب بتاؤ کہ جس کی وجہ سے میری بے حس عوام تڑپ کر میرے در بار میں فر یاد کر نے آئے یہ سن کر وزیر خاص نے بادشاہ سلامت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ شہر سے باہر جانے والی نہر کے کنارے ایک چوکی تعمیر کروا کر چند ایک سپاہیوں کو تعنیات کریں جو ہر آ نے جانے والے شخص سے نہ صرف جگا ٹیکس وصول کریں بلکہ اُس کی چھترول بھی کر دیں اس سلسلہ کو جاری ہوئے کچھ ہی عرصہ کے بعد چند ایک اشخاص بادشاہ سلامت کے در بار میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ بادشاہ سلا مت آپ سے ہماری یہی گزارش ہے کہ آپ نے جو چوکی پر چند ایک سپاہیوں کو تعنیات کیا ہوا ہے اس میں اضافہ کر دیں تاکہ وہ جلد از جلد ہم سے جگا ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری چھترول کر دیا کریں تاکہ ہم جلد از جلد وہاں سے روانہ ہو جائیں بالکل یہی کیفیت ہمارے وطن عزیز کی عوام کی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کرونا وائرس جیسے موذی مرض کے دوران کوئی سیاست دان یا پھر کوئی مذہبی رہنما یا پھر کوئی پیرو مر شد اس بے حس عوام کی خیریت در یا فت کر نے نہیں آ یا مذکورہ شخصیات کے اس ظالمانہ رویے کے باوجود ہمارے وطن عزیز کی بے حس عوام مختلف علاقوں سے دور دراز کا سفر طے کر کے مذکورہ شخصیات کی مدد کر نے کیلئے گو جرانوالہ پہنچ گئی تھی بہرحال چھوڑو اس بات کو اب میں کیا لکھوں اپنے وطن عزیز کی بیوروکریٹس کے بارے میں لکھوں جو اس قدر طاقتور ہو گئی ہے کہ وہ حکومت کا تختہ اُلٹ سکتی ہے اور ویسے بھی جو قرآن پاک پڑھ کر نہیں سدھری وہ میری تحریروں سے کب سدھرے گی تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ایک بزرگ شخص دس سال کے بعد عدالت سے بری ہوا تو اُس نے جج کو دعا دیتے ہوئے کہا کہ اﷲ پاک تجھے تھا نیدار بنا دے یہ سن کر مذکورہ عدالت کے جج نے اُس بزرگ سے کہا کہ آپ مجھے دعا دے رہے ہیں یا پھر بد دعا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ تھا نیدار سے بڑا جج ہوتا ہے یہ سن کر بزرگ شخص نے جج کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جج سے بڑا تھا نیدار ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب مجھ پر مقدمہ درج ہوا تو تھا نیدار نے مجھ سے کہا کہ اگر تم مجھے پانچ ہزار روپے ابھی دے دو تو میں تمھارا مقدمہ ابھی ختم کر دیتا ہوں لیکن آ پ نے وہی مقدمہ دس سال گزرنے کے بعد اب ختم کیا ہے لہذا اب تم مجھے بتاؤ کہ آپ بڑے ہیں یا پھر تھا نیدار میں اسی سوچ میں مبتلا تھا کہ اب میں کیا لکھوں کہ میرے وطن عزیز میں صحافت جیسے مقدس پیشہ سے وابستہ افراد جو اپنے فرائض و منصبی کو عبادت سمجھتے ہوئے مفاد پرست سیاست دانوں لا قانو نیت کا ننگا رقص کرنے والے قانون شکن عناصر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر جام شہادت نوش فر ما چکے ہیں جبکہ متعدد افراد جن میں ریاض جا وید نوید سدھانہ عمران خان بلوچ ملک وحید اخلاق قریشی آ غا اقبال سید ذیشان جاوید اعوان چو ہدری وحید اسلم گادھی ماصل خان سید مبشر نقوی آ صف چو ہان وغیرہ سر فہرست ہیں جن کا تعلق ضلع جھنگ پسماندہ علاقے سے ہونے کے باوجود مذکورہ افراد آج کے اس پر آ شوب معاشرے میں جس میں ہر شخص نفسا نفسی کا شکار ہو کر حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھا ہے میں ایک قطب ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی چمک سے صحافت جیسا مقدس پیشہ جگمگا رہا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس مقدس پیشہ سے وابستہ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو اپنی گھناؤ نی سوچ خوشامدی لب و لہجہ کے ساتھ ساتھ ضمیر فروشی کی تمام حدیں پار کر کے مفاد پرست سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے قصیدے پڑھ کر اپنا ذاتی مفاد حاصل کر کے اس مقدس پیشے کے نام پر ایک بد نما داغ بن کر رہ گئے ہیں یہی کافی نہیں یہ وہ ناسور ہیں جو صحافیوں کے اتحاد میں انتشار پھیلانا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں در حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ سانپ ہیں کہ جہنیں خواہ تم جتنا دودھ پلا لو یہ تمھیں ڈسنے سے باز نہیں آ ئے گئے ان کے اس گھناؤ نے اقدام کی وجہ سے خداوند کریم نے ان کے چہرے اور بدن پر عذاب نازل کر دیا ہے جس کا اثر ان کے بچوں پر پڑ رہا ہے یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مذکورہ افراد کے کالے کرتوتوں اور خدوخال کی عکاسی جھنگ کے ایک نڈر بے باک صحافی نے اس قدر کی کہ جیسے مالی اپنے گلدستے کو سجانے کیلئے مختلف خوبصورت پھولوں کا انتخاب کرتا ہے تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک شخص نے طو طا رکھا ہوا تھا جو کم ظرف خوشامدی اور ضمیر فروش شخص کو دیکھ کر حرامی کہنا شروع کر دیتا تھا جس پر ایک شخص نے طو طے کے مالک کو کہا کہ تم اپنے طو طے کو اپنی زبان میں سمجھا دو ورنہ میں اسے گولی مار دوں گا چونکہ یہ مجھے دیکھتے ہی حرامی حرامی کہنا شروع کر دیتا ہے یہ سن کر طو طے کے مالک نے طو طے سے کہا کہ تم اسے حرامی نہ کہا کرو اس بات کے کچھ دنوں بعد وہ شخص جب وہاں سے گزرا تو طو طے نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا جس پر اُس شخص نے طوطے کی طرف دیکھا تو طوطے نے کہا کہ تو سمجھ تو گیا ہے نا۔۔۔منافقوں کی بستی میں اپنے ڈیرے ہیں ۔۔۔وہی جو تیرے منہ پر تیرے اور میرے منہ پر میرے ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 535 Articles with 209241 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2020 Views: 133

Comments

آپ کی رائے