انڈے کے چھلکے سے کیلشیم پاؤڈر بنالیں ۔۔ جانئے اُن 6 چھلکوں اور پتوں کو استعمال کرنے کا طریقہ، جنہیں آپ بےکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں

 
ہمارے یہاں کئی چیزوں ، سبزیوں اور پھلوں کے کارآمد چھلکوں اور پتوں کو پھینک دیا جاتا ہے اور انہیں استعمال میں نہیں لایا جاتا، جبکہ ان میں بہت سے وٹامنز وغیرہ پائے جاتے ہیں ۔ ہماری ویب کے اس مضمون میں ہم آپ کو ان 6 چھلکوں اور پتوں کو استعمال کرنے کا طریقہ بتا رہے ہیں جو صحت کیلئے بہت مفید ثابت ہوں گے ۔
 
انڈے کا چھلکا اور کیلشیم پاؤڈر:
روزانہ باقاعدگی سے کئی گھروں میں ناشتے کے وقت انڈہ ابالا اور تلا جاتا ہے ۔ انڈے کے چھلکوں کو بھی ڈسٹ بن میں فوراً پھینک دیا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کو بتا دیں کہ ان کے چھلکوں میں کیلشیم کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔اگر کسی میں کیلشیم کی کمی ہے تو یہ ان کیلئے بہت ہی کارآمد ہے۔ اسے استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پیس کر ”کیلشیم پاؤڈر“ بنا لیا جائے ۔ اس کیلئے انڈوں کے چھلکوں کو اچھی طرح دھولیں ۔ خشک ہوجائیں تو انہیں گرائنڈر میں ڈال کر پیس لیں ۔ پھر کسی بوتل میں بھر کر رکھ لیں ۔ اب جب بھی کوئی اسموتھی یا جوس بنائیں ، اس میں تھوڑا سا یہ پاؤڈر ملائیں اور کیلشیم کی کمی کو دور کریں ۔ تاہم یہ بھی یاد رکھیں کہ کیلشیم کی کمی جب دور ہوجائے تو اس کا لیول چیک کرواتے رہیں تاکہ اس کی زیادتی نہ نقصان نہ دے ۔
 
تربوز کا چھلکا:
تربوز کا چھلکا بھی لوگ پھینک دیتے ہیں، اس مرتبہ جب گرمیاں آئیں تو اسے ہرگز نہ پھینکیں ۔ کئی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ تربوز کا چھلکا ذائقے میں کھیرے جیسا لگتا ہے ۔ ہمارے یہاں کئی گھروں میں تربوز کے چھلکے سے سبزی پکائی جاتی ہے ، جس کی ترکیب آپ کو گوگل سرچ کرنے پر آسانی سے مل جائے گی ۔ ساتھ ہی اسے مکس سبزی کا اچار بنانے کے دوران بھی کاٹ کر ڈالا جاسکتا ہے ۔ کئی ڈاکٹرز واٹر میلون ایکسٹراکٹ سپلی منٹس مریضوں کو دیتے ہیں تاکہ ان کا بلڈ پریشر ٹھیک رہے ، اس سے پتا چلتا ہے کہ تربوز کے چھلکے میں پایا جانے والا سٹررولائن (citrulline) ناصرف بی پی کو کنٹرول رکھتا ہے بلکہ ورک آؤٹ اور جم جانے والوں کے مسلز بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے سلاد یا سبزی کی صورت میں اپنی ڈائٹ میں شامل رکھنا چاہئے ۔
 
گوبھی کے پتے:
گوبھی پکاتے وقت اس کے پتوں کو الگ کردیا جاتا ہے ۔ جبکہ اس کے پتوں کو بھی سبزی کے طور پر پکایا اور کھایا جاسکتا ہے ۔ گوبھی کے پتوں میں منرلز، بیٹا کیروٹین، آئرن اور کیلشیم موجود ہوتا ہے ۔ یہ ذائقے میں بھی اچھے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں سردیوں کے دوران سبزیوں کا سوپ بنانے میں شامل کیا جاسکتا ہے اور اس سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔
 
گاجر کا چھلکا/اسکن:
سردیوں کی آمد آمد ہے ، اس موسم میں پاکستان میں بہترین گاجر باآسانی دستیاب ہوتی ہے ۔ اس موسم میں گاجر کا حلوہ یا سبزی پکانے کیلئے اگر گاجر کو استعمال کیا جائے تو اس کا چھلکا عموماً چھیل لیا جاتا ہے اور اسے پھینک دیا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کے چھلکے میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔ اسے سبزی پکاتے وقت چھلکے سمیت پکائیں ۔ اس کے علاوہ پاستہ بنانے کے لیے سبزیاں استعمال کریں تو اس کیلئے بھی گاجر کو چھلکے سمیت استعمال کریں تاکہ وٹامن سی حاصل کرسکیں ۔
 
اسٹرابیری کے پتے:
اسٹرابیریز گھروں میں شوق سے کھائی جاتی ہے ، تاہم ڈبے میں موجود اسٹرابیری کے ساتھ اس کے پتے بھی ہوتے ہیں، جنہیں ہٹا کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ جبکہ ان پتوں میں اینٹی اوکسیڈنٹس کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی اس میں اینٹی نفلیمینٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں ، اس کے علاوہ اس میں کارڈیو پروٹیکٹواور نیورو پروٹیکٹو اجزا پائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا کوشش کریں کہ ان تمام خصوصیات سے فائدہ اٹھائیں اور آئندہ جب بھی کوئی اسموتھی یا جوس بنائیں تو اس میں اسٹرابیری کو پتوں سمیت شامل کریں ۔
 
کیلے کے چھلکے:
سب سے آسانی سے ہر موسم میں دستیاب کیلے کے چھلکوں کی کوئی قدر نہیں کی جاتی اور انہیں فوراً ڈسٹ بن میں پھینک دیا جاتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اس میں پوٹاشیم، میگنیشم اور کیلشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔ اس لئے کوشش کریں کہ اسے نہ پھینکیں اور اسے استعمال میں لانے کی کوشش کریں۔ کیلے کے چھلکے جلد کو صاف شفاف بنانے اور اس پر سے جھریاں ختم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں ، ساتھ ہی یہ دانوں کے نشانات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ لہٰذا چھلکوں کوچہرے پر پھیریں اور اسے 15منٹ لگائے رکھیں اور پھر چہرہ دھولیں ۔ اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو چہرے کے ان تمام مسائل سے آہستہ آہستہ چھٹکارا مل جائے گا ۔
 
دیگر متفرق معلوماتی مضامین کے لئے وزٹ کیجئے ہماری ویب کے متفرق مضامین سیکشن میں۰
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
26 Oct, 2020 Views: 3782

Comments

آپ کی رائے