بے اصولی

(Tanvir Sadiq, Lahore)

مجھے تھوڑی سی دیوار مرمت کروانا تھی۔ دیوار مرمت کے لئے سیمنٹ، ریت اور اینٹیں درکار تھیں اور ان سے بڑھ کر ایک مستری اور ایک مزدور کی بھی ضرورت تھی۔ میرے محلے میں ایک بلڈنگ سٹور ہے جس کا مالک نوجوان میرا جاننے والا ہے۔میں نے اسے فون کیا کہ بھائی آپ کوئی مستری اور مزدور مہیا کر سکتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ صبح کو بہت سے ایسے لوگ آتے ہیں کسی کو بھیج دوں گا۔ میں نے کہا کہ ایک اور کام کرو جب انہیں بھیجو تو ساتھ ہی اتنا سیمنٹ، اتنی ریت اور اتنی اینٹیں بھی بھیج دینا۔شام کو ملازم نے کہا کہ بلڈنگ میٹیریل والے نے کچھ سامان بھیجا ہے اور یہ اس سامان کا بل ہے۔ میں نے بل دے دیا کہ مستری اور مزدور کا انتظام ہو گیا ہو گا ،صبح انہوں نے کام شروع کرنا ہو گا۔ سامان گھر کے باہر دیوار کے ساتھ پڑا تھا۔ دو دن کوئی مستری اور کوئی مزدور نہیں آئے۔ میں چوبیس گھنٹے چوکیداری نہیں کر سکتا۔ محلے میں جسے جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی،وہ اٹھا کر لے جاتا رہا۔ ایک دوہمسائے ایسے بھی آئے کہ جنہیں انکار کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا کہ بس گھر میں ذرہ سی مرمت ہے اتنا معمولی سامان منگوانا بھی مشکل ہے ، سوچا آپ نے منگوایا تو یہ بھی اپنا ہی ہے۔ پندرہ بیس اینٹیں ، تھوڑی سی ریت اور کچھ سیمنٹ دے دیں ۔انہوں نے میرے جواب کا انتظار بھی گوارا نہ کیا اور سامان اٹھا کر یہ جا وہ جا۔ میں پھٹی ہوئی سیمنٹ کی بوری اور کم ہوتی اینٹوں کو دیکھتا رہ گیا۔

دو دن انتظار کے بعد میں نے اپنے سامان کی دم توڑتی صورت حال دیکھ کر اس نوجوان کو پھر فون کیا کہ بھائی میں نے کہا تھا کہ سامان مستری اور مزدور کے ساتھ بھیجنا مگر تم نے سامان بھیج دیا ہے ۔بڑی رونے والی آواز میں اس نے جواب دیا کہ جناب میرا ایک انتہائی قریبی عزیز فوت ہو گیا ہے۔ اس دن جب آپ نے فون کیا میں جنازے پر بیٹھا تھا۔ آپ کو انکار نہیں کر سکتا تھا اس لئے جو خدمت کر سکتا تھا وہ کر دی۔ دو چار دن انتظار کریں ،مستری اور مزدور کا انتظام بھی ہو جائے گا۔اس کے اتنے بڑے احسان کا میں نے بھرپور شکریہ ادا کیا اور اگلی صبح اڈے سے جا کر مستری اور مزدور لے آیا۔اس وقت تک آدھا سامان غائب ہو چکا تھا۔ وہ سامان چوری نہیں ہوا۔ محلے کا کلچر ایسا ہے کہ جو چیز محلے میں آ جائے سبھی اسے اپنی جانتے ہیں اور دلیری سے اٹھاتے ہیں۔میں ایسی صورت میں کسے روک پاتا۔سوچتا ہوں کہ وہ نوجوان کس قدر خود غرض ہے ، جنازے پر بیٹھا ہے ۔ مجھے کہہ دے کہ ایک دو دن میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا مگر اس نے وہیں بیٹھے اپنا سامان بیچ کر اس کی قیمت وصول کر لی باقی سب بھاڑ میں جائے اسے کسی کے نقصان کی کیا پرواہ۔

گھر کے ایک کمرے کے فرش کے لئے میں نے ایک بڑی دکان سے ٹائلیں خریدیں۔ ٹائلوں کا بل بمعہ بار برداری موقع پر ادا کر دیا۔ دکان والوں نے وعدہ کیا کہ تمام ٹائلیں شام تک یا صبح بارہ بجے سے پہلے پہنچ جائیں گی۔اگلے دن شام کے چار بجے ایک ویگن وہ ٹائلیں لے کر آ گئی۔ اس نے ڈبے اتارے اور مجھے رسید لکھ دینے کا کہا۔ رسید دینے سے پہلے میں نے ڈبے گنے تو چوبیس کی بجائے انیس تھے۔ میں نے رسید دینے سے انکار کیا اور کہا کہ رسید لینے سے پہلے پانچ ڈبے لاؤ۔ہنس کر کہنے لگا، آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں، باقی ڈبے پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ کل آپ کو مل جائیں گے۔ اس کی بات سننے کے باوجودمیں نے رسید دینے سے انکار کیا تو الٹا مجھ سے ناراض ہونے لگا کہ ہم کروڑوں کا کاروبار کرتے ہیں آپ پانچ ڈبوں کا اعتبار نہیں کرتے۔ تھوڑی دیر کی بحث کے بعد وہ چلا گیا۔ میرا کام بیس دن رکا رہا۔ تب مجھے وہ پانچ ڈبے ملے اور میرا کام مکمل ہوا۔ اس اونچی دکان جس کا پکوان انتہائی پھیکا ثابت ہوا، کی وجہ سے مجھے جو پریشانی ہوئی اس کا اندازہ شاید اس دکاندار کو نہ ہو۔ایسے معاملات کے حل کے لئے حکومت نے کنزیومر کورٹس تشکیل دئیے تھے۔ شروع شروع میں یہ کورٹس بہت فعال تھے۔ مگر اب وکیلوں کے زیادہ عمل دخل سے ان کورٹس کا حال سول کورٹس سے بھی بد تر ہو گیا ہے۔ حکومت نے بھی ان کورٹس کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا جب کہ کیسز کی تعداد بڑھ کر بے انتہا ہو گئی ہے۔

یہ تو دکانداروں کی بات تھی جو کم پڑھے لکھے تصور ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کا حال اس سے بھی برا ہے۔میں ایک جامعہ کے ایک شعبے کے ہیڈ کے پاس بیٹھاتھا ۔ ایک پروفیسر صاحب تشریف لائے کہ ان کی بیگم بیمار ہیں۔ گھر میں چونکہ وہ دونوں میاں بیوی اور بچے ہی ہیں اس لئے بیمار بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کے لئے انہیں لازمی ایک ماہ کی چھٹی درکار ہے۔صدر شعبہ نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ ہفتے میں دو دن صرف پیریڈ کے وقت آ جایا کرو کیونکہ تمہارے نہ آنے سے بچوں کا بہت نقصان ہوگا۔ بڑے عجیب انداز میں انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کے بچوں کو دیکھوں یا بیمار بیوی کو۔ مجھے تو ہر صورت پورے ایک ماہ کی چھٹی درکار ہے۔تھوڑی سی بحث کے بعد صدر شعبہ نے ہتھیار ڈال دئیے اور کہنے لگے کوئی متبادل ٹیچر نہیں چلو میں خود کلاس لے لوں گا۔ چھٹی کی درخواست پر دستخط کرتے انہیں کچھ خیال آیا ۔ کہنے لگے تم نے زبردستی مجھ سے دوسرے تین مختلف شعبوں میں ایک ایک کورس بطور جز وقتی استاد لے لیا ہے۔ ان تینوں شعبوں میں بھی طلبا کا حرج ہو گا اور مجھے شرمندگی بھی۔نوجوان کہنے لگا کہ ان شعبوں کی آپ فکر نہ کریں میں کسی نہ کسی طرح وہ پیریڈ لے لوں گا۔دستخط کرتے کرتے صدر شعبہ رک گئے اور نوجوان کو کہنے لگے ، یہاں تم ایک کورس لیتے ہو ہفتے کے دو پیریڈ۔ وہ تم لو گے تو تمہاری بیوی مشکل میں ہو گی اور وہ تین کورس کل چھ پیریڈ تم لو گے تو گھر میں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ پیریڈ تم نہ بھی لو تو تنخواہ مل جائے گی اور وہ تین کورس جو تم جز وقتی پڑھا رہے ہو اس لئے پڑھاؤ گے کہ پڑھاؤ گے تو ادائیگی ہو گی۔ تمہیں یہ احساس نہیں کہ اپنے شعبے میں نہ پڑھانے سے تمہاری تنخواہ حرام کہلائے گی۔ تم چھٹی لو گے تو چاروں کورس نہیں پڑھاؤ گے وگرنہ کوئی چھٹی نہیں۔ نوجوان اٹھا اور پیر پٹختا باہر جاتے کہنے لگا، آپ کی ایسی بے اصولیوں کے سبب سارا ڈیپاٹمنٹ آپ کو اچھا نہیں سمجھتا۔ میں مسکرا رہا تھا۔ کس قدر خوبصورت بے اصولی ہے۔ میں نے صدر شعبہ کو سلیوٹ کیا اور چلا آیا۔ظلم یہ ہے کہ اب یونیورسٹیوں میں لوگ پڑھاتے کم اور سیاست زیادہ کرتے ہیں۔ وہ ہر وقت گریڈوں کے چکر میں ہوتے ہیں۔ انہیں حرام حلال اور جائز ناجائز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔انہیں معیاری تعلیم سے بھی کوئی سروکار نہیں ۔ بچے تباہ ہو رہے ہیں تو پوری قوم کا چلن ہی ایسا ہے،ہوتے رہیں۔

ایسی ہی چھوٹی چھوٹی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جن سے کسی بھی قوم کے مجموعی مذہبی، سماجی اور اخلاقی معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ معاشرہ ،خاندان اور ریاست لوگوں کو اخلاق اور قانون کی پاسداری پر مجبور کرتے ہیں اور عام شہری کو کچھ حدود اور قیود میں پابند رکھتے ہیں۔ جس معاشرے میں نفسا نفسی، خود غرضی اور اپنی ذات اول قرار پائے وہ معاشرہ کبھی بھی ایک اچھا اور مثالی معاشرہ قرار نہیں پاتا بلکہ وہ اخلاقی انحطاط کی طرف گامزن ہوتا ہے۔خود غرضی اور ذاتی مفاد انسانی فطرت تھا جب انسان پتھر کے زمانے میں رہتا تھا۔ تہذیب اس میں ایک تبدیلی لائی ہے مگر آج ایسا ہونے کا مطلب ہے کہ ہم پتھر کے دور میں واپس جا رہے ہیں۔ معاشرے میں قانون کی پاسداری عملاًختم ہوگئی ہے ۔لوگ مادر پدر آزاد ہوتے جا رہے ہیں۔ لا قانونیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ آپ اپنے دائیں بائیں نظر ڈالیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حکمران توفقط خواب بیچتے ہیں۔ اپنی نا اہلیوں کو چھپانے کے لئے شوروغل کا سہارہ لیتے ہیں۔ ایسے بگرٹے ہوئے معاشرے میں یا تو انقلاب آتا ہے یا پھر اس معاشرے کی تباہی اس کی راہ دیکھ رہی ہوتی ہے۔دونوں میں سے ایک چیز بڑی فطری ہوتی ہے اس میں دیر تو ہو سکتی ہے مگر یہ منطقی انجام رک نہیں سکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 433 Articles with 209075 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
28 Oct, 2020 Views: 200

Comments

آپ کی رائے