آنکھ کے کانٹے

 پرانے زمانے کے بچوں کی کہانیوں میں ایک بڑھیا کا ذکر ملتا ہے جو ایک گنجان جنگل میں رہا کرتی تھی۔ایک بار اس نے اپنے جھونپڑے کے سامنے ایک معصوم سے ہرن کو کانٹے دار جھاڑیوں کے بیچ کراہتے ہوئے پایا جس کے جسم میں کانٹے چبھ چکے تھے۔ رحم دل بڑھیا نے الجھی جھاڑیوں کو ہٹا کر اس کے جسم سے ایک ایک کر کے سارے کانٹے نکال ڈالے مگر بیچاری بڑھیا ہرن کی آنکھ میں چبھے کانٹے نکالنا بھول گئی۔ہرن کانٹوں سے آزاد ہوکر گنجان جنگل میں غائب ہو گیا۔

کچھ ہی دن بعد بڑھیا نے دوبارہ ہرن کی سسکیوں کی آواز سنی جب جھونپڑے سے باہر نکل کر دیکھا تو وہی ہرن ،وہی کانٹے ،وہی بیبسی کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحم دل بڑھیا نے اس بار بھی ویسا ہی کیا سارے جسم کے کانٹے نکال کر آنکھ میں چبھے کانٹے نہ نکال سکی اور وہ بدنصیب ہرن پھر اپنی آنکھ میں چبھے کانٹے لیے جنگل میں غائب ہو گیا۔۔۔۔

آج ہماری بدنصیب قوم بھی اس بدنصیب ہرن کی طرح کچھ ایسی ہی مشکل میں گھری ہوئی ہے۔مسائل اور پریشانیوں کی جھاڑیوں میں الجھی ، درد سے کراہتی ، لہولہان جسم لیے بیبسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
غربت ، بیروزگاری ، جہالت کی روز بروز بڑھتی شرح ، دن دیہاڑے ڈاکے لوٹ مار ، مہنگائی کا طوفان ، بنت حوا کی بی حرمتی ، بھوک و افلاس اور قتل و غارت نے اس کے جسم کو ادھ موا کر رکھا ہے۔

بڑے ہی مبارک ہیں وہ ہاتھ جو ان مسائل کی گتھیوں کو سلجھانے کیلئے اٹھتے ہیں ، بڑی ہی خوش خبر ہیں وہ صدائیں جو ان مسائل کو حل کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں مگر دردناک المیہ یہ ہے کہ ان مسائل کے حل ہو جانے کے بعد اگر اس قوم کے ہر فرد کا ضمیر نہ جاگا اور ان کے دلوں میں یہ احساس بیدار نہ ہوا کہ ایک طاقت ہے جو ہر لمحہ ان پر نگران ہے اور اس کی ایک عدالت لگنی ہے جس میں ہر فرد کی زندگی کے گزرے لمحات اور خرچ کئے اموال کا حساب ہو گا تو مردہ ضمیر اور بے حسی کا یہ عالم اس قوم کو کبھی مسائل کے گرداب سے نہیں نکلنے دے گا۔۔۔ یہی آنکھ میں چبھا وہ کانٹا ہے جس کو نکالنے سے سب غافل ہیں اور اس قوم کے مسائل اگر حل بھی ہو گئے تو آج نہیں تو کل دوبارہ اس کا جسم انہی کانٹوں سے ایک بار پھر لہولہان ہو چکا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔

آج ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو مردہ ضمیر کو جگانے کی صدا بلند کرے ، بیحسی کی تاریکیوں میں احساس کا دیا روشن کرنے کی بات کرے۔۔۔۔۔۔

زندہ ضمیر ایک قاتل کیپتھر دل میں اپنے دشمن سے نفرت کے بجائے ہمدردی کا مادہ پیدا کرے گا پھر اس کا ہاتھ خنجر کی طرف نہیں ، دعا کیلئے اٹھے گا۔۔۔۔۔۔۔

زندہ ضمیر ایک درندہ صفت نوجوان کی خواہشات کو لگام دیگا اور وہ سنسان شاہراہ پر لاچار ماں کو اس کے بچوں کے سامنے اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اس کا پہرہ دے کر اس کا سہارا بنے گا۔۔۔۔۔۔

زندہ ضمیر ایک صاحب ثروت کے دل میں اپنی لامحدود خواہشات پورا کرنے کے اندھے جنون کو غریب کی ضروریات پوری کرنے کے شوق میں بدلے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندہ ضمیر ایک باپ کو بچوں کی شادی میں کروڑوں روپے جھونکنے کے بجائے کء دکھی سسکتی غریب بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے پر مجبور کرے گا۔۔۔۔۔

زندہ ضمیر ایک بے رحم ڈاکٹر ، ایک دھوکے دار تاجر ، ایک رشوت خور ، ایک سود خور کو غریب کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کے بجائے ایک ایسا رحم دل انسان بنائے گا جو انسانیت کا مفہوم جانتا ہو اور ہر ضرورت مند کی ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھے۔۔۔

چند صدیاں پہلے سرزمین عرب کی پتھریلی وادیوں میں ایک قوم کچھ ایسے ہی مسائل کا شکار تھی اور اس قوم کے قائد (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے اپنی قوم کے تمام مسائل سامنے رکھ کر اس کو حل کر نا چاہا تو سب سے پہلا کام قوم کے ہر فرد کا احساس بیدار کیا اور نفس پرستی کے مردہ ضمیر میں خدا پرستی کی روح پھونکی اور پھر وہی قوم جس نے جاہلیت اور درندگی کی بدترین مثال قائم کی ، اخوت و محبت اور ہمدردی و ایثار کی اعلی مثالیں پیش کرنے لگی اور پھر اس بلند کردار احساس مند ، زندہ ضمیر قوم کا ایک بچہ جنگل میں اپنے مالک کی بکریاں چراتا ہوا پایا گیا اور اسے کہا گیا کہ بکری کا دودھ نکال کر بیچ دو تو اس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا اور بے اختیار جھرجھری سی لے کر پکار اٹھا ( فآین اﷲ؟) پھر اﷲ کہاں چلا گیا؟

اور اس زندہ ضمیر قوم کے کسی بھی فرد سے کوئی جرم سرزد ہو تا تو پولیس اس کو پکڑنے کیلئے نہ دوڑتی بلکہ وہ خود اپنے آپ پر سزا لاگو کرانے کیلئے دوڑتا کہ مجھے سزا دی جائے میں مجرم ہوں۔۔۔۔۔۔

بہر حال یہ آئے روز آسمانی آفتوں کے تازیانے وباؤں ، زلزلوں اور سیلاب کی صورت میں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پکار رہے ہیں کہ قدرت کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آ چکی ہے خدارا اپنے مرض کو پہچانیں اور طرز علاج کو بدلیں اور ایک فرد سے لے کر پوری قوم کے ضمیر کو جگایا جائے ، دلوں میں ایمان کی وہ چنگاری جو راکھ میں دب چکی ہے اسے بھڑکایا جائے یہاں تک کہ پوری قوم مفاد پرستی اور خودغرضی کے تنگ و تاریک دائرے سے نکل کر خدا پرستی اور ایثار کی آفاقیت میں کچھ سکھ کا سانس لے سکے۔
 

Hanzlah Abid
About the Author: Hanzlah Abid Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.