انہیں نوکری کی کیا ضرورت٬ باقاعدہ ملازمت کرنے والے شاہی گھرانوں کے 5 افراد

ہم سب جانتے ہیں کہ میگھن مارکل شاہی خاندان کی رکن بننے سے پہلے، ایک اداکارہ تھیں۔ لیکن اس کے علاوہ بھی دنیا بھر کے مختلف شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد ایسے ہیں جنہوں نے ملازمت کی اور پوری دنیا کو اپنا کام دکھایا نہ کہ شاہی لقب- اور یہ وہ شخصیات ہیں جو اپنے پیشہ ورانہ کے ذریعے وقار حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں۔
 
Princess Sofia
سوئیڈن کی شہزادی صوفیہ ایک عمدہ شخصیت کی مالک ہیں- انہوں نے اکاؤٹنگ اور بزنس ڈویلپمنٹ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی- لیکن دوسری جانب ایک مستند یوگا انسٹرکٹر بھی ہیں اور باقاعدہ نیویارک میں اس حوالے سے پیشہ ورانہ امور بھی سرانجام دیتی ہیں- کچھ ہی عرصہ قبل، صوفیہ نے صحت کے شعبے میں ایک رضاکار کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد صوفیہ نے اسٹاک ہوم اسپتال میں مدد کے لئے 3 دن کا ہنگامی آن لائن تربیتی کورس مکمل کیا۔ اب صوفیہ اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی مختلف طبی معاملات میں مدد کرتی ہیں-
 
Prince William
شہزادہ ولیم نے اپنے لیے فوجی کیریئر کے انتخاب کا فیصلہ کیا اور لیفٹیننٹ کے عہدے کے لیے باضابطہ طور پر اپنا کمیشن حاصل کیا۔ لیکن شاہی خاندان کے ایک ممبر کے لئے یہ ایک خطرناک کام تھا اور اسی لئے وہ رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کے ساتھ تربیت حاصل کرتے رہے۔ سال 2014 میں اپنی فضائیہ کی خدمات کے بعد، ولیم نے ایمبولینس پائلٹ کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دینے لگے۔ اس کے لیے انہیں باقاعدہ تنخواہ ادا کی جاتی، لیکن انہوں نے اپنی تنخواہ ایک فلاحی ادارے کو دے دی۔
 
Princess Charlene
موناکو کی شہزادی چارلین ایک پیشہ ور تیراک کے طور پر جانی جاتی ہیں- شہزادی چارلین روڈیسیا (اب زمبابوے) میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے جنوبی افریقہ چیمپین شپ میں 1996 میں تیراکی کے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے سن 2000 میں سڈنی اولمپکس میں بھی جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی تھی، لیکن 7 سال بعد وہ کندھے کی انجری کی وجہ سے مسابقتی تیراکی سے ریٹائر ہوگئی تھیں۔ اب شہزادی پیرا اولمپک ایتھلیٹوں سے ان کی رہنمائی کے حوالے سے ملاقاتیں کرتی ہیں اور سماعت سے محروم بچوں کے بحالی مراکز کا دورہ کرتی ہیں۔
 
Princess Mary
ڈنمارک کی شہزادی میری کے پاس بہترین جین ہے۔ ان کے والد علمی اور ریاضی کے پروفیسر تھے، لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ انہیں بھی وہی صلاحیت ملی۔ 1998 میں، اپنی والدہ کی وفات کے 6 ماہ بعد، انہوں نے اکاؤنٹ منیجر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور امریکہ اور یورپ کا سفر کیا اور 2002 کے پہلے نصف میں میری نے پیرس کے ایک بزنس اسکول میں انگریزی پڑھائی۔ ڈنمارک منتقل ہونے کے بعد وہ بزنس ڈویلپمنٹ، مواصلات اور مارکیٹنگ کمپنی میں بطور پروجیکٹ کنسلٹنٹ ملازم ہوگئیں۔
 
King Willem-Alexander
نیدر لینڈ کے کنگ ولیم الیگزینڈر جب جوان تھے تو انہوں نے رائل نیدرلینڈ نیوی میں فوجی خدمات انجام دیں اور بعد میں لیفٹیننٹ بن گئے۔ لیکن اس کو چھوڑ کر، ان کی ایک اور حقیقی دلچسپی ہے۔ ولیئم الیگزنڈر ایک پائلٹ ہیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر وہ شاہی خاندان سے نہ ہوتے تو وہ ائیر لائن کا پائلٹ بننا پسند کرتے تاکہ وہ بڑے سائز کے ہوائی جہاز پر بین الاقوامی سطح پر اڑا سکیں۔ ان کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ تجارتی ایئر لائن کے لئے بطور مہمان پائلٹ کام کرتے ہیں۔ بادشاہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے جہاز اڑا رہے ہیں لیکن مسافروں نے انہیں شاذ و نادر ہی پہچانا ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
25 Nov, 2020 Views: 2928

Comments

آپ کی رائے