زیتون: پاکستان کے کاشتکار اسے ’خاموش سبز انقلاب‘ کیوں قرار دیتے ہیں؟

 
اسلام آباد میں واقع اٹلی کے سفارتخانے میں کنٹریکٹ کی ملازمت چھوڑ کر خاندانی زمین پر زیتون کے درختوں کی قلم کاری کرنے کا مشورہ قبول کرنا دیر کے رہائشی محمد اسرار کے لیے آسان نہیں تھا۔
 
’والد صاحب نے ہمت افزائی کی اور آج ہماری آبائی زمین پر ایک لاکھ سے زائد زیتون کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 22 ہزار پھل دے رہے ہیں۔ ہمارے خاندان کے 25 لوگ اس میں حصہ دار ہیں اور ہر حصہ دار کو سالانہ کم ازکم دس لاکھ سے بیس لاکھ مل رہے ہیں۔‘
 
محمد اسرار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سنہ 2004 کی بات ہے جب اٹلی کے سفارتخانے میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات اٹلی کے ماہر زراعت رافیل ڈیل سیما سے ہوئی، جو اس وقت پاکستان میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کے مشن پر تھے۔
 
’رافیل نے مجھ سے کہا کہ تمھارے علاقے (ضلع دیر) میں خونہ (جنگلی زیتون) کے لاکھوں درخت ہیں۔ یہ بہت قیمتی دولت ہے۔ ان پر اٹلی سے لائے گے اچھے زیتون کے درختوں سے تیار کردہ قلموں کی قلم کاری کر کے زیتون کی دولت حاصل کی جا سکتی ہے۔‘
 
وہ بتاتے ہیں کہ ان کی اپنی زمین پر بھی خونہ کے کئی ہزار درخت تھے مگر اچھی نوکری چھوڑ کر کُل وقتی بنیادوں پر یہ کام کرنے کا مشورہ قبول کرنا آسان نہ تھا۔ مگر گھر والوں سے مشورے کے بعد وہ راضی ہو گئے۔
 
 
’سنہ 2005 میں ہم نے رافیل ڈیل سیما اور زراعت سے منسلک سرکاری اہلکاروں سے تربیت حاصل کی۔ کئی درختوں پر قلم کاری کی گئی۔ تین ہفتوں کے اندر ہی ان درختوں پر کونپلیں پھوٹ آئیں جبکہ سنہ 2009 میں کئی سو درختوں پر مختلف اقسام کی بہترین قسم کا زیتون کا پھل لدا ہوا تھا۔ مگر ہمیں ابھی بھی پتا نہیں تھا کہ پھل تو آ چکا ہے اور اب اس کا کرنا کیا ہے۔‘
 
محمد اسرار کہتے ہیں کہ ابتدائی مشکلات کے بعد اب وہ ناصرف تیل حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سے دیگر اشیا، جن میں مربہ، اچار، زیتون کے پتوں کا قہوہ وغیرہ شامل ہے، کو بھی تیار کر کے مارکیٹ میں لاتے ہیں۔
 
یہ تو ہوئی دیر کے محمد اسرار کی کہانی۔ اب سنتے ہیں ایبٹ آباد کے رہائشی نصرت جمیل کی داستان۔
 
بیرون ملک رہنے والوں سے عام طور پر ان کے رشتہ دار اور قریبی دوست مہنگی گھڑیاں، موبائل فون یا پرفیوم جیسے کسی قیمتی تحفے کی فرمائش کرتے ہیں مگر نصرت جمیل گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے دوستوں سے بار بار ایک ہی تحفے کی فرمائش کرتے آ رہے ہیں اور وہ ہے عمدہ نسل کے زیتون کے پودے کی قلم کا تحفہ۔
 
ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں اب نصرت جمیل کی آبائی زمین پر کئی اقسام کے زیتون کے درخت اپنی بہاریں دکھا رہے ہیں۔ ٹھنڈا پانی نامی اس چھوٹے سے گاؤں میں زیتون کی بہت سی اقسام کی موجودگی کی وجہ نصرت کے وہ دوست ہیں جو کینیڈا، اٹلی، سپین، ترکی اور دیگر ممالک سے اُن کے لیے زیتون کا تحفہ لانا نہیں بھولتے۔
 
نصرت جمیل زیتون سے اپنی دو دہائیوں سے زائد دوستی کے سفر کے بارے میں کہتے ہیں کہ حویلیاں میں ان کے گاؤں کے ایک دوست نے سنہ 1996 میں انھیں اس پھل سے متعارف کروایا تھا، جب پاکستان میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ نیا نیا شروع ہوا تھا۔
 
 
حکومتوں کے عزم میں تو اونچ نیچ آتی رہی مگر نصرت جمیل تو اس میں ایسے مگن ہوئے کہ جیسے وہ زیتون کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہوں۔ نصرت جمیل کی صبح شام کا معمول اب ان زیتون کے درختوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرنا رہ گیا ہے۔
 
پاکستان میں نصرت جمیل یا محمد اسرار ہی زیتون کی کاشت کرنے والے واحد کاشتکار نہیں ہیں بلکہ اس وقت پاکستان میں سینکڑوں ایسے کسان ہیں جو اپنی گھریلو، معاشی اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیتون کی کاشت کر رہے ہیں۔ زیادہ تر کسان جنگلی زیتون میں 'قلمکاری' سے زیتون کی پیداوار کر رہے ہیں۔
 
پاکستان میں زیتون کی کاشت کا خیال کب اور کیسے آیا؟
ایبٹ آباد میں قائم ہزارہ زرعی تحقیقی سٹیشن کے ڈائریکٹر اختر نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت تقریباً تین دہائی قبل اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان آئل ڈویلپمنٹ بورڈ نے سنہ 1996-97 میں اس پر کام شروع کیا۔
 
ان کے مطابق ابتدا میں اس منصوبے کے تحت جنگلی زیتون کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ یہ قسم صرف پہاڑی اور کھردری سطح زمین پر کامیاب ہے۔ ان کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں لاکھوں کی تعداد میں جنگلی زیتون کے درخت پائے جاتے ہیں۔
 
ان کے مطابق ترکی اور اٹلی سے آنے والی زیتون کی قسمیں پاکستان کی آب و ہوا کے لیے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ ان سے تیل کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے۔
 
 
جنگلی زتیون کیا ہے؟
جنگلی زیتون کا درخت خونہ کہلاتا ہے، جس کو خیبر پختونخوا کے اکثریتی علاقوں میں خونہ، جنوبی اضلاع میں خن، پنجاب اور کشمیر میں کہو اور بلوچستان میں ہث یا حث کہا جاتا ہے۔
 
پاکستان کے چاروں صوبوں میں کئی گاؤں اور دیہات ایسے پائے جاتے ہیں جن کے نام ہی کہو کے نام پر ہیں جیسے کہو دی قلعہ، کہو دا بانڈہ ہیں۔ اسی طرح ایبٹ آباد کے علاقے بکوٹ میں مشہور گاؤں کہو شرقی، مری سے اسلام آباد کے راستے پر آباد بہارہ کہو بھی اسی درخت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
 
کہا جاتا ہے کہ ان جگہوں کے یہ نام کہو کے بہت زیادہ درختوں کی وجہ سے رکھے گئے۔ زرعی تحقیقاتی مرکز ترناب فارم پشاور کے تحقیقاتی افسر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں زیتون کے پراجیکٹ انچارج احمد سید کے مطابق زتیون کے مختلف اقسام کے درخت ہیں جن میں سے ایک قسم جنگلی زیتون کی ہے۔ جنگلی زیتون پاکستان کا مقامی اور خوردرو درخت ہے۔
 
یہ ملک کے چاروں صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ بکثرت موجود ہے۔ جس کا ہر علاقے میں الگ مقامی نام ہے۔ جنگلی زیتون کی جڑ اور لکڑی بڑی مضبوط ہوتی ہے اور یہ پاکستان کے ماحولیاتی نظام سے مکمل موافقت رکھتا ہے۔
 
زیتون کے درخت کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔
 
 
’زیتون کی مصنوعات باآسانی فروخت ہوتی ہیں‘
محمد اسرار اور ان کے خاندان کے افراد نہ صرف اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کی پیکنگ کر رہے ہیں بلکہ زیتون کے پتوں کا قہوہ تیار کر کے اس کو مارکیٹ میں فروخت بھی کرتے ہیں۔
 
محمد اسرار کا کہنا ہے کہ ہمیں زیتون کی مصنوعات کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتی اور زیادہ تر خریدار ان مصنوعات کو خریدنے کے لیے خود ہی رابطہ کرتے ہیں۔
 
’خاموش سبز انقلاب‘
اس وقت پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، مانسہرہ (شنکیاری)، پشاور، سنگھبٹی اور نوشہرہ (ترناب فارم) میں بھی کسانوں کے لیے یہ سہولت دستیاب ہے جبکہ چکوال سمیت پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی زیتون کی پیداوار ہو رہی ہے۔
 
چکوال میں حکومت کا زیتون کا ایک ’ماڈل فارم‘ بھی ہے۔ یہاں پر قائم تحقیقاتی مرکز میں زیتون کی مختلف اقسام پر سنہ 1991 سے تحقیق کی جا رہی ہے۔
 
ہزارہ زرعی تحقیقی سٹیشن کے ڈائریکٹر اختر نواز کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں اب تک ایبٹ آباد میں پانچ ٹن سے زیادہ وزن کے زیتون سے تیل نکالا جا چکا ہے۔
 
لیاقت تنولی ہزارہ یونیورسٹی میں آئل پروسسنگ کا مضمون پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زیتون کی پیداوار سے متعلق سب سے اہم بات حکومت کا عزم ہی ہے جس سے پاکستان اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر لیاقت کی رائے میں پام آئل سے زیتون کے تیل کی کوالٹی کئی گنا بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس کی پراسسنگ کولڈ میتھڈ کے تحت کی جاتی ہے جس سے اس میں موجود انسانی جسم کے لیے مفید اجزا ضائع نہیں ہوتے۔
 
ان کے مطابق پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ماضی میں پام آئل کی کاشت سے متعلق ملائیشیا کی مدد بھی کی مگر اب خود بڑی دولت اس تیل کی درآمد پر خرچ کر رہا ہے۔
 
اختر نواز کے مطابق گذشتہ دو برس سے زمینداروں کی زیتون کی کاشت میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔
 
انھوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت کرنے والوں ایسے آلات بھی مہیا کیے جانے چاہئیں جن سے وہ زیتون کے پھل کی محفوظ طریقے سے چنائی کر سکیں کیونکہ زیتون کا پھل سائز میں چھوٹا ہوتا ہے اور اسے اس طرح چننا کہ درخت اور پھل کو نقصان نہ پہنچے بہت مشکل کام ہوتا ہے۔
 
اختر نواز کے مطابق سرکاری سطح پر فی لیٹر زیتون کے تیل کی مارکیٹ قیمت 1500 روپے مقرر کی گئی ہے تاہم ابھی اس کی ہزارہ میں کمرشل سطح پر پیداوار شروع نہیں ہوئی ہے۔
 
ڈاکٹر فیاض عالم دعا فاؤنڈیشن تنظیم کے جنرل سیکریٹری ہیں اور یہ تنظیم زیتون کی پیدوار بڑھانے سے متعلق کسانوں کو تعاون فراہم کرتی ہے۔
 
ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق پاکستان میں جنگلی زیتون کو کوئی بڑا ماحولیاتی خطرات لاحق نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ سرد و گرم موسموں کا درخت ہے، موسمی شدت اور سختی بھی برداشت کر لیتا ہے۔
 
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے 0.2 رقبے پر جنگلی زیتون کے تاریخی اور پرانے جنگلات اور درخت ہیں، جو مقامی آبادیوں کی کئی ضرورتوں، جن میں مال مویشیوں کا چارہ بھی شامل ہے، پورا کرتے ہیں۔
 
انھوں نے بتایا کہ اس وقت جنگلی زیتون کو مقامی آبادی کی جانب سے اس کی لکڑی کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی وجہ سے بڑے خطرات لاحق ہیں کیونکہ مقامی طور پر لوگوں کے پاس متبادل ایندھن کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگلی زیتون کی لکڑی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
 
نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر زیتون اسلام آباد ڈاکٹر محمد طارق کے مطابق بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر غریب اور پہاڑی علاقوں میں بھی جنگلی زیتون کی لکڑی کو ایندھن کے لیے استعمال کیے جانے کی روایت موجود ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی میں شعور پیدا کرنا ہو گا۔
 
 
جنگلی زیتون کی اچھے زیتون میں تبدیلی کے فوائد اور نقصانات
ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق جس طرح آم کے پودے پر قلم کاری کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جنگلی زیتون پر اچھے زیتون کی سادہ سے طریقے کے ساتھ قلم کاری کر کے 'حیرت انگیز' نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ان کے مطابق اس کا کوئی لمبا چوڑا طریقہ نہیں ہے۔
 
جنگلی زیتون کے کسی درخت پر کچھ اچھی شاخوں کا انتخاب کر کے ان کو آری سے کاٹ کر چھال پر دو کٹ لگائے جائیں جو بالکل آمنے سامنے ہوں۔ کاٹے گئے تنے کی موٹائی کے لحاظ سے قلم کا انتخاب کیا جائے۔
 
قلم کو تراش کر تنے کی چھال میں پوست کیا جائے۔ پلاسٹک سے اچھی طرح باندھا جائے۔ دونوں قلموں کو بھی اچھی طرح پلاسٹک سے ڈھانپ کر باندھ دیا جائے۔
 
ڈاکٹر محمد طارق کے مطابق یہ ٹھیک ہے کہ جنگلی زیتون پر اچھے زیتون کی قلم کاری کر کے اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں مگر اس سلسلے میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے ورنہ خدشہ ہے کہ کچھ ماحولیاتی مسائل پیدا نہ ہو جائیں۔
 
قلم کاری کے بعد ان درختوں کو پانی اور کھاد دینا ضروری ہوتا ہے۔
 
جنگلی زیتون کو تو کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی مگر جب جنگلی زیتون کو اچھے زیتون میں تبدیل کیا جائے گا تو ان کو جس طرح کسی پھل فروٹ کے باغات کو دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح کی ضرورت ان کو بھی ہوتی ہے۔
 
احمد سید کے مطابق اگر جنگلی زیتون پر قلم کاری کامیاب ہو جائے تو تین سے چار ہفتے میں قلم کی گئی ٹہنیوں پر کونپلیں پھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ زیتون کا درخت چار سے پانچ سال میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے۔
 
انھوں نے بتایا کہ زیتون کے ایک اچھے درخت سے 40 سے 120 کلو زیتون سالانہ حاصل کیا جاتا ہے۔
 
’25 ہزار ایکٹر پر زیتون کے باغات لگائے گئے ہیں‘
ڈاکٹر طارق کے مطابق ہمارے پاس پورے ملک میں اس وقت استعمال میں نہ لائی جانے والی چار ملین ہیکٹر زمین ایسی ہے جہاں پر زیتون کے باغات لگائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپین دنیا میں سب سے زیادہ زیتون پیدا کرتا ہے جبکہ اس کے صرف 2.6 ملین ہیکٹر زمین پر زیتون کے باغات ہیں جبکہ پاکستان میں ہمارے پاس سپین سے زیادہ زمین موجود ہے جہاں اچھی کوالٹی کا زیتون کاشت کیا جا سکتا ہے۔
 
انھوں نے کہا کہ اس سے ہماری زراعت اور مقامی پھل فروٹ کے باغات بالکل متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ اس وقت اس زمین کو کسی بھی کام میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کے لیے سالانہ تین بلین ڈالر سے زائد کا زیتون کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔
 
ان کے مطابق بڑی پیمانے پر زیتون کی کاشت کرنے سے پہلے مرحلے میں اگر پاکستان اپنی ضرورت میں خود کفیل ہو جائے تو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچ جائے گا بلکہ دوسری مرحلے میں ایکسپورٹ شروع کر کے قیمتی زرمبادلہ کما بھی سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی جو منصوبے شروع ہوئے ہیں، ان سے زبردست قسم کی معاشی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔
 
احمد سید کے مطابق زیتون ایک ماحول دوست درخت ہے جس میں کاربن کو استعمال کرنے، ہوا اور ماحول کو صاف کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ اس پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زرعی ادویات کے استعمال کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے جبکہ دیگر پھلوں کے مقابلے میں اس کو پانی کی بھی کم ہی ضرورت ہوتی ہے، جس وجہ سے یہ پوٹھوار جیسے کم پانی والے علاقوں کے لیے بھی انتہائی اہم فصل ہو سکتی ہے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
01 Dec, 2020 Views: 1649

Comments

آپ کی رائے