انسان کا حَقِ اختلاف اور انسان کی حَدِ اختلاف

(Babar Alyas , Chichawatni)
سیاروں کے حوالے سے اختر کاشمیری صاحب کی ایک بہترین تفسیر

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورَہِ یُونس ، اٰیت 93 انسان کا حَقِ اختلاف اور انسان کی حَدِ اختلاف !! ازقلم....... اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
ولقد
بوانا بنی اسرائیل
مبواصدق ورزقنٰھم من الطیبٰت
فمااختلفواحتٰی جاء ھم الحق ان ربک قضی
بینھم یوم القیٰمة فیماکانوا فیہ یختلفون 93
انسانی تاریخ کی ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ہو چکی ھے کہ بنی اسرائیل کو ھم نے زمین میں رہنے کے لیۓ بہترین ٹھکانا اور کھانے کے لیۓ بہترین خوراک مُہیا کی یہاں تک کہ اُن کی حرکت و عمل کے لیۓ ھم نے اُن کے پاس اپنے اَحکام بہیجے اور اُنہوں نے اُن اَحکام میں اختلاف پیدا کر کے اپنے لیۓ ناقابلِ عمل بنادیا اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ہو چکی ھے کہ اُن لوگوں کے اِس اختلاف کا فیصلہ ھم نے قیامت پر اُٹھا رکھا ھے تا کہ اُن کو کیۓ کی مناسب سزا دی جاۓ !
مطالبِ اٰیت و مقاصدِ اٰیت !
اٰیتِ بالا کے مفہومِ بالا کو سمجھنے کےلیۓ تمہیدِ کلام کے طور پر جن دو باتوں کا سمجھنا لازم ھے اُن میں سے پہلی بات یہ ھے کہ انسانی علم کی عظیم عمارت کی بُنیاد خیالِ نظر کے فکری اور خلاۓ نظر کے عملی مُشاھدے پر مُشتمل ھے ، انسانی ذہن میں آنے والا جو خیال ایک مُجرد خیال سے گزر کر انسان کے زبانی یا تحریری اَقوال میں اپنی جگہ بنالیتا ھے تو اُس انسانی خیال کے اَقوال میں آنے والی وہ بات اگر کسی عقلی دلیل سے بھی ثابت ہوجاتی ھے تو عُلماۓ سائنس اُس بات کو فلسفے Phylosophy کے دائرے میں جگہ دیتے ہیں ، اگر اُس انسانی خیال سے انسانی اَقوال میں آنے والی وہ بات انسانی تجربے سے بھی ثابت ہوجاتی ھے تو عُلماۓ سائنس اُس بات کو اپنے ایک وضعی اُصول Theory کے دائرے میں رکھ دیتے ہیں اور اگر انسانی خیال سے انسانی اَقوال میں آنے والی وہ بات ریاضی کے کسی قاعدے سے بھی ثابت ہوجاتی ھے تو عُلماۓ سائنس اُس بات کو اپنے قانون Law کے دائرے میں لے آتے ہیں ، انسانی فکر و خیال کی یہ وہ مقررہ حدُود ہیں جن سے باہر نکلنے کے بارے میں انسان سوچ تو سکتا ھے لیکن نکل نہیں سکتا اور اٰیاتِ بالا کے مفہومِ بالا کو سمجھنے کے لیۓ جس دُوسری بات کا سمجھنا لازم ھے وہ یہ ھے کہ عالَم میں خالقِ عالَم کی تخلیق کا سب سے بڑا مظہر سُورج ھے جس کو انسان اپنے خیال کی باطنی نظر سے دیکھنے کے بجاۓ اپنی اُس ظاہر نظر سے دیکھتا ھے جس سے وہ ہمیشہ ہر چیز کو دیکھتا ھے اور انسان خالق کے اِس بیکراں و بیکنار خلاء میں جس سُورج کو دیکھ رہا ھے یہ یہ سُورج اپنے پہلُو میں اُن بیشمار کہکشاوں کو لے کر چل رہا ھے جن میں سے ایک ایک کہکشاں دس دس اَرب سُورج اپنے پہلُو میں لیۓ ہوۓ خلاۓ بسیط میں جگمگا رہی ھے ، ھماری نگاہ میں آنے والا یہ ایک سُورج جو ایک سیکنڈ میں اپنے مدار Orbit میں آنے والی کہکشاں کا 150 کیلو میٹر کی رفتار سے جو ایک چکر لگاتا ھے تو اِس کا وہ ایک چکر ہی دو اَرب پچاس کروڑ سال میں مُکمل ہوتا ھے اور جس ایک کہکشاں کا وہ دو ارب پچاس کروڑ سال میں ایک چکر لگاتا ھے اُس ایک کہکشاں کا قطر 90 ہزار نُوری سال کے برابر ہوتا ھے اور ھماری اِس قریب ترین کہکشاں کا اپنی دُوسری قریب ترین کہکشاں کے درمیان جو معلوم فاصلہ ھے وہ 22 لاکھ نُوری سال کے برابر ھے ، ھمارے اِس سُورج کا جو 9 سیارے اپنے اپنے مقررہ مدار میں رہ کر طواف کرتے ہیں اُن میں سُورج سے قریب ترین پہلا سیارہ عطارد ھے جو سُورج سے 580 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے مدار میں گردش کر رہا ھے اور 88 دن میں وہ سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرتا ھے ، عطارد کے بعد دُوسرا سیارہ زُہرہ ھے جو سُورج سے 1080 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہ کر اپنے مدار میں گُھوم رہا ھے اور 224 میں دن میں سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرتا ھے ، زُہرہ کے بعد تیسرا سیارہ ھمارا سیارَہِ زمین ھے جو سُورج سے 1520 لاکھ کیلو میٹر کے فاصلے پر رہ کر چل رہا ھے اور 365 .25 دنوں میں سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرتا ھے ، زمین کے بعد چوتھا سیارہ مریخ ھے جو سُورج سے 2280 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہ کر اپنے مدار میں گردش کرتا ھے اور 787 دن میں اِس کا ایک چکر مُکمل کرتا ھے ، مریخ کے بعد پانچواں سیارہ مُشتری ھے جو سُورج سے 7750 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ رکھ کر اپنے مدار میں حرکت کرتا ھے اور 11.9 سال میں سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرسکتا ھے ، مُشتری کے بعد چَھٹا سیارہ زُحل ھے جو سُورج سے 14270 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہ کر اپنے مقررہ مدار میں گردش کرتا ھے وہ 29 .5 سال میں سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرلیتا ھے ، زُحل کے بعد ساتواں سیارہ یورینس ھے جو سُورج کو 28700 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ دے کر سُورج کا طواف کرتا ھے وہ 84 سال بعد سُورج کے گرد اپنا ایک چکر مُکمل کرتا ھے ، یورینس کے بعد آٹھواں سیارہ نیپچون ھے جو سُورج سے 44970 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ رکھ کر اپنے مدار میں چلتا رہتا ھے اور 164.8 سال میں سُورج کے گرد اپنا ایک دائرہِ حرکت مُکمل کرتا ھے اور نیپچون کے بعد خلاء کا نواں سیارہ پلوٹو ھے جو سُورج سے 59000 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہ کر اپنے مدار میں سفر کرتا ھے اور 24 .7 برس کے بعد سُورج کے گرد اپنا ایک حلقہ قائم کر سکتا ھے ، اِن دو باتوں کا مقصد زمین و خلاء کے بارے میں کوئ سائنسی انکشاف کرنا نہیں ھے بلکہ صرف اِس سادہ سی بات کی طرف توجہ دلانا ھے کہ عالَم میں جو جو چیز موجُود ھے اور جہاں جہاں پر موجُود ھے اُس چیز کی اُس مقام رہنے کی اسی طرح کی ایک مقررہ حَد ھے جس طرح تمام سیاروں کی وہ مقررہ حَد ھے جس کا نام مدار ھے اور اُس مدار میں وہ ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ رہنے کے پابند ہیں ، اٰیتِ بالا میں قُرآن نے انسان کو اللہ کے اِسی اَزلی و اَبدی قانون سے آگاہ کیا ھے کہ انسان اپنے یومِ پیدائش سے لے کر اُس وقت تک تو اپنے آزاد خیال و اعمال کے مطابق اپنے اختلاف و عدمِ اختلاف اور اپنے اتفاق و عدمِ اتفاق میں حیوانِ ناقص کی طرح مُکمل آزاد ہوتا ھے جب تک اُس کے پاس اللہ کا قانون نہیں آتا لیکن جب انسان پاس اللہ کا قانون آجاتا ھے تو پھر وہ چاند سُورج اور خلاۓ بسیط کے اُن سیاروں کی طرح اللہ کے قانونِ نازلہ کے دائرہ مدار میں رہنے کا پابند ہو جاتا ھے جو فضاۓ بسیط میں اللہ کے قانون کے مطابق اپنے اپنے مدار میں رہ کر سُورج کا طواف کر رھے ہیں ، قُرآن نے انسان کو بنی اسرائیل کی مُحولہ بالا نافرمانی کا ذکر کر کے یہ بات سمجھائ ھے کہ انسان نزولِ کتاب سے پہلے اپنی جَھگڑالو عادت و طبعیت کے مطابق ایک دُوسرے کے ساتھ جو اختلاف کرتا ھے وہ اللہ کے نزدیک در گزر کے قابل ہوتا ھے لیکن نزولِ کتاب کے بعد انسان ایک دُوسرے کے ساتھ جو اختلاف کرتا ھے وہ اللہ کے نزدیک قابلِ سزا ہوتا ھے کیونکہ نزولِ کتاب کے بعد جو اختلاف ہوتا ھے وہ کتاب اور اَحکامِ کتاب سے اعراض کا نتیجہ ہوتا ھے اور وہ اس وجہ سے ہوتا ھے کہ لوگ اللہ کی کتاب کے بجاۓ غیر اللہ کی کتابوں اور غیراللہ کے اَحکام پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک مُسلم صرف وہ ھے جو عامل بالکتاب ھے اور کافر بھی صرف وہ ھے جو غافل عن الکتاب ھے لیکن علماۓ روایت نے اِس اٰیت کے اِس آفاقی مفہوم کو اِس کے وسیع تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کے بجاۓ اُمت کو ہمیشہ اِس اَمر کی تعلیم دی ھے کہ اختلافِ اُمت اللہ کی رحمت ھے اور اسی وجہ سے اہلِ اسلام میں فرقہ بندی کو فروغ ملا ھے کیونکہ اِس اُمت کے فرقہ پرستوں نے اپنی اِس شیطانی فرقہ بندی کو اللہ کا عذاب سمجھنے کے بجاۓ اللہ کی رحمت سمجھا ہوا ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 232 Articles with 83737 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
13 Dec, 2020 Views: 21

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ