لاہور والوں نے گدھوں کے بعد اب چوہوں کا بھی استعمال شروع کردیا، چوہے کا استعمال کھانے کی کس چیز میں کیا جا رہا ہے؟ جانیں

image
 
لاہور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور ان کے کھانے پینے کے اسی شوق کو دیکھتے ہوئے کچھ ابن الوقت لوگ ان کی اس کمزوری سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں- ماضی میں گدھے کے گوشت کو بیف کے نام پر استعمال کرنے اور اس سے بریانی بنا کر بیچنے کے انکشاف نے لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا مگر ابھی اس الزام سے وہ لوگ پوری طرح صاف نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور واقعہ نے سوال اٹھا دیے
 
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈيا پر ایک ویڈیو ان دنوں تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کو 3000 لوگ شئير کر چکے ہیں- صالح سلیم نامی صارف کی جانب سے شئير کی جانے والی اس ویڈيو کے مطابق ان کے بھائی کی فیملی لاہور کے ایفل ٹاور بحریہ ٹاون کے سامنے موجود لی کیفے گئے جہاں انہوں نے کھانے کے لیے شوارما کا آرڈر دیا-
 
ان کی بھتیجی نے جب شوارما کھانا شروع کیا تو اس کے کچھ حصے کو کھانے کے بعد ان کو اس شوارما میں سے چوہے کا سر نظر آیا جو کہ شوارما کی فلنگ میں موجود تھا جس نے اس بچی کی طبیعت کو بری طرح خراب کر دیا -
 
 
چوہے کی موجودگی نے اہل خانہ کو سخت غیض و غضب کا شکار کر دیا اور انہوں نے اس ہوٹل کی انتظامیہ سے سخت ترین احتجاج کیا اور ویڈیو بھی بطور ثبوت بنا لی- ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ کیفے کی انتظامیہ سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ ہمیں انسان نہیں سمجھتے ہیں جو اس طرح کی غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں-
 
اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسری ویڈيو میں خاتون ہوٹل انتظامیہ کو چوہا دکھاتے ہوئے دریافت کر رہی ہیں کہ کیا تم لوگ مسلمان نہیں ہو ؟اور اس ہوٹل کا مالک کون ہے ؟
 
ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے جہاں پر صرف حلال اشیا کو کھانے پینے کی چیزوں میں بیچنے کی اجازت ہے اس طرح کی غیر صحت مند اور حرام اشیا کو کھانے پیینے کی اشیا میں شامل کر کے بیچنا قابل سزا جرم ہے-
 
image
 
لوگوں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے موقع پر موجود ڈولفن اسکواڈ پولیس نے فوری ایکشن لیا اور اس ریسٹورنٹ کو فوری طور سیل کر دیا گیا ہے- یاد رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کہ ریستوران والے اس طرح کی غفلت کے مرتکب ہوئے ہوں اس سے پہلے بھی کئی اشیا میں کاکروچ اور دیگر حشرات کی موجودگی کی شکایات بھی موجود ہیں اور اب پورے چوہے کو بھون کر شوارما میں ڈال دینا انتظامیہ کی سنگین ترین غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے-
 
اس حوالے سے فوڈ ڈپارٹمنٹ کو خصوصی طور پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے جب کہ ہر فرد کو انفرادی طور پر بھی صحت کی صورتحال کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے- کیوں کہ کرونا وائرس کے سبب لوگ پہلے ہی باہر کا کھانا کھانا بہت کم کر چکے ہیں اور اگر اس طرح کی شکایات سامنے آتی رہیں تو لوگ ہوٹلنگ کرنے سے اجتناب کرنا شروع کر دیں گے اور اس سے اس صنعت کو شدید مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں-

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

YOU MAY ALSO LIKE: