بلا عنوان

(عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif, Faisalabad)
بلاعنوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی
جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں۔
میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا۔
لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی
مجھے عمر سے بدبو آتی تھی۔۔۔ ان کا کام اتنا اچھا نہ تھا۔
خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ۔۔۔۔۔
یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح۔۔۔۔وہ جاہل سا جسے بولنے کا بھی نہیں پتا۔
میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی ۔۔
تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی ۔۔
عمر مجھے پیار سے سمجھاتا۔۔
کبھی چپ ہو جاتا۔۔
کبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتا۔۔
میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کہ بس طلاق لینی ہے عمر سے
امی ابو نے بہت سمجھایا کہ بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا۔۔۔۔۔ بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے
باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھایا یا گالی دی ہو۔۔۔۔۔
لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی۔
میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے۔۔۔۔
امی ابو نے عمر کو بلوا لیا
وہ میرے سامنے بیٹھا تھا
امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھئی تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے۔
عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا۔
انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی کے ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں۔
میرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاں
میں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہیئے بس
اس شرط پہ ہی جاؤں گی میں عمر کے ساتھ۔۔۔۔۔
عمر خاموش ہو گیا
سر جھکائے بیٹھا تھا
چاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار۔۔۔۔۔۔؟
کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس لی اور بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے
میں نے دل میں گالی دی کمینے دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔جینا حرام کر دوں گی تمہارا
میں عمر کے ساتھ چلی گئی
بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے
عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں
اس کے علاؤہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا
خیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا
ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو
میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کہ عمر مجھے طلاق دے دے اور بس
عمر مسکرانے لگا
میرے پاؤں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہو۔
تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو۔
جو کہو گی کروں گا۔
میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیادہ نمک۔
وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا
نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کہ اتنا تھک جاتا۔۔۔؟
میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی ہی مجھ سے محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شہر کے سب سے مہنگے شاپنگ مال میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے۔۔۔۔۔کہ
جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو
میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا ۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔
میں بے جان ہو گئی
وہ عمر جس سے میں بہت نفرت کرتی تھی جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی
جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا۔۔۔
جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا۔۔۔
جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی
جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا۔۔۔۔۔
ٹانگیں کانپ رہی تھی
پرانے سے کپڑے پہنے
پسینے سے شرابور
پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میں مر کیوں نہ گئی تھی
وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا
اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر
عمر کو شاید بھوک لگی تھی
ہاتھ میں پکڑی روٹی کا رول کیا ہوا
ساتھ کھا رہا تھا اور ساتھ سامان اٹھا رہا تھا
میں قربان جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی رہی۔
کام ختم ہوا۔
وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا۔
کتنی بے بسی و تھکن تھی عمر میں
سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں
وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا۔
💕میں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی
بہت روئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی زیادہ
عمر کو پلاؤ بہت پسند تھا میں نے پلاؤ بنایا
عمر گھر آیا۔
میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھا۔
گھر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سلام کیا کچن میں چلا گیا۔
پلاؤ دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا۔
ایک سال بعد پلاؤ کھانے لگا ہوں
عمر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے اور میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی
عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں
میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں
عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا
دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاؤں
عمر نے کھانا کھایا
پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزار۔۔۔۔۔۔گن لو
میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمر کے پاؤں چوم لیئے۔
عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے
مجھے یہ پیسے نہیں چاہیئے
عمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے
عمر نے میرا ہاتھ تھاما بولے
اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا۔۔۔۔۔
کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم۔۔۔۔۔
پاگل۔۔۔۔۔۔ تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانے۔۔۔۔۔؟
بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا۔
میں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھے
نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی۔
مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا۔
ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی
بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں۔
کبھی اپنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جیسے میں نے عمر کا دیکھا تھا
خدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔
جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو۔
پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا۔
خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جو سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہے
جو سکون عمر کا سر اور پاؤں دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون
عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے
ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو تو سہی
آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی
عمر اب میری زندگی ہے
اور میں عمر کی شہزادی

یہ تحریر شاید کسی کی زندگی بدل دے۔
منقول
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 89 Articles with 111365 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jan, 2021 Views: 87

Comments

آپ کی رائے