افغان خواتین کی آبروریزی اور آر ایس ایس غنڈے

(Hammad Asghar Ali, )

بھارت میں جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات نے خواتین میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے اور بھارتی حکومت کی قانون سازی بھی مجرموں کو روک نہیں سکی اور اب بھارتی شہریوں کی جانب سے دیگر ملکوں میں بھی جنسی زیادتی کے جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ کابل میں ایک بھارتی سیاح نے 15سالہ افغان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی۔افغان پولیس کاکہنا ہے کہ واقعہ 28 دسمبر 2020 کو افغانستان کے شہر کابل میں پیش آیا تھا جس میں ملزم دیپ دسائی نے مبینہ طور پر لڑکی کو سنگین نتائج کی دھمکی دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا اور خوف کے باعث متاثرہ لڑکی کسی کو اطلاع نہ دے سکی۔بعد ازاں ملزم نے ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کردی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتارکرلیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی کابل میں بھارتی فوج کے بریگیڈیر ایس کے نارائن کو ایک افغان لڑکی کے ریپ کے جرم میں افغانستان سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ لیکن اتنے سنگین جرم کے مرتکب فوجی اتالثی کے خلاف بھارتی فوج اور عدالتوں نے عملاً کوئی کاروائی نہیں کی۔مبصرین کے مطابق یہ معمول بن گیا ہے کہ افغانستان میں سیر وسیاحت کے نام پر جانے والے بھارتی افغان خواتین کو زدیاتیوں کا نشانہ بنانا اپنا حق سمجھتے ہیں اورا س ضمن میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے افغانستان کی بہت مالی مدد کی ہے اور افغانستان کو مالی مدد کے ضمن میں بہت فائدہ پہنچایا ہے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ افغان خواتین اُن کی ملیکیت ہیں۔اسی سوچ کے مدنظر بھارتی فوج اور آر ایس ایس کی غندہ فورس افغانستان کا استحصال کوئی معیوب بات نہیں حالانکہ بھارت کے اس رویے کی وجہ سے افغان کے عوام اور شہریوں میں بھارت کیخلاف اند ہی اند ایک لاوہ پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں کا روپ دھار سکتا ہے۔ دوسری جانب 2013 میں بھارت میں زیادتی کا نشانہ بننے والی امریکی خاتون کی سان فرانسسکو میں بھارتی قونصلیٹ کے باہر دہائی دینے کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی تھی ۔امریکی خاتون کو دہلی کے سابق میئر کے بھتیجے نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، ملزم راجیو پنور کو حالیہ دنوں میں ضمانت دے دی گئی ہے۔خاتون نے قونصلیٹ کے باہر ویڈیو بنا کر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا،متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ بھارت کے کرپٹ ججز نے ملزم کو ضمانت دے دی ہے، بھارتی بیوروکریسی ریپ کرنے والے مجرموں اور کرپٹ ججز کا تحفظ کرتی ہے، وہ زیادتی کرنے والوں اور ان کو ضمانتیں دینے والوں کے خلاف لڑتی رہیں گی۔خیال رہے کہ بھارت میں ہر سال لاکھوں بچیوں اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ انسان دوست بھارتی حلقوں کی رائے ہے کہ زیادتی کے زیادہ ترکیسز میں بھارتی پولیس مظلوموں کو مجرم بنادیتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ بات بھی خصوصی توجہ کی حامل ہے کہ ہندوستانی حکمرانوں کا ہمیشہ سے دعویٰ رہا ہے کہ پسماندہ طبقات اور خواتین کے حقوق کی ہر ڈھنگ سے حفاظت کی گئی ہے دوسری جانب اگرچہ سبھی حلقوں نے اس بابت اتفاق ظاہرکیا کہ دہلی کے ان دعووں میں قطعاً کوئی حقیقت نہیں بلکہ اصل صورتحال اس سے بالکل متضاد ہے اور ہر شعبہ حیات میں انسانی حقوق کی جتنی پامالی بھارت میں ہو رہی ہے شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہو۔

اس معاملے کی تازہ ترین دلیل کے طور پر خود بھارتی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خواتین میں بے روزگاری کی شرح ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس صورتحال کا جائز ہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی ادارے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق بھارت میں خواتین ملازموں کی تعداد میں بہت تیزی سے کمی آ رہی ہے اور مجموعی طور پر کام کرنے والی عورتوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2004 سے 2012 کے درمیان بھارؤت میں دو کروڑ خواتین نے کام کرنا چھوڑا۔مزدوری کرنے والی خواتین کی اوسط 1993 اور 1994 میں 42 فیصد تھی جو کم ہو کر 2011 اور 2012 میں 31 فیصد رہ گئی ہے۔مجموعی تعداد میں 53 فیصد کمی ہوئی جن میں 15 سے 24 سال کی خواتین شامل ہیں ۔

دیہات کی خواتین مزدوروں کی تعداد بھی سنہ 2004 کے مقابلے میں سنہ 2010 میں 49 فیصد سے کم ہو کر 37․8 فیصد پر آ گئی ہے اور دو کروڑ 17 لاکھ خواتین بیروزگار ہو گئیں ۔ اس سے مذکورہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔

علاوہ ازیں یہ امر اپنے آپ میں ایک اہمیت کا حامل ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ہندوستانی خواتین کے جسمانی استحصال میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تبھی تو واقعات کے مطابق یکم ستمبر 2016 کو بھارتی صوبے ہریانہ کے میوات ضلعے کے ڈینگر ہیڑی گاؤں میں دو مسلمان خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کا سانحہ پیش آیااور اس معاملے کا مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مجرموں کو بغیر کسی سزا کے رہا کر دیا گیا ۔

اس کے بعد نو ستمبر 2016 کو بھارتی ریاست گجرات میں ، 20 فروری 2017کو ریاست کیرالہ میں ، پھر 14 مارچ 2017 کو راجدھانی دہلی میں سیاحت کی غرض سے بھارت آئی ایک نیپالی خاتون کے ساتھ ، علاوہ ازیں 20 مئی کو کیرالہ میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اور 25 مئی 2017کو دہلی میں چار خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کا سانحہ پیش آیا ۔ اوراس قسم کے واقعات بھارتی معاشرے میں سکہ رائج الوقت بن چکے ہیں ۔

اس صورتحال سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی سوسائٹی آنے والے دنوں میں کس قسم کے اخلاقی بحران کا شکار ہونے والی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Asghar Ali

Read More Articles by Hammad Asghar Ali: 2 Articles with 267 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2021 Views: 74

Comments

آپ کی رائے