تعلیم: انقلابی اقدامات کی ضرورت

(shabbir Ibne Adil, Karachi)
تحریر: شبیر ابن عادل

تعلیم ہی کسی قوم کے عروج و زوال کا سبب ہوتی ہے ، دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح ہمارے ملک میں تعلیم کا بُرا حال ہے اور پورا تعلیمی نظام بربادی کا شکار ہے۔ ماضی میں ہمارے ہاں دو طرح کے تعلیمی نظام تھے، ایک پیلے یعنی گورنمنٹ اسکول والا۔ اور دوسرا انگریزی یا کیمرج سسٹم۔ اب حال یہ ہے کہ بہت سے تعلیمی نظام ہیں۔ بہت سے ادارے تجارتی فرموں یا بزنس اسٹائل میں کام کررہے ہیں، ان کی فرنچائس بھی فروخت ہوتی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا مقصد محض دولت کمانا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں بہت سے اداروں کی بزنس چین (chain)پورے ملک میں قائم ہیں، افسوس کہ یہ ادارے نئی نسل کو ملک کی بنیادی اساس کے خلاف تعلیم دے رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے نصاب جدا جدا ہیں۔ ان کے نصاب میں پاکستان، اسلام اور ہماری نظریاتی اساس کے حوالوں کا ذکر ہی نہیں۔ جدید نجی تعلیمی اداروں میں زیادہ تر نے قومی زبان کو بیدخل کردیا ہے۔ وہ ہرمضمون کی تعلیم انگریزی زبان میں دے رہے ہیں ۔ پھر میٹرک تک کوئی ایک تعلیمی بورڈ نہیں، بلکہ بھانت بھانت کے تعلیمی بورڈ ہیں۔ اور ایک ایسی نسل کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ جس کو نہ تو ہمارے دین کی الف بے معلوم ہے اور نہ ہی پاکستان کے قیام، اس کے ہیروز (یعنی قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر زعماء) کے بارے میں علم ہے۔ ان تعلیمی اداروں سے ہرسال ہزاروں طلبا و طالبات فارغ ہوکر نکل رہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے ۔
دوسری اہم بات ہمارے بچوں کے بھاری بھرکم بستے ہیں۔ ننھے منے بچوں کی کمر پر دس بارہ کلو گرام کا بھاری بستہ لاد دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کمر دوہری ہوئی جاتی ہے ۔ اور ان کے ذہن اور جسم مختلف پیچیدگیوں اور بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے بچے اوسطا پچیس سال کی عمر تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد ملازمت کا حصول اور یوں شادی کی عمر گزرنے کے بعد شادیاں ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ایسی ہولناک خرابیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے، جن کا کوئی حل نہیں اور نہ اُن کے ذکر کا یہ موقع ہے۔
چوتھی بات تعلیمی اداروں کی بھاری فیسیں ہیں، جن کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا بہت سے لوگوں کے لئے تو ممکن ہی نہیں رہا اور جو خاندان اپنے بچوں کو حصول علم کے لئے اسکولوں میں بھیجتے ہیں، ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔
پانچویں اور آخری بات ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز کا بڑھتا ہواکردار ہے، پہلے کالج اور یونیورسٹی کی سطح کے طلبہ ٹیوشن لیاکرتے تھے۔ مگر اب تو حد ہی ہوگئی ہے، پرائمری سطح کے طلبہ بھی ٹیوشن لے رہے ہیں۔ جس کا بظاہر اور سب سے بڑا نقصان ہمارے بچوں پر بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ انہیں آرام کرنے یا کھیل کود کا وقت ہی نہیں ملتا۔ بچوں اور نوجوانوں کے لئے کھیلوں یا صحت مند تفریح ایک الگ موضوع ہے۔ ان تمام امور نے ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں اور productivityکو بُری طرح متاثر کیا ہے۔
تعلیم پر مکمل، فوری اور بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، میرے خیال میں تو جس طرح ملک بھر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ اس سے زیادہ سنجیدگی اور اخلاص سے تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔
اس حوالے سے بہت سے کام ہوسکتے ہیں اور دوسروں کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر فِن لینڈ کے تجربے سے جہاں تعلیمی نظام میں اس قدر انقلابی اقدامات کئے گئے کہ ان کا تصور امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی نہیں۔ وہاں امتحانات کے سلسلے کا خاتمہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں طلبہ میں رٹا لگانے کا سلسلہ ختم ہوا۔ امتحانات کے بجائے وہاں گریڈنگ کی جاتی ہے۔ دوسرا اہم کام یہ ہوا کہ وہاں بچوں کو سات سال کی عمر سے اسکول جانا ہوتا ہے۔ اور حصولِ علم کا سلسلہ صرف نو سال چلتا ہے یوں سولہ سال کی عمر میں تعلیمی سلسلہ مکمل ہوجاتا ہے۔ اس طرح نوجوان اس عمر میں عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں ، جب ان کی تمام صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 82 Articles with 13626 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2021 Views: 163

Comments

آپ کی رائے