شرم و حیاء کا معنی ومفہوم

(Imran Attari Abu Hamza, )

 قارئین کرام ! گناہوں سے بچنے میں حیاء بہت ہی مُؤَثِّرہے ۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ جس میں حیاء نہیں ، اس میں ایمان نہیں ۔ اس مضمون سے ہم شرم و حیاء سے متعلق ان سوالات کا جواب معلوم کریں گے : (۱) حیاء کا معنیٰ کیا ہے ؟ (۲)حیاء کیسے حاصل ہو تی ہے؟(۳) حیاء کیوں ضروری ہے ؟ (۴)حیاء کے احکام کون کونسے ہیں ؟(۵) شرم وحیاء کا حَق کیسے ادا ہو ؟(۶)حیاء کی کتنی اقسام ہیں ؟ وباللہ التوفیق ۔
حیاء کا معنیٰ کیا ہے ؟ حیاء کا معنی ہے عیب لگائے جانے کے خوف سے انسان کا جھینپنا، حیاء وہ وصف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جواللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے حیاء یہ ہے کہ اُس کی ہَیبت و جلال اور اس کا خوف دل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضگی کا اندیشہ ہو۔ حضرت شہاب الدّین سہروردی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالی کے عظمت و جلال کی تعظیم کے لئے روح کو جُھکانا حیاء ہے۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی حیاء اسی قسم سے ہے ، منقول ہے کہ حضرت اسرافیل اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے اپنے پروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں۔ اور اسی قبیل سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی حیاء ہے جیسا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : میں اندھیری جگہ پر غسل کرتاہوں تو اس وقت میں اللہ تعالی سے حیاء کی وجہ سے سمٹ جاتاہوں۔لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رُک جانا جو ان کے نزدیک اچّھانہ ہومخلوق سے حیاء کہلاتا ہے۔ مگر اس حَیاء کے اچھّا ہونے کے لئے ضَروری ہے کہ مخلوق سے حیاء کرنے میں خالق عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اور نہ کسی کے حُقُوق کی ادائیگی میں وہ حیا رُکاوٹ بن رہی ہو، عام لوگوں سے شرم و حیا ء کرنا دنیاوی طور پر برے سمجھے جانے امور سے بچائے گا، اور اللہ والوں سے شرم و حیا کرنا دینی بُرائیوں سے بچائے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح ، برقم : ۵۰۷۲ ، ۸/۳۱۷۳ ، بتغیّرمّا)
حیاء کی تعریف از حضرت جنید بغدادی :حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی سے حیاء کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کی نعمتوں کو دیکھنا اور اپنی کوتاہیوں کو دیکھنا پس ان دونوں کی طرف نظر کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے اس کا نام حیاء ہے ۔(شعب الایمان ، برقم : ۷۳۴۸ ، ۵۴۔ الحیاء ، ۱۰/۱۸۰) حیاء کی تعریف ازحضرت ذوالنّون مصری:
حضرت ذو النون رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : حیاء یہ ہے کہ تمہارے دل میں اللہ تعالی کی ہیبت موجود رہے اس کے ساتھ ساتھ جو اعمال تم نے اپنے ربّ کے پاس آگے کے لیے بھیجے ہیں ان سے تم ڈرتے رہو!(شعب الایمان ، ۵۴۔ الحیاء ، برقم : ۷۳۵۰ ، ۱۰/۱۸۰)

حیاء کیسے حاصل ہو تی ہے ؟
محمد بن فضل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : اوّلاً محسن کے احسان کی طرف نظر کرنے پھر محسن کے ساتھ جو تم نے جفاء کی ہے اس کی طرف نظر کرنے سے حیاء پیدا ہوتی ہے پس جب تم اسی حالت پر رہو گے تو ان شاء اللہ تمہیں حیاء کی نعمت عطا کر دی جائے گی ۔(شعب الایمان ، ۵۴۔ الحیاء ، برقم : ۷۳۵۱ ، ۱۰/۱۸۱)

حیاء کیوں ضروری ہے ؟
حضرت ابن عطاء علیہ الرحمہ نے فرمایا : جس نے بھی نجات پائی ہے اس نے حیاء کے متحقق ہونے کے سبب نجات پائی ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : کیا نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔(العلق:۱۴)(شعب الایمان ، ۵۴۔ الحیاء ، ۱۰/۱۸۰)

حیاء کی اقسام :جان لیجیے کہ حیاء کی دو قسمیں ہیں :
پہلی قسم : وہ حیاء جو خلقی اور فطری ہو اس میں انسان کے کسب کا دخل نہیں ہوتا اور یہ ان اخلاق میں سے ہے جو اللہ تعالی اپنے بندے کو عطا فرمایا ہے جس پر اللہ تعالی بندے کو پیدا فرماتا ہے ۔

دوسری قسم : وہ حیاء جو کسبی ہوتی ہے یہ اللہ تعالی کی معرفت سے ، اس کی عظمت کی معرفت سے ، اس بات کا علم رکھنے سے کہ وہ بندوں سے کس قدر قریب ہے اور بندوں کے احوال پر مطلع ہے اور اس بات کا علم رکھنے سے کہ اللہ تعالی خیانت والی آنکھ سے اور جو باتیں سینوں میں پوشیدہ ہے ان سب کا علم رکھتا ہے ۔ یہ حیاء ایمان کی اعلیٰ ترین خصوصیات میں سے ہے بلکہ مقامِ احسان کے اعلیٰ ترین درجات میں سے ہے ۔

بہرحال وہ کمزوری اور عجز جو اللہ تعالی کے یا بندوں کے حقوق میں کی ادائیگی میں کوتاہی کو لازم کرے تو یہ حقیقۃً حیا نہیں ہے بلکہ یہ تو کمزور ی ، خواری ،اور ذلّت ہے ۔(جامع العلوم و الحکم ، الحدیث العشرون ، ۲/۔۵۹۸۔۵۹۹ )

حیاء کے احکام:حیاء کبھی فرض و واجِب ہوتی ہے جیسے کسی حرام و ناجائز کام سے حَیاء کرنا کبھی مُستَحب جیسے مکروہِ تنزیہی سے بچنے میں حیاء ، اور کبھی مُباح (یعنی کرنا نہ کرنا یکساں) جیسے کسی مُباحِ شَرْعی کے کرنے سے حیاء ۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج: 3173/8بتغیّرمّا)

شرم وحیاء کا حَق کیسے ادا ہو ؟
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں :نبی پاک ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی سے یوں حیاء کرو جیسا کہ حیاء کا حق ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بیشک ہم اللہ تعالی سے حیاء کرتے ہیں ، اور تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ،حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا نہیں ہے ، لیکن اللہ تعالی سے حیاء کا حق یہ ہے کہ تم سر کی اور اس میں موجود چیزوں کی اور پیٹ کی اور اس کے ارد گرد کی اشیاء کی حفاظت کرو ! اور موت کو اور قبر میں گلنے سڑنے کو یاد رکھو ! اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دے ۔پس جس نے ایسا کر لیاپس بلا شبہ اس نے اللہ تعالی سے حیاء کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ (سنن الترمذی ، ابواب صفۃ القیمۃ، باب ،برقم : ۲۴۵۸ ، ۴/۶۳۷)

ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ،ہمارے اہل خانہ کو بلکہ ہماری نسلوں کو بھی شرم وحیا کی صفت سے متصف رکھے ۔ آمین ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Attari Abu Hamza

Read More Articles by Imran Attari Abu Hamza: 49 Articles with 13095 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2021 Views: 490

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ