بنی اسرائیل کے چند جرائم

(shabbir ibne adil, karaachi)
تحریر: شبیر ابن عادل
بنی اسرائیل کی تاریخ اللہ رحمن الرحیم سے سرکشی ، بغاوت، گمراہی اور پیغمبروں کی نافرمانی اور ان کے ناحق قتل سمیت متعدد جرائم سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سے چند جرائم کا اعتراف انہوں نے خود انجیل میں کیا ہے:
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہوکر دو ریاستوں (یروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت اسرائیل ) میں تقسیم ہوگئی تو ان کے درمیان لڑائیوں کاسلسلہ شروع ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کی یہودیہ کی ریاست نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دمشق کی ارامی سلطنت سے مدد مانگی ۔ اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی نے یہودیہ کے فرماں روا آسا کو سخت تنبیہ کی ۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کو قبول کرنے کے بجائے خدا کے پیغمبر کو جیل بھیج دیا۔ (۲۔ تواریخ، باب ۱۶، آیت ۷۔۱۰)
حضرت الیاس (اِیلیّاہ ) علیہ السلام نے جب بَعل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور ازسرنو توحید کا صور پھونکنا شروع کیا تو سامریہ کا اسرائیلی بادشاہ اَخی اَب اپنی مشرک بیوی کی خاطرہاتھ دھوکر ان کی جان کے پیچھے پڑگیا۔ حتّیٰ کہ انہیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دعا حضرت الیاس ؑ نے مانگی، اس کے الفاظ یہ ہیں:
"بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا ۔۔۔تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کی اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں، سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں۔" (۱۔سلاطین، باب ۱۹، آیت ۱۰)
ایک اور نبی حضرت میکا یاہ کو اسی اَخی اَب نے حق گوئی کے جرم میں جیل بھیجا اور حکم دیا کہ اس شخص کو مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا ۔ (۱۔ سلاطین، باب ۲۲، آیت ۲۶۔۲۷)
پھر جب یہودیہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور زکریا نبی نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو شاہِ یہوداہ یو آس کے حکم سے انہیں عین ہیکلِ سلیمانی میں "مقدس" اور "قربان گاہ" کے درمیان سنگسار کردیا گیا ۔ (۲۔ تواریخ، باب ۲۴، آیت ۲۱)
اس کے بعد جب سامریہ کی اسرائیلی ریاست اَشُّوریوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی اور یروشلم کی یہودی ریاست کے سرپر تباہی کا طوفان تلا کھڑا تھا، تو "یرمیاہ" نبی اپنی قوم کے زوال پر ماتم کرنے اُٹھے اور کوچے کوچے انہوں نے پکارنا شروع کیا کہ سنبھل جاؤ، ورنہ تمہارا انجام سامریہ س بھی بدتر ہوگا۔ مگر قوم کی طرف سے جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ ہر طرف سے ان پر لعنت اور پھٹکار کی بارش ہوئی ، پِیٹے گئے ، قید کئے گئے ، رسی سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکا دیئے گئے ، تاکہ ۲۳۔بیرونی دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں۔ (یرمیاہ، باب ۱۵، آیت ۱۰۔ باب ۱۸، آیت ۲۰۔۲۳۔ باب ۲۰، آیت ۱۔۱۸۔ باب ۳۶ تا باب ۴۰)
ایک اور نبی حضرت عاموس کے متعلق لکھا ہے کہ جب انہوں نے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمراہیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے برے انجام سے خبردار کیا، تو انہیں نوٹس دیا گیا کہ ملک سے نکل جاؤ اور باہر جاکر نبوت کرو۔ ( عاموس، باب ۷، آیت ۱۰۔ ۱۳)
حضرت یحییٰ (یُوحنّا) علیہ السلام نے جب ان بداخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرماں روا ہیرودیس کے دربار میں کھلم کھلا ہورہی تھیں، تو پہلے وہ قید کئے گئے ، پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سر قلم کرکے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کردیا۔ (مرقس، باب ۶، آیت ۱۷۔۲۹)
آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بنی ¬¬¬¬¬¬¬اسرائیل کے علماء اور سرداران قوم کا غصہ بھڑکا، کیونکہ اہ انہیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا، رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پِیلا طُس نے یہود سے کہا کہ آج عیدکے روز میں تمہاری خاطریِسُوع اور بَرابّا ڈاکو، دونوں میں سے کس کو رہا کروں تو ان کے پورے مجمع نے بالاتفاق پکار کر کہا کہ بَر ابّا کو چھوڑ دے اوریِسُوع کو پھانسی پر لٹکا ۔ (مَتّی، باب ۲۷۔ آیت ۲۰ تا ۲۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir ibne adil

Read More Articles by shabbir ibne adil: 85 Articles with 17003 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Feb, 2021 Views: 582

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ