ہماری باتیں، ہمارےجھگڑے‎

(Surat Khan, )


جیسا کہ معروف فلاسفر ارسطو نے کہا،"انسان ایک معاشرتی حیوان ہے"۔اکیلا یا تو کوئی جن رہ سکتا ہے یا پھر دیوتا،کوئی بھی انسان اکیلا نہیں جی سکتا،اس لیے انسان ہی مل کر معاشرہ بناتے ہیں اور پھر اس کا حصہ ہوتے ہیں۔تو وہ پھر کہتے ہیں ناں ساتھ میں رہتے ہوئے تو برتن بھی کھٹکھٹایا کرتے ہیں۔اسی طرح انسانوں کے درمیان بھی چھوٹی چھوٹی باتیں اور پھر انھی باتوں پر کبھی چھوٹے اور کبھی بڑے جھگڑے بھی ضرور ہوتے ہیں۔اور پھر یہی باتیں اور جھگڑے معاشرے میں خوبصورتی کا منظر پیش کرتے ہیں اور کبھی بدصورتی کابھی،یہ جھگڑے کبھی کبھار بے معنی بھی ہوتے ہیں اور کبھی معنی خیز بھی، مثلاً: ہم بات بے بات دوسروں کو " بے ایمان" کہ دیتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو کہنے سننے کو تو یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔مگر کیا ہم اس کو ثابت کر پاتے ہیں؟ کیا کسی کے ایمان کی کوئی پیمائش ممکن ہے؟ یاپھر ایمان کی کوئی ایسی نشانی ہو جس سے ایمان کو تولا ناپا جا سکے۔ایمان ایک ایسی چیز ہے جو دکھائی دیتی نہیں بھی دیتی اور دکھائی دیتی بھی ہے۔یعنی کے ہر کسی کو اس کی مرضی کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔ہمارےرویوں سے لوگ ہمارے کی پیمائش کر لیتے ہیں۔لیکن ہر کسی کا زاویہ مختلف ہوتا ہے۔کیونکہ ہر کوئی اپنے تصورات کے عین مطابق دوسروں کی پیمائش کرتاہے۔

مثلاً؛اگرمیں کوئی براکام کرتی ہوں تو وہ دوسرے برے شخص کے خیال میں میری مجبوری ہو سکتی ہے،اس کے برعکس کسی اچھے انسان کے خیال میں یہ نہایت ہی گھٹیا اور برا عمل تصور ہوگا۔میں جانتی ہوں کہ اتنی ول پھیر کے باوجود سوال وہی ہے کہ کسی کی جانچ کیسے کی جائے کہ اس میں ایمان ہے؟

اس کی کوئی نشانی بھی تو ہونی چاہئیے کہ فلاں شخص میں ایمان ہے تو اس میں یہ یہ خوبیاں موجود ہیں۔اورباقی سب کو اسی بناء پر بے ایمان قرار دیا جائے۔فرض کریں اگر میں یہ کہوں کہ میں نے آج تک کوئی اچھا انسان نہیں دیکھا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ ساری دنیا ہی بے ایمان ہے۔ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ ہر کسی میں کچھ اچھائیاں تو کچھ برائیاں پائی جاتی ہیں۔ہاں البتہ،میرےمشاہدےمیں یہ ضرور آیا کہ کچھ لوگوں میں اچھائیوں کی تعداد نہایت ہی قلیل اور برائیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔اس کے برعکس کچھ لوگوں میں اچھائیوں کا تناسب زیادہ اور برائیوں کا کم ہوتا ہے۔کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اچھائیوں،برائیوں کا لیول برابر ہوتا ہے۔لیکن مسئلہ تو اس بات سے بھی حل نہیں ہوتا،یہ اچھائیاں،برائیاں تو غیر مسلم میں بھی پائی جاتی ہیں۔اس بنیاد پر بھی کسی کو ایمان والے کی اعزازی ڈگری سے نہیں نوازا جا سکتا۔رہی بات انداز مسلمانی کی تو قرآن کریم میں ایمان والوں کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ یوں ہے۔ جو لوگ عقیدہ توحید ورسالت رکھتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،حج ادا کرتے ہیں،روزے رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں،ایمان والے کہلاتے ہیں۔

اب یہ سارے وصف تو ہم مسلمانوں میں بھی کم ہی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ہم میں سے قلیل لوگ ہی نماز قائم کرتے ہیں۔روزے بھی چنداں چنداں ہی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی خاطر ہمارے کئی دوست رمضان المبارک سے قبل اپنی رقم بینکوں سے ہی نکلوا لیتے ہیں تاکہ کٹوتی سے بچائی جا سکے۔کچھ تو زکوٰۃ بچانے کی خاطر اہل تشیع بن جاتے ہیں۔یعنی کہ ہماری ملکیت صرف عقیدہ توحید ورسالت ہی بچ جاتا ہے۔اسی بنا پر ہم اپنے رب ذوالجلال سے بخشش کے طلبگار ہیں۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہی بخشش دوسروں کے لئے بالکل بھی نظر نہیں آتی۔ویسے تو یہ چھوٹے موٹے جھگڑے ہمارے معاشرے کی خوبصورتی کا باعث ہیں،بشرطیکہ ان کو طول نہ دی جائے۔اس کے علاوہ تو ہم سب کو کوئی اور گریڈ ملے نہ ملے آخر کار انسان ہونے کا گریڈ تو ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ یہ جو برے برے القابات سے ہم دوسروں کو نوازتے ہیں،اس سے ان کی اہمیت کم ہو نہ ہو،ہماری اپنی ضرور کم ہو جاتی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Surat Khan

Read More Articles by Surat Khan: 10 Articles with 2750 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Feb, 2021 Views: 127

Comments

آپ کی رائے