بنتے ہوئے بندوں کو خُدا دیکھ رہا ہوں

(Imran Amin, )

بارش کا ننھا قطرہ جب بادل سے ٹپکا تو نیچے گرتے ہوئے اُس نے سمندر کی چوڑائی دیکھی تو شرمندہ ہوتے ہوئے دل ہی دل میں کہا’’ سمندر کے سامنے میری کیا حیثیت ہے؟اس کے ہوتے ہوئے تو میں نہ ہونے کے برابر ہوں‘‘ ۔ اسی دوران اُس گرتے ہوئے قطرے کو ایک سیپی (صدف) نے اپنے منہ میں لے لیا اور کچھ عرصہ دل و جان سے اُس کی پرورش کی۔تھوڑے ہی دنوں میں یہ قطرہ ایک قیمتی موتی بن گیا اور یوں بادشاہ سلامت کے تاج کی زینت بنا۔یاد رہے !انسان خالق کائنات کا ایک حسین شاہکار ہے اور دوسری مخلوقات اُس کی خدمت پر مامور ہیں۔انسانی زندگی اتنی قیمتی شے ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز اس کا مول نہیں دے سکتی۔مگر افسوس موجودہ دور کا انسان ایک شدید قسم کے اخلاقی بحران کا شکار ہے کیونکہ موجودہ دُور میں انسانیت کی تمام قدریں اس حد تک مٹ چکی ہیں کہ ستم ظریفی دیکھیں، حیوانیت بھی اس پر ماتم کناں ہے۔زندگی کا فلسفہ’’یہ بھی میرا،یہ سارا میرا،سب کچھ میرا اور صرف میں میں میں۔۔۔‘‘ تک محدود ہو گیا ہے۔ اب سب انسان اس سوچ کے تحت اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں اگر دیکھا جائے توایک قوم دوسری قوم کو ہڑپ کرنے کے درپے نظر آتی ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ حقارت آمیز رویہ رکھے ہوئے ہے۔محبت کے سفیرانسانوں کے اندراحساس برتری کا بڑھتا ہوامکروہ جذبہ مادیت کے غلبے کا باعث بن رہا ہے اور یوں سب ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہر انسان دوسرے انسان پر خُدائی دعویٰ جمانے کی خواہش میں مبتلا ہے۔
انساں ہے گرفتار فسوں کاریٔ انساں
بنتے ہوئے بندوں کو خُدا دیکھ رہا ہوں

حضرت شیخ سعدی کے بقول زمانے کی گردش اور دنوں کی سختی سے میں کبھی دل شکستہ اور رنجیدہ نہیں ہوا تھامگر ایک بار ضرور ملال ہواجب میرے پاؤں میں جوتی نہیں تھی اور نہ خریدنے کو جیب میں پیسہ تھا۔میں اس حالت میں حیران پریشان کوفے کی جامع مسجد میں جا نکلا۔وہاں کیادیکھتا ہوں کہ ایک شخص کے پاؤں ہی نہیں ہیں۔پس میں نے اپنے پاؤں کی سلامتی پر خُدا کا شکر ادا کیا اور ننگے پاؤں رہنا ہی غنیمت سمجھا۔ یہ ہے وہ طریقہ جو ہمارے آباؤ اجداد اور صوفیاء کرام کا شیوہ رہا تھا وہ سب اپنے نبی ﷺکی ہمیشہ زندہ رہنے والی روایات اور تعلیمات کے امین تھے مگر افسوس ہماری غفلت کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کی محبت اور آخرت سے دُوری ہماری زندگی میں داخل ہوتی گئی۔ اس دور میں اﷲ رب العزت جس کو چند روزہ عزت عطا فرماتے ہیں وہ مستقل دعویدار بن جاتا ہے اور یوں بادشاہی اور حکمرانی کا سلسلہ نسل در نسل چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ہم جس وطن کے باشندے ہیں وہاں آزادی کے بعد سے ایک مخصوص طبقہ ہی مسند اقتدار پر براجمان رہا ہے اور اگر کبھی اُن کے نسل در نسل اقتدار کے سورج کو کسی آندھی نے گہنا دینا چاہا تومفاد پرستوں کے ٹولے اُس آندھی کے طوفان کو اس انداز میں روکتے ہیں کہ جہاں اخلاقیات اور نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ مقصد میں کامیابی میں ہی سب کی بقا مشروط ہوتی ہے ۔اس موقع پر ذاتی مفاد اور ذاتی ترجیحات ہی سب کی منشاء ہوتی ہیں۔پانامہ سکینڈل،اقامہ،جعلی اکاؤنٹس،ٹی ٹی ایز اور کرپشن کی سٹوری کے ساتھ ساتھ چلتی دوسری فلم میں سندھ کی بربادی،ترقیاتی فنڈز کی سوغات،بے نامی اکاؤنٹس اور لوٹ مار کی غضب ناکیاں جب ماند پڑی تو ایک نئی فلم شروع ہو گئی جس میں ناکام اداکاروں کے ساتھ ساتھ دوسرے درجے کے اداکار شامل تھے۔اس فلم نے پچھلے چند ماہ تہلکہ آمیز اورریکارڈ توڑ جشن منایا مگر لاہور کے ناکام جلسے کے بعد جشن پھیکا پڑ گیا تھا چنانچہ استعفوں کے موقف سے بھی پیچھے ہٹنا پڑامگر موجودہ ضمنی الیکشنز کے نتائج نے ایک بار پھر قومی سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے۔حکومتی نااہلی اور پی ٹی آئی کی غیر منظم قیادت نے گھبرائی اور ہاری ہوئی اپوزیشن کو پھر سے اُٹھا دیا ہے۔سینٹ کے الیکشن پر رائے زنی کرنے والے اکثر تجزیہ نگار اب تک اسلام آباد کی سیٹ پر سید یوسف رضا گیلانی کے الیکشن کو چائے کی پیالی میں طوفان سے تشبیہ دے رہے تھے مگر ضمنی الیکشنزکے بعد نون لیگ کا عوامی سطح پر فرنٹ فٹ پر کھیلنا،سینٹ میں پی ٹی آئی کے لیے خطرناک انتخابی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ وہ جو کسی سیانے بابے نے کہا ہے کہ جب بند گلی میں پھنس جاؤ تو جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا پڑتا ہے چنانچہ اب عمران خان کو پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے ہوں گے اوراپنی صفوں میں شامل غداروں کو تلاش کر کے بے نقاب بھی کرنا ہوگا خصوصی طور پر نوشہرہ کاالیکشن نتیجہ حکومت کے لیے بہترین سبق ہے۔یاد رہے کہ نفس وہ بھوکا کُتا ہے جو انسان سے غلط کام کروانے کے لیے اس وقت تک بھونکتا رہتا ہے جب تک وہ غلط کام کرو انہ لے ۔جب انسان وہ کام کر لیتا ہے تو یہ کُتا سو جاتا ہے لیکن سونے سے پہلے ضمیرکو ضرورجگا جاتا ہے۔جو انسان اس نفس کا غلام بن گیا تو گویا اُس نے ذلت کا سودا کر لیا ۔کیونکہ سارے جہان کی بادشاہی میرے اﷲ کے لیے مخصوص ہے اور جس نے اُس میں شریک بننا چاہا توگویا رسوائی اُس کے دامن میں بھر دی جائے گی۔ میرے اﷲ کا فرمان ہے’’اُور وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اُور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے‘‘۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Amin

Read More Articles by Imran Amin: 37 Articles with 7203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 76

Comments

آپ کی رائے