سچ تو یہ ہے (۳۶ واں حصہ)

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر۲۵۲
کریم بخش اپنے مویشیوں کوپانی پلارہاہے نورالعین اس کاہاتھ بٹارہی ہے
نورالعین۔۔۔۔رات کوآپ نے کہاتھا اپنے دوست کے پاس کھاناکیوں نہ کھاسکے بعدمیں بتائیں گے
کریم بخش۔۔۔۔۔یہ کہاتھا بعدمیں بتاؤں گا یہ نہیں کہاتھا کہ ابھی بتاؤں گا
نورالعین۔۔۔۔۔گائے کوکھونٹے سے باندھتے ہوئے۔۔۔۔۔ایسی کون سی بات ہے جوآپ بتانانہیں چاہتے
کریم بخش۔۔۔۔۔لوگوں کے ذاتی اورگھریلومعاملات پرپردہ ڈالناچاہیے مشہورنہیں کرناچاہیے
اسی دوران سعیداحمدبھی آجاتاہے
نورالعین۔۔۔۔۔کئی گھریلومعاملات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کوچھپایاجاتارہے تو وہ بہت بڑامسئلہ بن جاتے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔۔یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں اورشایداس معاملہ کی بات کررہے ہیں جوآپ اپنے دوست کے گھردیکھ کرآئے ہیں
نورالعین۔۔۔۔۔میں ان سے وہی توپوچھ رہی ہوں یہ بتاہی نہیں رہے
سعیداحمد۔۔۔۔کریم بخش سے۔۔۔۔عارف نے تھوڑابہت بتاتودیاہے وہ کہتاہے چچاجان اس معاملے کواچھی طرح جانتے ہیں
کریم بخش۔۔۔۔۔میرے دوست کی بے جاسختی اورناقابل برداشت رویہ کی وجہ سے اس کابیٹاذہنی دباؤکاشکارہے اس کوسکول سے نیم بیہوشی کی حالت میں لایاگیا
سعیداحمد۔۔۔۔تیرے دوست کارویہ توہروقت سخت ہوتاہوگا پھراس کے بیٹے کی یہ حالت کیوں
کریم بخش۔۔۔۔۔مولوی صاحب کہہ رہے تھے بچے نے ایساکچھ ضروردیکھ لیاہے جس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی ہے
سعیداحمد۔۔۔۔اس بچے نے ضرورکچھ ایسادیکھ لیاہے جس کووہ برداشت نہیں کرسکا
کریم بخش۔۔۔۔۔اس کاچچاکہہ رہاتھا کہ وہ جانتاہے اس بچے ایساکیادیکھ لیاہے مگروہ بتانہیں سکتا
سعیداحمد۔۔۔۔۔میں سمجھ گیاہوں کہ بات کیاہے
کریم بخش۔۔۔۔۔کیابات ہے
سعیداحمد۔۔۔۔تیرے دوست نے بچوں کے سامنے اپنی بیوی پرتشددکیاہے جس کااثراس کے بیٹے پرپڑاہے
کریم بخش۔۔۔۔اس معاملے میں ہم توکچھ نہیں کرسکتے
سعیداحمد۔۔۔۔۔مجھے اس کے پاس لے چلو پھربتاؤں گاکہ ہم کیاکرسکتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۳
عبدالمجیدکے گھرکے باہرپانچ چارپائیاں اوردس کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک چارپائی پراحمدبخش بیٹھاہے۔ کرسیوں پرفیاض اوراحمدبخش کے دونوں دوست بیٹھے ہیں۔ مولوی صاحب اورحکیم صاحب الگ الگ چارپائیوں پربیٹھے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔احمدبخش سے۔۔۔۔۔بیٹا بتاؤ کیاہواتھا
جاوید۔۔۔۔۔یہ رات میرے گھرمیں تھا ہم اس سے پوچھنے کی کوشش کرتے رہے اس نے کچھ نہیں بتایا جب سے نیندسے بیدارہواہے خاموش ہے
مولوی صاحب۔۔۔۔۔بیٹا چپ کیوں ہو بتاؤ کیاہوا تھا بتاؤگے نہیں تو
احمدبخش اب بھی خاموش ہے
مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔یہ توبول بھی نہیں رہا
حکیم صاحب۔۔۔۔۔یہ نہیں بتارہا توگھرمیں سے کوئی اورشخص توبتاسکتاہے کہ یہ کیوں خاموش ہے
بشیراحمد۔۔۔۔جوکچھ اس نے دیکھاہے وہ بتانہیں سکتا
عبدالرحیم ۔۔۔۔۔عبدالمجیدسے۔۔۔۔ابوآپ کہتے ہیں ناسچ بولاکرو مجھے سچ بتاؤ صرف سچ بتاؤ
عبدالمجید۔۔۔۔۔مجھے جھوٹ سے نفرت ہے میں سچ سنناچاہتاہوں میں سچ سنناپسندکرتاہوں
عبدالرحیم۔۔۔۔مولوی صاحب بھائی سے جوپوچھ رہے ہیں میں وہ بتادوں
احمدبخش کوماں کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں مجھے باہرنکالو دروازہ کھولو احمدبخش اپناسراٹھاتاہے کان لگاکرکچھ سننے کی کوشش کرنے لگتاہے مولوی صاحب اس سے کچھ پوچھنے لگتے ہیں تووہ انہیں اشارے سے روک کراشاروں میں بتاتاہے اسے آوازیں سنائی دے رہی ہیں
بشیراحمد۔۔۔۔۔ہمیں توکوئی آوازنہیں آرہی
حکیم صاحب۔۔۔۔۔اس کووہ آوازیں سنائی دے رہی ہیں جن کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی ہے
عبدالرحیم۔۔۔۔۔میں بتاتاہوں بھائی کوکیاسنائی دے رہاہے
عبدالمجید۔۔۔۔۔توخاموش رہ بڑوں میں بچے نہیں بولتے
عبدالرحیم ۔۔۔۔۔آپ خود توکہتے ہیں سچ بولاکرو اب مجھے چپ کیوں کرارہے ہیں بتانے دو کہ سچ کیاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۴
اریبہ۔۔۔۔سمیراسے۔۔۔۔رات تومولوی صاحب چلے گئے تھے اب آگئے ہوں گے میں بھی تیراساتھ دیتی ہوں اچھے سے دوتین پکوان تیارکرلو
سمیرا۔۔۔۔۔ابواورفیاض چچاکے گھرگئے ہیں ان میں سے کوئی آجائے کھاناپھرتیارکریں گی
اریبہ۔۔۔۔وہ نہ جانے کب تک آئیں تم کھاناتیارکرو
سمیرا۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ کھانا کتنے لوگوں کابناناہے
اریبہ۔۔۔۔۔پانچ افرادکے لیے بنادو
سمیرا۔۔۔۔۔کھانے والے زیادہ ہوگئے تو
اسی دوران فیاض آجاتاہے
فیاض۔۔۔۔۔ابوکہہ رہے ہیں بیس افرادکاکھانابنادیں بلکہ پچیس افرادکاکھانابنادیں
فیاض یہ کہہ کرچلاجاتاہے
سمیرا۔۔۔۔آپ پانچ افرادکاکہہ رہی تھیں بھائی پچیس افرادکاکہہ کرگئے ہیں
اریبہ۔۔۔۔۔میں نے توصرف اندازے سے کہہ دیاتھا
سمیرا۔۔۔۔وہ یہ کھاناتودوپہرکوکھائیں گے ہمیں پہلے ناشتہ تیارکرناچاہیے
اریبہ۔۔۔۔اب دیرہوچکی ہے ناشتہ ان لوگوں نے کرلیاہوگا
سمیرا۔۔۔۔ابواوربھائی نے توابھی ناشتہ بھی نہیں کیا
اریبہ۔۔۔۔ناشتہ بناناہوتا تو فیاض کہہ کرجاتا اس نے توکھانے کاکہاہے
اسی دوران صابراں کی بہن آجاتی ہے اورکہتی ہے ناشتہ اورچائے ہم نے تیارکرلی ہے ابوچچاکے گھرمیں ہیں میں فیاض کوبلانے آئی تھی کہ مہمانوں کاناشتہ لے جائے
سمیرا۔۔۔۔۔بھائی ابھی کھانابنانے کاکہہ کرگئے ہیں
صابراں کی بہن۔۔۔۔فیاض آئے تواسے ہمارے گھربھیج دینا ناشتہ اورچائے لے جائے گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۵
مولوی صاحب۔۔۔۔۔یہ بچہ کوئی بات بتانے کی کوشش کررہاہے
عبدالمجید۔۔۔۔۔مولوی صاحب بچوں کی باتوں پرتوجہ نہ دیاکریں یہ توکچھ بھی کہہ دیتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔۔آپ جس طرح بچے کوبولنے سے روک رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بات ضرورہے
حکیم صاحب۔۔۔۔۔میں بھی یہ بات نوٹ کررہاہوں کہ یہ بچہ کوئی بات بتاناچاہتاہے
جاوید احمدبخش کے سرپرہاتھ رکھتاہے اسے پیارکرتاہے اورکہتاہے بیٹا مولوی صاحب اورحکیم صاحب تجھ سے کچھ پوچھ رہے ہیں
احمدبخش کووہ کمرہ دکھائی دیتاہے جس میں اس کی ماں بندتھی ساتھ ہی ماں کی آوازبھی سنائی دینے لگتی ہے دروازہ کھولو کوئی ہے مجھے باہرنکالو
بشیراحمد۔۔۔۔احمدبخش بیٹا کیاسوچ رہے ہو بیٹا بولو کچھ توبولو
مولوی صاحب۔۔۔۔بولوبیٹا سب تیری وجہ سے پریشان ہیں
احمدبخش کامنہ ایسے ہوگیاہے جیسے وہ رورہاہو احمدبخش کانپتے ہوئے اپناہاتھ اوپراٹھاتاہے ۷۵ درجے زاویے سے انگلی کااشارہ کرتاہے وہاں پرموجود تمام افراد اس کی طرف متوجہ ہوچکے ہیں کہ یہ کچھ بتانے کی کوشش کررہاہے
احمدبخش۔۔۔۔انگلی کے اشارے کوبرقراررکھتے ہوئے وہ و و وہ
جاوید۔۔۔۔۔۔ہاں ہاں بولوبیٹا وہ کیا وہ
احمدبخش۔۔۔۔۔۔سراپنے بازو پررکھتاہے پھراٹھا کرکہتا ہے وہ وہ امی کو
جیسے ہی احمدبخش یہ لفظ کہتاہے اس کے ساتھ ہی اپنے باپ کوغصے میں دیکھ لیتاہے عبدالمجید ہاتھ کے اشارے سے احمدبخش کوخاموش ہوجانے کااشارہ کرنے لگتاہے تومولوی صاحب اوربشیراحمددیکھ لیتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔۔بشیراحمدسے۔۔۔۔اتنی دیرکے بعدبچہ بولنے لگاتھا کہ آپ کے بھائی نے اسے خاموش کرادیا
بشیراحمد۔۔۔۔عبدالمجیدسے۔۔۔۔۔اس دن توآپ کہہ رہے تھے کہ میں سچ سنناچاہتاہوں کہ یہ جھوٹ بول رہاہے آج ایک بیٹے کوتونے پہلے چپ کرادیا اوراتنی دیرکے بعد احمدبخش بولنے لگاتواسے بھی خاموش کرادیا بچوں کوسچ بتانے سے کیوں روک رہے ہو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۶
ایک کمرے میں مربع شکل میں رکھی ہوئی تیس کرسیوں پرمہمان بیٹھے ہیں۔ ایک شخص قرآن پاک کی تلاوت کرتاہے۔ ایک اورشخص علامہ ریاض الدین سہروردی کالکھاہوانعتیہ کلام سناتاہے۔اس کے بعدگفتگوکاسلسلہ شروع ہوتاہے ۔
رشیداحمد۔۔۔۔۔بچوں اوربچیوں کے مقابلے تومسجدمیں ہوں گے ۔لڑکوں کے مقابلوں کے لیے کسی میدان اورلڑکیوں کے لیے کسی بڑے صحن والے گھرکاانتظام کرناہوگا
عمیرنواز۔۔۔۔۔لڑکوں کے مقابلوں کے لیے کسی میدان کاچناؤکرلیں
ناصراقبال۔۔۔۔۔لڑکیوں کے مقابلوں کے لیے کسی میدان کی ضرورت نہیں رہی
رشیداحمد۔۔۔۔کیالرکیوں کے مقابلے نہیں کرائے جارہے
ناصراقبال۔۔۔۔ان کے مقابلے توضرورہوں گے اب توپکوان کاسامان دینارہ گیاہے باقی انتظامات توہوگئے ہیں
رشیداحمد۔۔۔۔۔ایساہے توپھرگھرکاانتظام کرنے کی ضرورت کیوں نہیں ہے
ظفراقبال۔۔۔۔۔خواتین کی کمیٹی نے ایسافیصلہ کیاہے کہ لڑکیوں کے مقابلے بھی ہوجائیں گے اوراس کے لیے کسی گھرکے انتظام کی ضرورت بھی نہیں رہی
رشیداحمد۔۔۔۔۔خواتین کی کمیٹی نے ایساکیافیصلہ کیاہے
ارشدجمال۔۔۔۔۔مقابلوں میں حصہ لینے والی لڑکیاں پکوان گھروں میں تیارکریں گی اورہمارے نمائندے کودے دیں گی جوگھرگھرجاکرلے آئے گا
اخترحسین۔۔۔۔۔یہ توبہت اچھافیصلہ ہے اس طرح خواتین گھروں کے کام بھی کرتی رہیں گی اورپکوان بھی بنالیں گی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۷
عبدالمجید۔۔۔۔۔بچوں کونہیں پتہ ہوتا کہ کیابولناہے کیانہیں بولنا میں تواس لیے
جاوید۔۔۔۔۔جب تک یہ نہیں بتائے گا کہ اس کے ساتھ کیاہواہے مسئلہ کاحل کیسے نکالیں گے
عبدالمجید۔۔۔۔۔میں باربارکہہ چکاہوں اسے کچھ نہیں ہوا یہ صرف کام نہ کرنے کابہانہ بنارہاہے
حکیم صاحب۔۔۔۔اس کی حالت بتارہی ہے یہ بہانہ نہیں ہے
مولوی صاحب۔۔۔۔۔یہ بچہ باپ کے ڈرکی وجہ سے کچھ نہیں بتارہا ہم توچلے جائیں گے بچے نے زبان کھول دی تو اس کی سخت سزابھی اسے بھگتناپڑے گی
حکیم صاحب۔۔۔۔۔مجھے بھی ایساہی لگتاہے
جاوید۔۔۔۔۔یہ بھی توہوسکتاہے بچہ زیادہ لوگوں کی وجہ سے نہ بتاپارہاہو
بشیراحمد۔۔۔۔۔مولوی صاحب اورحکیم صاحب کی بات درست ہے مولوی صاحب بھائی جان کے مزاج کواچھی طرح سمجھتے ہیں
حکیم صاحب۔۔۔۔بچہ ماں کانام لے رہاتھا پھرچپ ہوگیا کہیں اس کی ماں نے تواسے نہیں ڈانٹا
بشیراحمد۔۔۔۔اس کی ماں بچوں کونہیں ڈانٹتی
حکیم صاحب۔۔۔۔ایساہے توپھراس کے سامنے اس کی ماں پرضرورتشددہواہے
بشیراحمد۔۔۔۔گھروں میں نونک جھونک توہوجاتی ہے اتناتشددکیاجائے کہ بچے ذہنی دباؤ میں آجائیں یہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا
حکیم صاحب۔۔۔۔آپ خودہی سمجھ دارہیں بچے نے جیسے ہی ماں کانام لیا آپ کے بھائی نے اسے چپ کرادیا اسی دوران فیاض اوراحمدبخش کے دونوں دوست ناشتہ ،چائے اورپانی لے آتے ہیں
جاوید۔۔۔۔۔آپ سب لوگ ناشتہ کرلیں اس کے بعددیکھیں گے کہ کیاکرناہے
ایک شخص۔۔۔۔اس تکلف کی کیاضرورت تھی
بشیراحمد۔۔۔۔۔یہ تکلف نہیں مہمان نوازی ہے فیاض، عرفان اوراشرف سب کے سامنے ناشتہ لگادیتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۵۸
کریمم بخش ۔۔۔۔سعیداحمدسے۔۔۔۔۔میں آپ کواس کے گھرلے جاؤں گا مگررشتہ داروں کی دعوت کے بعد
سعیداحمد۔۔۔۔دعوت میں توابھی دن پڑے ہیں
کریم بخش۔۔۔۔آپ اس بچے کی حالت دیکھیں گے تورشتہ داروں سے بات نہیں کرسکیں گے
سعیداحمد۔۔۔۔ٹھیک ہے دعوت کے بعدچلے جائیں گے
کریم بخش۔۔۔۔اورکوئی بات
سعیداحمد۔۔۔۔۔آپ سے ایک اورضروری بات بھی کرنی تھی
کریم بخش۔۔۔۔۔جی میں سن رہاہوں
سعیداحمد۔۔۔۔میں اپنے دونوں بیٹوں کودودن کے لیے سیرکرنے بھیج رہاہوں وہ جمعہ کوناشتہ کرکے جائیں گے اورہفتہ کورات کے وقت واپس آئیں گے
کریم بخش۔۔۔۔اس دن تودعوت ہے
سعیداحمد۔۔۔۔اسی لیے توبھیج رہاہوں آپ بھی دکاندارسے کہہ دیں کہ وہ اس جمعہ کوطارق کوچھٹی نہ دے اوراس میں آپ کانام بھی نہ آئے افضل کوجلدی سلادینا
کریم بخش۔۔۔۔۔کہتاہے بھائی جان آپ اپنے بیٹوں کوسیرکرنے بھیج رہے ہیں اورمجھے بھی یہ کہہ رہے ہیں ایساکیوں ہے
سعیداحمد۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ بچوں کواس دعوت کے بارے میں پتہ چلے اوریہ بھی نہیں چاہتاکہ ہم نے جوباتیں کرنی ہیں وہ باتیں بچے سنیں
کریم بخش۔۔۔۔آپ ایسااس لیے کررہے ہیں تاکہ بچوں کے سامنے شکست تسلیم کرتے ہوئے
سعیداحمد۔۔۔۔ہاں میں اس لیے ہی ایساکررہاہوں
کریم بخش۔۔۔۔۔آپ غلط کررہے ہیں میں اس سے متفق نہیں ہوں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 154580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 128

Comments

آپ کی رائے