میں مرد ھوں مجھے گالی کیوں دی

(Azra Faiz, wah)
زبان کاٹ کے رکھ لو میری تم اپنے پاس
مار کھا کر یہی تو بولتی ہے

میں نے گاڑی آفس کی بجائے اپنی کام والی رابعہ کے گھر کی جانب موڑی---سارا گھر بکھرا پڑا ہے اور اس میڈم کو چھٹیاں کرنے سے فرصت نہیں--آج تو اسے نہیں چھوڑوں گی ---میں نے غصے سے گاڑی اس کی گلی میں موڑتے ہوے سوچا--

سامنے کا منظردیکھ کر میں حیران رہ گّی--رابعہ کا شوہر اسے گلی میں گھسیٹ گھسیٹ کر مار رہا تھا ---اسکے بکھرے بالوں کے گچھے بتا رہے تھے کہ اسے بے دردی سے نوچا گیا ہے---چہرے پہ کالک بتا رہی تھی کہ اس کے شوہر نے اپنے ہاتھ کا آرٹ توے کے پیچھے سے لے کر اس کے چہرے پر بنایا تھا---اس کا شوہر کسی ریسلر کی طرح اس کے پیٹ میں لاتیں مار رہا تھا اور کہہ رہا تھا پھر دے گی گالی،گندی ، گھٹیا ،غلیظ عورت۔ بے حیا ۔بد کردار ،آوارہ ،بد چلن ،بے غیرت تو مجھے گالی دے گی --تیری زبان کاٹ دوں گا جہنمی عورت ،شوہر کو گالی دیتی ہے ----کتا کہتی ہے مجھے تو آج تجھے بتاوں گا میں تجھے کتیا ! گالی دینے کا انجام کیا ہوتا ہے ---مجھے بے غیرت کہتی ہے ! اس کے شوہر نے اس کا دوپٹہ جو رابعہ کے سر سے تو اس کے شوہر نے پہلے اتار دیا تھا اب رابعہ کے سینے سے بھی اتار کر پھینک دیا ---محلے کی دوسری عورتیں جو اپنے ادھ کھلے دروازوں سے تماشا دیکھ رہی تھیں دوپٹوں سے منہ چھپاے کھڑی تھیں --کچھ چھت پر سر کو اوپر کے انکھوں خالی بے پردہ کے عورت کو بے پردہ دیکھ رہی تھیں ---ساتھ والے گھر سے کسی مرد کی آواز آیی “یہی انجام ہونا چاہیے ان بے غیرت عورتوں کا جو اپنے شوہروں کو گالی دیتی ہیں --ان عورتوں کی تو سر عام زبان کاٹ دینی چاہیے ---چلو اندر آؤ دروازے میں کھڑے ہوکر کیا اس گندی عورت کا تماشا دیکھ رہی ہو --ساری عورتیں اپنی عزت بچاتیں ،دروازے بند کرتیں ،چھت سے اترتیں اپنے خاوندوں کی خدمت میں جت گیں -

میں رابعہ کو اس کے شوہر سے چھڑا کر گھر لے آئی--مرہم پٹی کی ---وہ ابھی بھی ہچکیوں سے رو رہی تھی ---خود کو گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہی تھی میں ہی گھٹیا ،گندی ،بدزبان عورت ہوں ---میری سزا یہی ہونی چاہے تھی جی---اللہ نے مجھے سزا دی ہے --ایسے ہی آپ کی باتوں میں آگئی تھی---عورتوں کے حقوق کونسے جی--- اللہ نے کتے ،بلی بھی تو بنائے ہیں جی ---شکر ہے مجھے عورت بنایا ہے کوئی بات نہیں جی مرد ہمارے حاکم ہیں ---وہ گالی دے سکتے ہیں --مار سکتے ہیں ان کا حق ہے جی--میرا منا دودھ کے لیے رو رہا ہوگا جی --مجھے نہیں چاہیے کوئی حق ---میں نے نہیں بولنا اپنے مجازی کے خلاف کچھ --اس دنیا میں تو کوئی خوشی ملی نہیں اب اپنے مجازی خدا کے خلاف بول کر خدا بھی ناراض کر دوں اور قیامت میں پھر اس کی مار بھی کھاؤں ---اللہ نے مجھے سزا دی ہے جی---جب تک چپ تھی تو وہ گھر میں مارتا تھا ،محلہ خالی اس کی آواز سنتا تھا یا میرے رونے کی--پوچھنے پر بول دیتی تھی میری غلطی تھی سالن میں نمک ڈالوں گی تو غصہ تو کرے گا ---مگر اب تو جی سارے محلے کے سامنے میں نے اپنے شوہر کو بے عزت کردیا جی----لوگ اس کا مذاق اڑایں گے کہ میں نے اسے گالی دی تھی---وہ مرد ہے جی اسے بے غیرت کہیں گے تو غیرت تو آئے گی نا ! ایسی عورتوں کے دوپٹے اتار لینے چاہیں جی--اس نے ٹھیک کیا ----توے سے منہہ کالا کردیا تھا اسنے تو میں نے بھی تو گالی دی تھی لوگ میرا منہہ کالا کرتے تو کیا اچھا ہوتا اسی نے کر دیا---میں اس کے پاؤں پکڑ کر اسے منا لوں گی جی میرا منا رورہا ہوگا --وہ جی گالیاں دیتا ہے مارتا ہے مگر دل کا بڑا نرم ہے --غیرتی ہے جی عزت دار ہے گالی کیسے برداشت کرتا ---مجھے چھوڑ آئیں جی !منا رو رہا ہوگا-میں نے اس کی سوجی ہویی آنکھوں سے آنسو کی لڑی بتا رہی تھی کہ اس کا منا واقعی رو رہا ہوگا -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: azra faiz

Read More Articles by azra faiz: 39 Articles with 45500 views »
I belong to a baloach family .I born in a village ,got my primary education under a tree and higher education from the well reputed institute in Karac.. View More
16 Mar, 2021 Views: 188

Comments

آپ کی رائے