رمضان مبارک مومنوں!

اگر رمضان میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے تو اسکے پیچھے کوئی مقصد تو ہوگا اور ہے بھی اللہ نے جیسا فرمایا کے روضے ہم پر اور ہمارے سے پہلوں پر فرض کیے گے تھے تاکہ ہم متقی ہوجائیں.

رمضان کے تیس دن آرمی کی اس ٹریننگ کی طرح ہوتے ہیں کہ جس میں آرمی والوں کو لڑنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ جنگ کے درمیان جب دشمن ان پر حملہ آور ہو تو اس سے وہ اپنا بچاؤ بھی کر سکے اور ان کے حملے کا جواب دیتے ہوئے ایسا حملے کریں کے دشمن کے پیر اکھڑ جائے ٹھیک اسی طرح رمضان کے یہ تیس دن بھی ہمارے لیے ایک اہم موقعہ ہے کے ہم شیطان کی قید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کے احکامات اور ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے … متقی ہو جاؤ کیونکہ رمضان کا مقصد ہی یہ ہے کہ اپکو زہنی اور جسمانی طور پر تاقتوار کرنا ہے تاکہ جب باقی کہ گیارہ مہینے اپکا سامنا باطل سے ہو (وہ ہمارا نفس بھی ہو سکتا ہے اور ابلیس اور اسکے قارندے بھی ہو سکتے ہیں) تو ہم پہلے سے زیادہ تیار اور تاقتور ہوں اور شیطان سے لڑ سکے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم بھوکہ پیاسا رہ کر پورا دن مشقت کر کے اپنے غریب کے اوپر جو بیتتی ہے اسکا ہمیں تھوڑا بہت اندازہ لگا سکے تاکہ ہمارے اندر انکی مدد کرنے کا جزبہ پیدا ہو اور اسطرح ہمارا معاشرہ اور مضبوط ہو اور انکے اندر اخوت اور ایثار کا جزبہ مزید بڑھے.

تو اسی لیے اس کریم مہینے کے مقصد کو سمجھتے ہوئے احکاماتِ خدا وندی کو بجا لائے اسی میں ہمارا ہی کوئی بھلا ہے یقین.

لیکن اگر یہ ماہ اسی طرح گزر جاتا ہے میں روزے بھی پورے رکھتا ہوں اور پھر بھی میں زہنی اور جسمانی طور پر اسی طرح ہوں جسطرح رمضان سے پہلے تھا یا اگر میرے میں کوئی اچھا بدلاؤ نہیں آتا تو کوئی شک نہیں کہ میں رمضان کا فائدہ نہ اٹھا پایا اور میں نے یہ موقع ضائع کردیا اور جیسا کے نبی پاکﷺ نے کیا بہترین سیدھی اور آسان بات کی ہے کہ اگر آپ روزہ رکھتے ہو لیکن پھر بھی اپنے برے عمل سے باز نہیں آتے تو یہ جان لو اپکے بھوکے پیاسے رہنے میں نہ ہی اپکو فائدہ ہے نہ ہی اللہ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے مطلب نبی پاکﷺ نے بھوکا پیاسا کہا ہے مطلب اسکے 15 گھنٹے کا مشکل روزہ رکھا لیکن اسکا بھوکہ پیاسا رہنے تک کو روزہ نہیں کہا گیا کیونکہ اس نے احکامات پر عمل نہ کیا اسی طرح پیارے ایمان والو! کرونا کہ اس مشکل وقت میں تب جب باطل کا بول بالا ہے اور ڈڑ اور جھوٹ کی حکمرانی ہے اور ابلیس تاقت کے نشے میں چوڑ اپنے انجام سے نا انجان ہے اور حق و سچ باطل کے خلاف اس طرح سرگرمِ عمل نہیں ہے یا کمزور ہیں یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ اللہ کہ نیک بندے وہ جسکو وہ مومنین کہتا ہے اپنی زمہ داری کا احساس کریں اور اس ماہ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ پر کام کریں اور شیطان کے خلاف اس جنگ میں حق کا ساتھ دیں تاکہ ہمارا شمار بھی اللہ کے نیک اور متقی لوگوں میں ہو اور ہم پر بھی فضل الرحمن ہو اور دنیا اور آخرت میں ہم کامیاب و کامران ہوں اور جنت میں محفلِ سرکار دو جہاں یا مصطفٰی آقا کریم حضرت محمدﷺ کی محفل میں جگہ مل سکے اور وہ ہم ہر ناز کریں ہم پر شرمندہ نہ ہوں امین.

اور یاد رکھیں باطل کی رات جتنی ہی تاریک اور گھنی ہو جب حق کا سورج ابھرے گا تو صبح ہوجائے گی اور رات اور اندھیرا جتنا مرضی تاقتور کیوں نہ ہو حتم ہوجائے گا اور بے شک باطل ہے ہی مٹنے کو.
رمضان مبارک.
 

Ibtisam Haider
About the Author: Ibtisam Haider Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.