دم غافل

(Maryam Arif, Karachi)

مہوش کرن، اسلام آباد
با ادب با ملاحظہ ہوشیار، باب ریان میں داخلے کا موقع ملنے والا ہے۔ اور فی الحال ہم ایک بار پھر اس کورونا کے ساتھ ہی رمضان میں داخل ہونے والے ہیں۔ اس لیے اب یہ رونا بند کردیں کہ ہمارے پاس کوئی کام والی نہیں ہے۔ اتنے دنوں میں بھی آپ سب کو عادت نہیں ہوئی، اگر نہیں ہوئی تو ذرا سوچیں اپنے ارد گرد ان عورتوں کے بارے میں جو لاک ڈاؤن سے پہلے بھی بغیر کسی مدد کے گھر کے سارے کام کرتی تھیں یا ان کے بارے میں جن کے بچے ہوم اسکولرز ہیں۔ اگر تو وہ بھی ایسے ہی شور مچاتی تھیں تو ان کی غلطی ہے لیکن اگر وہ صبر سے رہتی تھیں تو جناب آپ نے ان سے کیا سیکھا؟

کوئی بات نہیں اب سیکھ لیجیے، نیک کام میں دیر کیسی۔ ساتھ ہی انہیں بھی فون کرکے سراہیں اور اگر ان کے مرد آپ کے کسی طرح رشتہ دار ہیں تو انہیں بھی احساس دلائیے کہ ان کے گھر کی عورتیں واقعی روزانہ کی بنیاد پر بڑا کام کرتی ہیں۔

پتا ہے کسی بھی بیوی یا ماں کو گھر کے کام برے نہیں لگتے بس اگر اسے گھر کی ملکہ سے ہٹا کر نوکرانی کا درجہ دے دیا جائے تو اسے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو آئیے اسے اس تکلیف سے بچائیں۔ تو کیا ہوا اگر ہم خود بھی عورت ہیں، مرہم تو کوئی بھی رکھ سکتا ہے نا تو آئیں مرہم رکھنے میں پہل کریں۔ کیونکہ یہ مہینہ ہے صلح رحمی اور باہمی ہمدردی کا۔

رمضان کی تیاریوں کے سلسلے میں بہت عجیب میسجز نظر سے گزرے کہ رمضان کے کام پہلے سے کرکے رکھنے میں اگر چٹنیاں بنانا یا دال پیسنا مناسب لگتا ہے تو چاول تک بھگو کر، پانی چھان کر پلاسٹک میں رکھ دیں۔ یعنی کہ اتنا سا بھی کام عورت کے لیے روزے میں کرنا مشکل ہوگیا ہے؟ جبکہ ہماری ماؤں نے تو کتنا کتنا کام کیا ہے اور ماتھے پر ایک بل نہیں دکھا۔ شاید آج کی عورت یہ بھول گئی ہے کہ روزے میں گھر والوں کی خدمت کرنا کیا کم باعثِ سعادت ہے اور پھر تھک کر اپنی نیندیں قربان کرکے اﷲ کی عبادت کرنا بھی کم باعث اجر نہیں ہوگا، ان شاء اﷲ۔ تو آئیں روزانہ اپنا تزکیہ کریں، اﷲ سے تجدیدِ وفا کریں کیونکہ یہ مہینہ ہے تقوی حاصل کرنے کا، اپنے دل میں تقوی کا بیج بونے کا، متقی بننے کا۔ یہی کام ہمارے لیے صدقہ بن سکتے ہیں اور بچوں کو بھی صدقہ و خیرات سکھائیں تاکہ ان کا کیا ہوا صدقہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے اور اس طرح اس بابرکت مہینے میں ان گنت صدقہ ہوجائے گا۔
اگر کام پہلے سے کر بھی لیے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عبادت کرنے کے لیے یہ کام پہلے سے کر کے رکھے اور پھر فرصت میں پورا مہینہ سو سو کر گزار دیا۔ عبادات میں تو مشغول رہنا ہی ہے۔ فجر سے اشراق، قرآن کے مطالب کا ترجمہ و تفسیر، عشاء سے تہجد، سحر میں استغفار، افطار میں دعائیں، ہر لمحہ ذکر ہی ذکر کیونکہ یہ تو ہے ہی ذکر کا مہینہ کہ ذکر کا مطلب ہے بھولی ہوئی بات کو دہراتے جانا۔ گناہوں پر شرمسار ہونا، توبہ و معافی مانگتے رہنا۔ خاص کر آخری عشرے کو بہت اہمیت دینا، بے پرواہی میں روزے نہ گزار دینا بلکہ مستقل اﷲ کی موجودگی کا احساس ہر ہر عمل کی ادائیگی کے وقت ذہن میں زندہ رکھنا ہے۔

یہ کیا کہ رمضان آئے تو گھر کی صفائی کریں اگر ہر وقت ضرورت کے مطابق صفائی رکھی جائے تو آخری وقت میں مشکل نہیں ہوگی. اسی طرح اگر دل و دماغ بھی ہر وقت صاف ستھرا رکھا جائے تو بھلا روزوں میں اضافی کام کیوں ہو؟ کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ روزے کی حالت میں تو صرف حلال کاموں سے اجتناب کرنا ہوتا ہے کیونکہ حرام کاموں سے تو روزے کے علاوہ بھی ہر وقت بچنے کا حکم ہے۔ کیا عام دنوں میں لغو باتیں، بے حیائی، لڑائی جھگڑے جائز ہو جاتے ہیں؟ نہیں نا۔

رمضان صبر کا مہینہ ہے، جس میں ٹریننگ حاصل کرکے باقی پورا سال اسی طرح زندگی گزارنا ہے، ان گناہوں اور فسق کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں سوائے اس کے کہ بندہ مومن جنت میں پہنچ جائے اور ہر قید سے آزادی مل جائے کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مطابق تو یہ زندگی مومن کے لیے ہے ہی قید خانہ، پھر بھلا مشقت اور لاک ڈاؤن سے کیسا گھبرانا؟ کیونکہ مومن جتنا زیادہ صبر کرتا ہے اتنا ہی اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ تو پھر یہ گھاٹے کا سودا تو ہرگز نہ ہوا نا؟
تو چلیں کمر کس لیں کیونکہ انسان کے ایمان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بے کار چیزوں کو چھوڑ دے اور عقل مند وہ ہی ہے جو اپنی موت کی تیاری اپنی زندگی میں کر لے۔ کیونکہ وہ شخص برباد ہوگیا جس کا آج اس کے گزرے ہوئے کل سے بہتر نہ ہو۔ (مفہومِ حدیث صلی اﷲ علیہ وسلم)

لہٰذا اب کی بار ماہِ رمضان میں یہ عہد کر لیں کہ اس مہینے کے بعد بھی شاہراہِ زندگی پر اپنے لمحات کی حفاظت کرتے ہوئے زندگی گزاریں گے کیونکہ وقت بہت کم ہے اور کام بہت پڑا ہے۔ یاد رکھیں جو دم غافل، وہ دم کافر۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1252 Articles with 528042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2021 Views: 95

Comments

آپ کی رائے