کیا شوگر کے مریض کو تربوز کھانا چاہیے؟ اور اس کا استعمال اس مرض میں مبتلا افراد کی صحت کے لیے کیسا ہے؟

 
تربوز کا موسم ہو اور اسے کھانے کا دل نہ چاہیے ایسا تو ممکن ہی نہیں- موسمِ گرما کا یہ پھل انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے- تربوز ایک ایسا پھل ہے جس کو کھانے سے جسم میں پانی کی کمی دور ہوتی ہے، ساتھ ہی گرمی کا احساس بھی کم ہوتا ہے، اس لال رنگ کے پھل میں وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامن بی سکس، فائبر، آئرن، کیلشیئم جیسے صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور اجزاء وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
 
گرمی کے اس موسم میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ شوگر کے مریض یہ پھل کھا سکتے ہیں یا نہیں اور یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
 
تو آئیے آج اس سوال کا جواب بھی آپ کو دے دیتے ہیں تاکہ آپ اگر شوگر کے مریض ہیں یا پھر آپ کا کوئی عزیز اس مرض میں مبتلا ہے تو وہ تربوز کھانے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات جان لے۔
 
 
شوگر کے مریضوں کے لئے تربوز کا استعمال کیسا ہے؟
کسی بھی پھل میں میٹھاس سے زیادہ اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی) شوگر کے مریضوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے سے گلوکوز آپ کے خون میں کتنے وقت میں جذب ہو سکتا ہے، اسے گلیسمیک انڈیکس کہتے ہیں اور شوگر کے مریضوں کے لئے یہ اہمیت رکھتا ہے۔
 
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ شوگر کے مریض میٹھی غذا بالکل نہیں کھا سکتے، اگر شوگر لیول ڈاؤن ہو تو میٹھے پھل وغیرہ کا استعمال کرنا ہی پڑتا ہے، لیکن شوگر کے مریضوں کے لئے صِرف 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں۔ لیکن اگر اس سے زیادہ مقدار لیا جائے تو خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے، اگر تربوز کی بات کی جائے تو سوا کپ تربوز میں 15 گرام کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتی ہے، ذیابیطس کے مریض اسے اس ہی مقدار میں کھا سکتے ہیں، لیکن اس مقدار سے تجاوز کرنا ان کی صحت کے لئے ہر گز ٹھیک نہیں۔
 
 
تربوز میں گلیسمک انڈیکس کی مقدار کافی زیادہ ہے لیکن گلیسمک لوڈ کافی کم، اس لئے اگر سوا کپ کے قریب ہی شوگر کے مریض تربوز کھائیں تو ان کی صحت کے لئے قابل قبول ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 Apr, 2021 Views: 3219

Comments

آپ کی رائے