رمضان المبارک اور محکمہ خوراک کے اقدامات

(Muhammad Noor-Ul-Huda, )

(صاحبزادہ شہریار سلطان ، سیکرٹری خوراک پنجاب)
عموماً رمضان المبارک میں قیمتیں بڑھانے کیلئے اشیائے خوردونوش کو ذخیرہ کر لیا جاتا ہے ۔ لیکن اس مرتبہ مختلف صورتحال دیکھنے کو ملے گی ۔ نہ صرف قیمتوں میں استحکام رہے گا بلکہ لوگوں کو صحیح معنوں میں ریلیف بھی حاصل ہوگا ۔ ماہ رمضان میں عوام کو اشیائے خوردونوش کی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کیلئے پنجاب حکومت پوری طرح متحرک ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ خوراک پنجاب نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ۔ مطلوبہ اشیاء کی طلب و رسد کا جائزہ لیتے ہوئے اس متعلق پیشگی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے ۔ اشیاء کے معیار اور مسلسل فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا جس کو یقینی بنانے کے لئے تمام اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

عوام کو سہولت دینا وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن ہے اور حکومت عام آدمی کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور سہولیات کی فراہمی پر پوری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ اسی تناظر میں حکومت پنجاب نے 7 ارب روپے کا ’’رمضان پیکج‘‘ بھی اناؤنس کیا ہے جس کے تحت صارف کو آٹا ، چینی اور دیگر ضروری اجناس بھاری سبسڈی پر میسر ہوں گے ۔ گندم ، چینی ، آٹے اور دیگر اجناسِ ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لئے بیشتر تجاویز تیار کی گئیں ہیں تاکہ شہریوں کوکسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ماہ رمضان میں ان تجاویز کو عملی جامہ دیا جائے گا ۔ تمام خوراک کی اجناس مارکیٹ سے 10 سے 15 روپے کم فی کلو کی قیمت پر دستیاب ہوں گی ۔ عام آدمی اس سہولت سے بھرپور استفادہ اٹھا سکے گا ۔

رمضان پیکج کے تحت پنجاب حکومت 1800روپے من گندم خرید کر فلور ملز کو1300روپے فی من میں دے گی جبکہ200روپے کی اضافی لاگت کے بعد مجموعی سبسڈی 700روپے فی من تک ہو جائے گی ۔ یہی آٹا رمضان بازاروں میں 10کلو کے تھیلے پر125 روپے کی سبسڈی کے ساتھ 375روپے میں دستیاب ہوگا ۔ یہ بہت بڑی سبسڈی ہے جو پنجاب حکومت نے محدود وسائل اور سخت مالی حالات کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کی ہے ۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی پوری کوشش ہے کہ رمضان پیکج کا زیادہ سے زیادہ بلاواسطہ فائدہ عام شہری تک پہنچ سکے ۔ لہذا صوبے بھر میں سہولت بازاروں میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق آٹے،گھی،چینی،سبزیوں،چکن اور انڈوں کی وافر مقدار میں سستے داموں اور متواتر فراہمی یقینی بنانے کیلئے محکمہ خوراک پنجاب نے مربوط منصوبہ بندی کر رکھی ہے ۔

پنجاب بھر میں 313 رمضان بازار (سہولت بازار) قائم کئے جارہے ہیں جہاں 800 سیل پوائنٹس لگائے جائیں گے ۔ ان سہولت بازاروں میں معیاری آٹا ، چینی اور دیگر اجناس کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے اور مساوی توازن لانے کیلئے سخت مانیٹرنگ عمل میں لائی جائے گی ۔ قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا محاسبہ ہوگا۔ عوام کی شکایات کے ازالے کیلئے حکومت کی مانیٹرنگ ٹیمیں موقع پر موجود رہیں گی جو زائد نرخ وصولی جیسی شکایات کی صورت میں فی الفور متعلقہ سیل پوائنٹ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائیں گی ۔ منافع خوروں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف حکومت ’’نو ٹالیرنس پالیسی‘‘ اپنائے گی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت صوبائی وزراء اور سیکرٹری صاحبان مختلف اضلاع میں رمضان بازاروں کا خود معائنہ اور سرپرائز دورے کریں گے اور صارفین سے اشیاء کے معیار اور بآسانی فراہمی بارے استفسار کریں گے ۔ حکومت پنجاب کا عزم ہے کہ رمضان بازاروں میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچائی جائیں ۔ اسی مناسبت سے سہولت بازاروں کے حوالے سے تمام امور میں حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کی جائے گی تاکہ عام صارف کو سبسڈی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کیلئے رمضان کو سہل بنایا جائے اور 7 ارب کا رمضان پیکج اسی کوشش کا تسلسل ہے ۔

رمضان المبارک کی تیاریوں پر مزید بات کی جائے تو ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کیلئے محکمہ خوراک نے سہولت بازاروں کے لئے ایک لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن گندم الگ کر لی ہے جو متواتر فلور ملوں کو فراہم کی جاتی رہے گی تاکہ آٹے کی قلت پیدا نہ ہو سکے اور بلا روک ٹوک سستا آٹا مارکیٹ میں فراہم ہوتا رہے۔ محکمہ خوراک کا سہولت بازاروں اور عام مارکیٹ میں 1 کروڑ سے زائد 10 کلو آٹے کے تھیلوں کی فراہمی یقینی بنانے کا ہدف ہے ۔ اسی ضمن میں آٹے پر 2.4 ارب روپے کی رقم سبسڈی کی مد میں خرچ ہوگی۔ تاحال پنجاب حکومت سستے آٹے کے لئے سبسڈی کی مد میں 80ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کر چکی ہے ، جس کے باعث پنجاب بھر میں آٹے کا تھیلا مقررہ قیمت860روپے میں فروخت کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی پنجاب کے تمام اضلاع میں اسی قیمت پر وافر مقدار میں آٹا دستیاب ہے۔

قبل ازیں ماہ رمضان کی تیاریوں کی بابت محکمہ خوراک نے گندم خریداری مہم کے ضمن میں کسانوں کو بلا تفریق باردانے کی تقسیم کا عمل بھی شروع کیا ہے جبکہ ماہِ مقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم خریداری مہم کا ہدف 3.5سے بڑھا کر 5ملین میٹرک ٹن مقرر کیا ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار فی ایکڑ بار دانہ کی شرط ختم کی اور کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کیلئے انہیں باردانہ موبائل ایپ کی سہولت دی گئی ۔ نہ صرف یہ بلکہ کاشتکاروں کو ترجیحی بنیادوں پر باردانہ کا اجراء بھی کیا جا رہا ہے اور ان کی شکایات کے اندراج اور راہنمائی کیلئے ہیلپ لائن نمبر بھی متعارف کروا دیا گیا ہے ۔ گندم کی امدادی قیمت بڑھاتے ہوئے کاشتکاروں کے معاشی استحکام کیلئے رواں سال 170 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم خریدی جا رہی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ مذکورہ اقدامات کی بدولت آئندہ کیلئے کسانوں کا ہریالی سے خوشحالی تک کا سفر شروع ہو جائے گا ۔ بلاشبہ کسانوں کو ان کی محنت کا بہترین معاوضہ دینا ان کا حق بھی تھا جو گذشتہ حکومتوں میں نہیں دیا گیا ۔ یقینا موجودہ حکومت پورے احساس کے ساتھ کسانوں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب نے مہنگے داموں چینی فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق اقدامات کی ہدایات دی ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے تمام ڈویژنز میں وزراء کو چینی کے نرخ مانیٹر کرنے اور حکومتی قیمتوں کے ہر صورت نفاذ کا ٹاسک دے رکھا ہے ، جبکہ متعلقہ محکموں کو چینی کے سٹاک اور نرخ کے بارے میں روزانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات بھی دی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے ماہ رمضان میں چینی کی وافر سپلائی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے ۔

حکومت پنجاب پُرامید ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی رمضان المبارک میں عوام الناس کی ارزاں نرخوں پر اشیائے خوردونوش تک رسائی یقینی بنانے حوالے سے بہترین حکمت عملی کے موثر نتائج برآمد ہوں گے اور یہ رمضان پنجاب کی عوام کیلئے صحیح معنوں میں سہل رہے گا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Noor-Ul-Huda

Read More Articles by Muhammad Noor-Ul-Huda: 43 Articles with 17321 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2021 Views: 57

Comments

آپ کی رائے