پاکستانی جے ایف 17 بمقابلہ کوریائی ایف اے 50: لڑاکا طیاروں کی جنگ میں فاتح کون؟

 
آج سے دو برس قبل ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد 23 مارچ 2019 کو ہونے والی یوم پاکستان کی تقریب کے موقع پر منعقدہ پریڈ کے مہمان خصوصی تھے۔ مہاتیر محمد اپنے پاکستانی ہم منصب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ سلامی کے چبوترے پر براجمان تھے اور یوم پاکستان کی پریڈ میں شامل مسلح افواج کے دستے دیکھنے میں منہمک تھے۔
 
اس تقریب میں مہاتیر محمد کو'جے ایف۔ 17' تھنڈر کے نام سے مشہور پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں کے گروپ نے فضائی کرتب دکھائے اور وزیراعظم مہاتیر محمد پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والے اولین لڑاکا طیاروں کی چوتھی نسل یعنی 'جے ایف۔17' بلاک تھری کے فضائی کرتبوں سے بے حد متاثر ہوئے۔
 
اس طیارے کو پاکستان میں ہی تیار کیا گیا ہے اور پاکستان کے ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) اور چین کے چینگڈو ایروسپیس کارپوریشن (سی اے سی) نے مل کر اسے بنایا ہے۔
 
ملائیشیائی وزیر اعظم کی اس تقریب میں موجودگی اتفاقیہ نہیں تھی کیونکہ 'رائل ملائیشین ائیر فورس' خود کو جدید بنانے کے پروگرام کے تحت محدود تعداد میں 'جے ایف۔17' خریدنے پر غور کررہی تھی۔
 
 
ملائیشیا نے پاکستان سے 'جے ایف۔17'لڑاکا طیارے اور ٹینک شکن میزائل خریدنے میں گہری دلچسپی دکھائی تھی۔
 
اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان وزیراعظم ہاوس میں بات چیت کے بعد 'دورے پر آئے وفد نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں ملائیشیا میں ہونے والے دفاعی میلے میں پاکستان کے 'جے ایف۔17' تھنڈر لڑاکا طیارے شرکت کریں۔'
 
مہاتیر محمد کے پاکستان میں 'جے ایف۔17' کے کرتب دیکھنے کے چند دن بعد ملائیشیا نے 'لینگ کوائی انٹرنیشنل میری ٹائم ایروسپیس ایکسپو' (لیما 2019) منعقد کی جہاں شاہی ملائیشین فضائیہ نے نہ صرف 'جے ایف۔17' بلکہ جنوبی کوریا کے تیار کردہ 'ایف اے۔50' گولڈن ایگل (سنہری عقاب) طیاروں کی مشقیں دیکھیں اور ان کی قابلیت کو جانچا۔
 
اُس وقت سے ملائیشیا کی فضائیہ ان دونوں میں سے کسی ایک طیارے کی خریداری کے لیے غور کر رہی ہے۔ چند ذرائع بتاتے ہیں کہ ملائیشیا کونسبتاً جدید بلاک تھری 'جے ایف۔17' طیاروں کی پیشکش کی گئی ہے۔
 
 
اس کے مقابلے میں جنوبی کوریا کا 'ایف اے۔50' ہلکا لڑاکا طیارہ ہے جسے 'کوریا ایروسپیس انڈسٹری' (کے اے آئی) نے جمہوریہ کوریا کی ائیر فورس (آر او کے اے ایف) کے لیے بنایا ہے اور یہ جدید تربیت دینے والے جہاز اور ہلکے لڑاکا جنگی طیارے کے میلاپ سے بنائے جانے والے ایک ہلکے لڑاکا طیارے کی قسم ہے۔
 
تاہم پاکستانی ماہرین نے اس امکان کو کم ہی اہمیت دی ہے کہ دونوں لڑاکا طیاروں کے درمیان کوئی مسابقت ہے۔
 
ہوابازی کے شعبے کے ماہر اور پاکستان ائیر فورس کے سابق لڑاکا پائلٹ قیصر طفیل بتاتے ہیں کہ 'ایک طرف 'جے ایف۔ 17' ہے جو مکمل طور پر لڑاکا جنگی طیارہ ہے اور دوسری طرف 'ایف اے۔50' طیارہ ہے جو بنیادی طور پر تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والا ایک جدید جہاز ہے جس میں کوریا نے خریدار کی مرضی کے مطابق کچھ جدید حربی یا لڑنے کی صلاحیت شامل کردی ہے۔'
 
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک 'ساسی' (SASSI) سینٹر برائے دفاعی اسلحہ وٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر شاہد رضا نے کہا کہ 'جے ایف۔17 تھنڈر کوریا کے 'ایف اے۔50' طیاروں پر کئی لحاظ سے برتری رکھتے ہیں۔
 
'جے ایف۔17' بلاک تھری جدید اور انتہائی طاقتور ریڈار سے لیس ہے۔ نظر سے بھی آگے کی وسعت رکھنے والے اس ریڈار کو سو کلو میٹر دور فاصلے تک مار کرنے والے ایس ڈی۔10 اے میزائلوں کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے تاکہ وہ ٹھیک اپنے ہدف کو نشانہ بنائیں۔'
 
وہ کہتے ہیں کہ لاگت کے علاوہ 'جے ایف۔17' تھنڈر کو اپنے کورین حریف طیارے پر کئی دیگر طرح سے برتری حاصل ہے۔'
 
 
'یہ طیارہ زیادہ بڑے دائرے میں جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں بارود اٹھانے کی زیادہ صلاحیت ہے۔ نظر سے آگے تک دیکھنے کی صلاحیت اس طیارے میں موجود ہے۔ فضا میں تیزی سے پہلو بدلنے کی صلاحیت کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کے علاوہ فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں کی جانے والی کارروائیوں کی بہترین صلاحیت بھی اس طیارے کو دیگر پر فوقیت دیتی ہے۔'
 
شاہد رضا کہتے ہیں کہ جے ایف۔17 تھنڈر لڑائی یا حربی لحاظ سے بھی کامیاب طیارہ ہے جسے میانمار اور نائیجیریا برآمد کیا جا چکا ہے جبکہ بعض دیگر ممالک سے بھی مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔
 
'جے ایف۔17' ایک بہترین ملٹی رول صلاحیت کا حامل طیار ہے جو انتہائی پرکشش لاگت پر دستیاب ہے جس کا مقابلہ 'ایف اے۔50' نہیں کرسکتا۔'
 
البتہ عالمی فوجی ماہرین ان دونوں طیاروں میں اس فرق کو بنیادی پہلو کے طور پر نہیں دیکھتے۔
 
لندن سے شائع ہونے والے جین ڈیفنس ویکلی کے ایڈیٹر پیٹر فیلسٹیڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'دونوں 'ایف اے۔50' اور 'جے ایف۔17' ایک انجن والے سپر سانک لڑاکا طیارے ہیں۔
 
پیٹر فیلسٹیڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے نکتہ نظر کا ان الفاظ میں اظہارکیا کہ ' کسی ملک نے محض یہ سادہ سا فیصلہ نہیں کرنا ہوتا کہ اس نے ایک بہترین لڑاکا طیارہ خریدنا ہے بلکہ یہ فیصلے سیاسی غور و خوض سے جنم لیتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہوئے طیارے کی استعداد کار کو بھی مدنظر رکھا اور اس کا جائزہ لیاجاتا ہے۔'
 
 
پیٹر فیلسٹیڈ نے کہا کہ جے ایف۔17 کی خریداری سے ملائیشیا چینی ہتھیاروں سے مضبوطی سے بندھ جائے گا کیونکہ یہ طیارہ پاکستان اور چین دونوں نے مل کر تیار کیا ہے جبکہ 'ایف اے۔50' کا مطلب مغربی ہتھیاروں کا استعمال ہوگا۔
 
وہ کہتے ہیں کہ اگر آگے مستقبل میں ملائیشیا 'کے ایف۔21' خریدنے کا خواہاں ہے تو پھر'ایف اے۔50' ایک اچھی پسند ہوگی۔'
 
یہ سیاسی غور و خوض ملائیشیا کے فیصلہ سازوں کے ذہن میں بھی یقینی طورپر رہا ہوگا۔
 
اسی طرح پاکستانی ماہرین 'جے ایف۔17' کی کم قیمت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ ایئر مارشل شہزاد چوہدری نے کہا کہ ان کے خیال میں 'جے ایف۔17' جیسی صلاحیت کے حامل لڑاکا طیاروں کا اس قیمت پر حصول ممکن نہیں۔
 
'اس نسل کے اور اس نوعیت کے لڑاکا طیارے 100 ملین ڈالر فی طیارہ کی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں جبکہ 'جے ایف۔17' کا ایک طیارہ صرف 30 ملین ڈالر کی انتہائی سستی قیمت پر بیچا جارہا ہے اور اس کی لاگت خریدار کے لیے اسے بے حد پرکشش بناتی ہے۔'
 
وہ کہتے ہیں کہ 'جے ایف۔17' لڑاکا طیارہ جنگی امتحان میں آزمودہ کار ہے اور اس طیارے کو 27 فروری 2019 کو فضائی لڑائی میں استعمال کیا گیا جب انڈیا نے پاکستان پر فضائی حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے لڑنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔'
 
دوسری جانب جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کی خبروں میں پاکستانی ماہرین کے اس نکتہ نظر کی تردید کی گئی ہے کہ 'ایف اے۔50' نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔
 
یوریشین ٹائمز نے کورین میڈیا کے حوالے سے شائع کیا کہ 'اس لڑاکا طیارے نے فلپائن سروس میں پہلی بار لڑائی کا تجربہ اُس وقت حاصل کیا جب شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک دہشت گردوں کے خلاف اسے استعمال کیا گیا۔'
 
'ایف اے۔50' درحقیقت 'ٹی۔50' خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک جہاز ہے جس میں سپرسانک ٹرینرز، لائٹ کامبیٹ ائیر کرافٹ اور ملٹی رول فائیٹر یعنی بیک وقت کئی صلاحیتوں کے حامل طیارے شامل ہیں۔
 
 
ہلکے لڑاکا طیارے کی ایک قسم کو 'ٹی اے۔50' کا نام دیاگیا ہے جبکہ ملٹی رول لڑاکا طیارے کو 'ایف اے۔50' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک انجن والا جہاز ہے جس کے ڈیزائن زیادہ تر امریکی کمپنی 'لاک ہیڈ مارٹن' کے معروف 'ایف۔16' طیارے سے مماثلت رکھتے ہیں۔
 
یہ پہلا سپرسانک صلاحیت کا حامل لڑاکا طیارہ ہے جو جنوبی کوریا نے بنایا ہے اور اسے انڈونیشیا عراق، فلپائن اور تھائی لینڈ نے برآمد کیا ہے۔
 
ان ممالک کے علاوہ جمہوری کوریا کی ایئر فورس بھی 'ایف اے۔ 50' جہاز کو اپنے مرکزی لڑاکا طیاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
 
کوریا کے ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ 'ایف اے۔50' نے عوامی جمہوریہ کوریا کی دفاعی صلاحیت کو مزید طاقتور بنایا ہے۔
 
جنوبی کوریا نے 'ایف اے۔50' کو جدید ترین امریکی انجن اور اسلحہ کے نظام سے لیس کیا ہے اور اس حوالے سے اگست 2020 میں امریکی اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے 'سنائپرایڈوانسڈ ٹارگٹنگ پوڈ' (اے ٹی پی) کو 'ایف اے۔50' کے پلیٹ فارم میں شامل کیاگیا تھا۔
 
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق پاکستانی پائلٹ قیصر طفیل نے کہا کہ 'پاکستان ائیر فورس سویڈن ساختہ گریپن لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن فیصلہ سازوں نے اسے مسترد کردیا کیونکہ ان کے انجن امریکی ساختہ ہیں اور کسی پابندی کی صورت میں گریپن جہاز فوجی ضرورت کے وقت استعمال کے قابل نہیں رہیں گے۔'
 
 
وہ کہتے ہیں کہ'ایف اے۔50' کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس کا ڈیزائن، انجن، جہاز میں استعمال ہونے والا برقی سازوسامان اور ہتھیار تمام امریکی اسلحہ ساز صنعت سے آتے ہیں جبکہ 'جے ایف۔17' میں استعمال ہونے والے روسی اور چینی فاضل پرزے اور اجزا عموما سیاسی جوڑ توڑ سے جڑے ہوئے نہیں ہوتے اور سیاسی ڈوریاں ہلانے کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔
 
ادھر ملائیشیا کی ایئر فورس کے بارے میں پیٹر فیلسٹیڈ نے کہا کہ 'شاہی ملائیشین فضائیہ کے زیر استعمال جہازوں کی فہرست دیکھی جائے تو یہ برطانیہ، امریکہ اور روسی ساختہ طیاروں کا مرکب ہے لیکن حال ہی میں انہوں نے روس سے 'ایس یو۔30۔ایم کے ایمز' خریدے ہیں۔
 
پیٹر فیلسٹیڈ نے کہاکہ 'ایف اے۔50' کو تربیت دینے والے طیارے سے ترقی دے کر جدید ترین لڑاکا کے طور پر تیار کیا گیا ہے جبکہ 'جے ایف۔17' کو کثیرالمقاصد یا کئی کام بیک وقت انجام دینے کی صلاحیت کے حامل طیارے کے طور پر تیار کیاگیا تھا۔
 
'لیکن آخر میں سیاسی غوروخوض سے زیادہ معاملہ یہاں آ کر طے ہوگا کہ کون وہ پیشکش کرتا ہے جو شاہی ملائشین ایئر فورس کے لیے مالیت کے لحاظ سے سب سے زیادہ قابل قبول ہوسکے گی۔'
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
19 Apr, 2021 Views: 1318

Comments

آپ کی رائے