حکایتِ مُوسٰی و مَردِ بزرگ کی تفسیر و تعبیر

(Babar Alyas , Chichawatni)
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹🌹

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورةُ الکہف ، اٰیت 60 تا 82 ازقلم مولانا اخترکاشمیری
رَبطِ کلام کے لیۓ گزشتہ اٰیات کا مطالعہ کیجیۓ !!
سُورةُالکہف کی اٰیت 60 سے اٰیت 82 تک کی 22 اٰیات میں بیان ہونے والی چوتھی قُرآنی حکایتِ عبرت و بصیرت جو سَفرِ مُوسٰی علیہ السلام اور ایک مردِ بزرگ کے اَحوال پر مُشتمل ھے اُس قُرآنی حکایت میں مُوسٰی علیہ السلام کی شخصیت تو اللہ تعالٰی کے ایک برگزیدہ نبی و برگزیدہ رسول کے طور پر ایک جانی پہچانی شخصیت ھے لیکن اِس قُرآنی حکایت میں جس مردِ بزرگ کا ذکر ہوا ھے اُس مردِ بزرگ کی قُرآنِ کریم نے چونکہ بظاہر کوئی نشان دہی نہیں کی ھے اِس لیۓ عُلماۓ روایت نے قُرآنِ کریم کے اِس مردِ بزرگ کو اپنے اُس خیالی مردِ خضر کے نام سے مُتعارف کرایا ھے جس کا دُوسرا تاریخی نام اُتنا پُشتیم ھے اور ھم گزشتہ سطُور میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ قُرآنِ کریم نے ذکرِ مُوسٰی میں جس اَعلٰی معیار و اَعلٰی کردار کے حامل مردِ بزرگ کا ذکر کیا ھے عُلماۓ روایت کے روایتی مردِ خضر اور تاریخی اُتنا پُشتیم اُس اَعلٰی معیار و اَعلٰی کردار پر پُورے نہیں اُترتے ہیں جس کا مطلب یہ ھے کہ جس مردِ بزرگ کا قُرآنِ کریم نے ذکر کیا ھے وہ مردِ خضر یا اُتنا پُشتیم نہیں ھے بلکہ اِن دونوں سے ایک الگ بزرگ ھے اور یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ھے کہ قُرآنِ کریم نے جس مردِ بزرگ کا ذکر کیا ھے اُس کی پہچان کا قُرآنِ کریم میں کوئی نہ کوئی قرینہ بہر حال موجُود ہونا چاہیۓ کیونکہ قُرآنِ کریم عقل کی بہت سی باتوں کو انسانی عقل پر چھوڑتا ھے لیکن قُرآنِ کریم کوئی ایسا بے تدبیر تیر نہیں چلاتا جو اَندھیرے سے چلے ، اَندھیرے میں گرے اور اَندھیرے میں اَندھیرا بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ گُم ہو جاۓ ، اِس لیۓ جب انسان فکری اَندھیرے سے نکل کر قُرآن کی روشنی میں آتا ھے تو اُس کو اِس حکایتِ عبرت و بصیرت میں سب سے پہلے مُوسٰی علیہ السلام کا یہ حیرت اَنگیز قول نظر آتا ھے کہ میں تو دَم لیۓ بغیر دو دریاؤں کے اُس سنگم تک چلتا رہوں گا جس تک مُجھے جانا ھے ، اگر مُجھے اُس سنگم تک پُہنچنے میں برسہا برس بھی چلنا پڑے تو میں پھر بھی چلتا رہوں گا اور برسہا برس تک چلنے کے لیۓ اُنہوں نے "حقب" کا وہ لفظ استعمال کیا ھے جس کو اہلِ زبان زیادہ تر 80 برس کی مُسافت کے لیۓ استعمال کیا کرتے ہیں اور یہ بات اللہ تعالٰی کے ایک نبی کے لیۓ ایک خلافِ معمول بات ھے کیونکہ اللہ تعالٰی کے ہر نبی کو ہمہ وقت اپنی اُمت کے درمیان رہ کر اپنی اُمت کی تعلیم و تربیت کا فریضہ اَنجام دینا ہوتا ھے ، کوئی ایسا طویل تر سفر اختیار کرنا اُس نبی کے اُس منصبِ نبوت کے منافی ہوتا ھے جس کے لیۓ اللہ تعالٰی نے اُس کو مامُور کیا ہوا ہوتا ھے ، اِس حکایتِ عبرت و بصیرت میں دُوسری حیرت اَنگیز بات پانی کی چَھاگل میں موجُود ایک زندہ مَچھلی یا تیل میں تَل کر کھانے کے لیۓ رکھی ہوئی ایک مُردہ مَچھلی کا ایک دیو ہیکل وہیل whale مَچھلی بن کر دریا میں اُترجانا ھے ، تیسرا حیرت اَنگیز واقعہ کشتی میں سُوراخ ہونا لیکن کشتی میں پانی کا داخل نہ ہونا ، کشتی میں ہونے والے سُوراخ کا صرف مُوسٰی علیہ السلام کو نظر آنا مَلاح کو نظر نہ آنا اور پھر مُوسٰی علیہ السلام کا اُس پر احتجاج کرنا اور مَلاح کا احتجاج نہ کرنا ھے ، علاوہ ازیں اِن بہت سے حیرت اَنگیز واقعات میں یہ بات بذاتِ خود بھی ایک حیرت ناک بات ھے کہ اُس مردِ بزرگ نے کشتی میں جو سُوراخ کیا ہو گا اُس میں کُچھ وقت بھی لگا ہو گا لیکن مُوسٰی علیہ السلام نے اُس وقت تک اُس مردِ بزرگ کے اُس خطرناک کام پر کوئی اعتراض یا احتجاج نہیں کیا جب تک کہ اُس کشتی میں اُس نے وہ سُوراخ نہیں کر دیا ، اسی طرح جب اُس مردِ بزرگ نے ایک غلام کو قتل کرنے کے لیۓ قدم اُٹھایا اور ہاتھ بڑھایا تو مُوسٰی علیہ السلام نے کوئی مزاحمت نہیں کی لیکن جب وہ غلام قتل ہو گیا تو مُوسٰی علیہ السلام نے بعد اَز مرگِ واویلا کے طور احتجاج کیا حالانکہ اُن پر لازم تھا کہ وہ اُس غلام کو بچا سکتے یا نہ بچا سکتے لیکن اُس کو بچانے کے لیۓ کُچھ نہ کُچھ مزاحمت تو کر ہی لیتے لیکن اُنہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی جو انسانی فطرت کے اعتبار سے ایک خلافِ معمول بات ھے ، اسی طرح اُس مردِ بزرگ نے یتیم بچوں کی گرنے والی جس دیوار کی مُرمت کی تھی اُس میں بھی مُوسٰی علیہ السلام ایک خاموش تماشائی کی طرح تو کھڑے نہیں رھے ہوں گے بلکہ اُنہوں نے بھی اُس مردِ بزرگ کا ساتھ دیا ہوگا اور اگر انہوں نے اُس کام کی اُجرت کی بات کرنی تھی تو کام شروع کرنے سے پہلے کرنی تھی ، اُس دیوار کی مُرمت کا کام ہوجانے کے بعد اُس کام کی اُجرت نہ لینے پر افسوس کا اظہار کرنا ایک بے مقصد عمل تھا لیکن اِس واقعے میں آنے والے انسانی ذہن کے یہ جتنے بھی قُفل ہیں اُن سب کی کلید اِس سلسلہِ کلام کی دُوسری اٰیات کے پانچویں اور چَھٹے لفظ "نسیا حوتھما" میں موجُود ھے اور یہ کلید سب سے پہلے انسان کو یہ بات یاد دلاتی ھے کہ مُوسٰی علیہ السلام کو پانی کے کنارے کنارے چلتے ہوۓ "مجمع البحرین" کی طرف جانا تھا اور جب وہ "مجمع البحرین" کے اُس درمیانی حصے میں پُہنچے جو اپنے محلِ وقوع کے اعتبار سے تو "مجمع البحرین" کا ایک قریبی حصہ تھا لیکن اُس قریبی حصے سے دو دریاؤں کا وہ سنگم شاید کُچھ دُور تھا جو اندھیرے کے وجہ سے اُن دونوں کو نظر نہیں آیا تھا لیکن اُس مقام پر اُن کو ایک دیو ہیکل مَچھلی ضرور نظر آئی تھی لیکن جسمانی تھکاوٹ اور نیند کے غلبے کی وجہ سے اُنہوں نے اُس پر کُچھ زیادہ توجہ نہیں دی تھی اور جیسے ہی وہ دَم لینے کے لیۓ ایک پہاڑی چٹان سے ٹیک لگاکر بیٹھے تو بیٹھتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گۓ اور جاگنے کے بعد آگے چل پڑے اور اُس وقت بھی وہاں اُن کو دو دریاؤں کا کوئی سنگم نظر نہیں آیا یہاں تک کہ اَگلی منزل پر پُہنچ کر جب مُوسٰی علیہ السلام کے رفیقِ سفر نے اُن کو اُس مَچھلی کے بارے میں یاد دلایا تو تَب ہی مُوسٰی علیہ السلا کو بھی وہ سب یاد آیا اور اس کے یاد آتے ہی اُن کو یہ بھی یاد آیا کہ جس مقام پر وہ دیو ہیکل مَچھلی ریت کو چیرتی ہوئی پانی میں اُتری تھی تو دو دریاؤں کا وہ سنگم بھی اُسی مقام کے قریب ہو گا جہاں سے پانی کے ایک بلند ریلے نے پہلے اُس مَچھلی کو باہر پھینکا اور بعد ازاں وہ زور لگا کر دوبارہ پانی میں اُتر گئی ہو گی ، ہو نہ ہو وہ مردِ بزرگ بھی اُن کو وہیں ملیں گے اور مُوسٰی علیہ السلام کا وہ اندازہ بالکُل درست نکلا کیونکہ جب مُوسٰی علیہ السلام وہاں پُہنچے تو اُن کو وہ مردِ بزرگ وہیں ملے جہاں اُن کے اندازے کے مطابق اُن کو ملنا چاہیۓ تھا لیکن چٹان سے کُچھ دیر تک سَستانے کے لیۓ ٹیک لگانا اور نیند میں چلے جانا اٰیت کی وہ اندرونی شہادت ھے جو اِس اَمر کی شہادت دیتی ھے کہ یہ سارے واقعات خواب کے واقعات ہیں اور خواب کے اِن واقعات میں اُس مردِ بزرگ نے جو کیا ھے اور مُوسٰی علیہ السلام نے جو دیکھا ھے اُس سے شریعت کے کسی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ھے کیونکہ خواب میں اَنجام دیۓ گۓ اعمال و افعال پر شریعت کے کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ، رہا یہ سوال کہ وہ " عبد من عبادنا" کون تھا جس کو مُوسٰی علیہ السلام نے اپنے اِس خواب میں دیکھا تھا تو اِس سوال کا بہت سیدھا سا اور بہت سادہ سا جواب یہ ھے کہ اللہ تعالٰی نے اِس سُورت کی پہلی اٰیت میں اپنے تعارف "الحمد للہ" کے معاً بعد اپنے اُس عبدِ کامل کو بھی "انزل علٰی عدبدہ الکتٰب" کہہ کر مُتعارف کریا ھے اور اللہ تعالٰی کا یہی عبدِ کامل ھے جس سے اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کی یہ خوابی مُلاقات کرائی ھے اور اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کے اِس خواب میں مُوسٰی علیہ السلام کو پہلا پیغام یہ دیا ھے کہ جب اللہ تعالٰی کے حُکم پر تیری ماں نے تُجھے ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دیا تھا تو اُس وقت بھی تیرے آگے ایک بادشاہ تھا جس وقت اُس بادشاہ نے اُس صندوق کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور آج جب تُو اُسی پانی کے درمیان تیرنے والی ایک کشتی میں ھے تو آج بھی تیرے آگے ایک بادشاہ ھے جو غریب لوگوں کی کشتیوں کو اپنی تحویل میں لے رہا ھے اور اَب وہ وقت آرہا ھے کہ تیرے پیچھے بھی ایک بادشاہ ہو گا جو بحرِ اَحمر اور بحرِ عرب کے "مجمع البحرین" میں تیرا پیچھا کرے گا اور ھم اُس کو اُسی بحر میں غرق کر دیں گے ، مُوسٰی علیہ السلام کو خواب دکھانے والی ذات نے اِس خواب میں یہ بات بھی یاد دلائی ھے کہ کبھی کبھی ظلم سہنے والے مظلوم کی فریاد میں اتنی شدت ہوتی ھے کہ اللہ تعالٰی اپنے کسی نرم دل بندے کے ہاتھوں سے اُس کے نہ چاہنے کے باوجُود بھی اُس ظالم کو اُس کے مَنطقی اَنجام تک پُہنچا دیتا ھے جس کی ایک مثال آپ کی اپنی ذات سے بھی جُڑی ہوئی ھے کہ جب آپ کے پاس ایک مظلوم ظالم کے خلاف فریاد لے کر آیا تھا تو آپ نے اُس ظالم کو قتل کرنے کا ارادہ کیۓ بغیر ایک مُکا ہی مارا تھا جس سے وہ مر گیا تھا ، قتل تو وہ بھی تھا جو آپ کے ہاتھ سے ہوا تھا اور قتل یہ بھی ھے جو میرے اِس بندے کے ہاتھ سے ہوا ھے لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ سے ہونے والے قتل میں آپ کا ارادہِ دل شامل نہیں تھا اور میرے اِس بندے کے ہاتھ سے ہونے والے اِس قتل میں بھی میرے اِس بندے کا ارادہِ دل بھی شامل نہیں ھے اور اللہ تعالٰی نے اپنے اِس عبد کے ذریعے مُوسٰی علیہ السلام کے اِس خواب میں مُوسٰی علیہ السلا کو یہ بات بھی سمجھائی ھے کہ اِس دُنیا میں کُچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا معاوضہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور دے ہی نہیں سکتا اور دُنیا کے اُن کا موں میں سے ایک کام میرے اِس بندے کا اُجرت لیۓ بغیر دیوارِ یتیم بنانا ھے اور ایک کام تیرا شعیب کی بھیڑوں کو اُجرت لیۓ بغیر کنویں سے پانی نکال کر پلانا ھے ، اگر آج آپ کو اپنا وہ عھدِ ماضی یاد ہوتا تو آپ عالَمِ خواب میں بھی میرے اِس بندے سے وہ سارے سوال نہ کرتے جو سارے سوال آپ نے اُس سے کیۓ ہیں ، اگر مُوسٰی علیہ السلام اور اُس مردِ دانا کا یہ واقعہ عالَمِ بیداری کا واقعہ ہوتا تو ھم اِس کی ایک مُمکنہ تفسیر کرنے کی کوشش کرتے لیکن مُوسٰی علیہ السلام اور اُس مردِ دانا کا یہ واقعہ چونکہ عالَمِ خواب کا ایک واقعہ ھے اِس لیۓ ھم نے اِس کی ایک مُمکنہ تعبیر دینے کی کوشش ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 312 Articles with 104518 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
21 Apr, 2021 Views: 63

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ