ارد و ادب

(وشمہ خان وشمہ, منیلا)
ارد و ادب کا آغاز تقریباً ۱۴ویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اردو برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ برصغیر پاک وہند میں اردو زبان وادب کی خدمت کرنے والے بڑے بڑے ادیب اور شاعر گزرے ہیں۔ ان سب کی ترجیح ذاتی مفاد نہیں بلکہ اردو زبان وادب کی ترویج تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ اردو ترقی کرے۔ اسی بنا پر وہ ایک دوسرے کے اچھے کام کو سراہتے تھے، جہاں اصلاح کی ضرورت ہوتی تھی بغیر کسی مفاف کے ایک دوسرے کے اصلاح کرتے تھے۔ عصر حاضر میں بھی اردو ادب کے چمکتے دھمکتے ستارے اردو ادب کی ترویج واشاعت کے لیے کوشاں ہے۔ بغیرکسی لالچ اور حرص کے وہ اردو ادب کے لیے سرگرم عمل ہے۔ لیکن جس طرح ہر چیز کے دو پہلوہوتے ہیں بالکل اسی طرح اردو ادب کی دنیا میں کچھ نامی گرامی ایسے لوگ منظر عام پر آچکے جوبگڑے ہوئے مزاج کے ہیں۔ اپنا نام پیدا کرنے کے لیے وہ نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اصلاح کی مد میں لوگوں سے پیسے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ عصر حاضر میں ایسے لوگ بھی منظر عام پر آچکے ہیں جو دوسروں سے کتابیں لکھوا کر خود کو شاعر اور ادیب گردانتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کرنا خود کو ہی دھوکہ دینا ہے۔ ان لوگوں کے ضمیر کس طرح مطمئن رہتے ہیں۔ اب کسی کو اصلاح کا کہنا بھی دشوار ہوچکا ہے۔ پہلے پہل تنقیدی تقاریب ہوتے تھے جس میں بغیر کسی مفاد کے سینئر جونئیرکی اصلاح کرتے تھے اب بھی تقاریب ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ ان تقاریب میں بھی ان لوگوں کو نظر انداز کرجاتے ہیں جن سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مشاعروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ آج کل ان لوگوں کو صدارت دیا جاتا ہے جن کو شاعری کے الف ب کا بھی معلوم نہیں ہوتا۔ افسوس صد افسوس کہ دنیا کے ہر چیز کیطرح ہم نے اردو ادب میں بھی ملاوٹ شروع کی ہے۔ سوشل میڈیا پر دیکھا جائے تو جہاں کسی ادیبہ یا شاعرہ کے پوسٹ کو دیکھا جاتا ہے وہی سب کے سب حاضر ہوجاتے ہیں ہر شخص اس کو پھول اور کمنٹس پیش کرنے میں لگا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے شاعر اور ادیب ، شاعرہ یا ادیبہ کے پوسٹ پر ایسے کمنٹس کرجاتا کہ وہ بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ یہ نامی گرامی ہمارے سرمایہ ادب کو نقصان پہنچانے پہ درپے ہیں۔ کیوں یہ سب کچھ پیسوں کے عوض اردو ادب کے ساکھ کو نقصان پہنچا رہے؟ کیوں یہ اپنی عزتیں داؤ پر لگانے پر تلے ہوئے ہیں؟ میں یہ نہیں کہتی کہ عصر حاضر میں سب ایسے ہیں ۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ اب بھی ایسے لوگ موجود جو اردو ادب کے لیے دن رات ایک کرکے بلا معاوضہ اور بغیرکسی لالچ کے کام کررہے ہیں۔ میں ان چند نامی گرامی لوگوں کی بات کررہی جو خود کو اردو زبان وادب کے ٹھیکیدار گردانتے ہیں لیکن اردو زبان وادب کو نقصان پہنچانے والے بھی وہی لوگ ہیں۔ یہ لوگ اردو زبان وادب کے دشمن ہیں لیکن اردو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ یہ لوگ لاکھ کوشش کریں لیکن اردو مزید بھی پھیلے گی۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
سارے عالم میں پھیلی خوشبو دیکھی
ہرلہجے میں مہکتی اردو دیکھی
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: وشمہ خان وشمہ

Read More Articles by وشمہ خان وشمہ: 123 Articles with 161911 views »
I am honest loyal.. View More
26 Apr, 2021 Views: 238

Comments

آپ کی رائے