رواداری کے فروغ میں ہمارا کردار

(Sara Farooqi, )

تحریر: صبور فاطمہ
ریسرچ اسکالر
وزٹنگ فیکلٹی ممبر، جامعہ کراچی

معاشرہ ایک ایسی جگہ جہاں انسان / افراد باہم مل جل کر زندگی گزاریں اور اپنی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کا ایک دوسرے سے رابطہ رہے، واسطہ پڑتا رہے، تاکہ اجتماعی سطح پر سب کی زندگی کی گاڑیوں کا پہیہ آگے بڑھتا رہے۔حقیقت میں دیکھا جائے تو پوری دنیا معاشرے کی صورت میں ہی زندگی گزاررہی ہے۔ معاشرہ کبھی جامد و ساکن نہیں رہتا ۔ ترقّی ، تعمیر کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے ۔انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ تربیت یافتہ نہیں ہوتا، بل کہ خالی سلیٹ کی مانندہوتا ہے ۔اس کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوچیزیں(ادارے) اس کی تربیت میں اہم کردار دا کرتے ہیں ۔ 1) گھر، 2) معاشرتی ادارے / معاشرہ۔

معاشرے کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ مسلم معاشرہ،غیرمسلم معاشرہ۔ان دونوں معاشروں کی بنیادوں میں فرق ہے ۔مسلم معاشرے کی بنیاد الہٰامی تعلیمات پر، جب کہ غیر مسلم معاشرے کی بنیاد عقلیت پر ہوتی ہے۔
معاشرے پر تمہیدی تعارف کے بعد یہ دیکھا جائے کہ religious tolerance سے کیا مراد ہے؟ یہ مغرب کی اصطلاح اور نظریہ ہے ۔ اس لفظ کے مطابق جس فرد کا تعلق آپ کے مذہب اور عقیدے سے نہیں ہے ، اس کے لیے آپ کے دل و دماغ میں ، وسعت، قبولیت اور اعلیٰ ظرفی نہیں ہے ۔ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں ،نفرت کرتے ہیں اور اگر آپ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی ردِّ عمل ظاہر کیا گیا تو انتہا پسندی کی صورت سامنے آئے گی ، اس کڑھن کی کیفیت کیلئے tolerance کا لفظ سامنے آتا ہے کہ آپ اسے نا چاہتے ہوئے بھی برداشت کررہے ہیں ۔ تو یہ سراسر منفی جذبات کا حامل لفظ ہے۔ جو انسان کی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی صحت کے لیے خطرناک ہے، اور اپنے نتائج کے حساب سے غیر متوقع بھی ہے۔

اردو زبان میں اس کے لیے رواداری کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔لیکن لفظ tolerance ، رواداری کے لفظ کو اس کے درست معنیٰ اور مثبیت کے ساتھ مکمّل نہیں اٹھاپاتا، کیوں کہ رواداری کے معنیٰ وسیع القلبی، بے تعصّبی، بردباری، رعایت، کرم فرمائی کے ہیں۔ رواداری کے معنیٰ درمیانی راہ اختیار کرنے اور معتدل رہنے کے ہیں ۔ تو یہ مثبت جذبات کا حامل لفظ ہے۔لیکن رواداری کے معاملے میں بھی کچھ انتہاؤں سے اجتناب بہت ضروری ہے:
جن لوگوں کےمذہب، عقائد یا اعمال پر ہمارا عمل ، یقین نہیں ہے اور ہم ان کو درست نہیں سمجھتے تو محض اس بنیاد پر اپنے آپ کو برتر سمجھتے ہوئے ان کے خلاف کسی قسم کا خطر ناک ، پُر تشدّد ردِّ عمل ظاہر کیا جائے، یہ بالکل غلط ، جاہلانہ، متعصّب اور غیر مطلوب رویّہ ہے۔اس رویّے کی ہر سطح پر مذمّت ہے۔
اب اس پہلی انتہا سے بچتے ہوئے دوسری انتہا سے بھی بچنا بہت ضروری ہے کہ اعلیٰ ظرفی اور لچک دار رویّے کی آڑ میں کسی دوسرے مذہب کے رسوم و رواج یا تہوار میں باقاعدہ خود شریک ہوکر اس کا حصّہ بننا، اس میں شامل ہونا ۔ یہ بھی غلط، غیر معتدل ، غیر مطلوب رویّہ ہے۔کیوں کہ جس مذہب ، عقیدے پر آپ عمل کررہے ہیں اس کے مطابق دوسرے مذہب کی یہ رسم ، تہوار درست نہیں اور ہر مذہب کی تہذیب، روایات، اقدار،رسومات اور تہوراوں کے پیچھے ایک خاص پسِ منظر ہوتا ہے۔جس کی میرے مذہب میں بالکل اجازت نہیں۔ بحیثیتِ مسلمان دیکھا جائے تو اس عمل کی بہترین وضاحت قرآن مجید سے ہوتی ہے:
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔(سورۃ الکافرون:6)

ایک اور انتہا یہ بھی ہے کہ کسی کو religious intolerant ہونے کا طعنہ دے کر آزائ اظہار کے بینر تلے اس کے مذہب کی تعلیمات ، ثقافت ، تہذیب، لباس، عبادتوں،بتوں، کتابوں اور مقدّس شخصیات کا مذاق اڑانا شروع کردیا جائے ، یا ان کے خلاف نفرت آمیز باتیں شروع کردی جائیں ، یا حقارت سے پیش آیا جائے یا اس مذہب کی مقدّس شخصیات پر جو دل میں آئے بول دیا جائے ۔ اور پھر اس کے خلاف ردِّ عمل کرنے والوں کے اظہار یا جذبات کو religious intolerant کہہ کر مزید تحقیر کی جائے یا اپنے غلط رویے پر ڈٹا رہا جائے، یہ ظلم ،اگلے کے جذبات اور حسّاسیت سے کھیلنا ہے ۔ اور جس کے مذہب کا مذاق اڑایا گیا ہے وہ بھی بدلے میں مذاق اڑانے والے فرد کے مذہب ، تعلیمات اور شخصیات کا مذاق اڑائے ، یہ بھی غلط رویّہ ہے۔

اس حوالے سے قرآن کی تعلیمات ہیں:
( مسلمانو ) جن ( جھوٹے معبودوں ) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو ، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں ۔ (سورۃ الانعام:108)

مسلم معاشرے کی بنیادصدق، علم، عدل ،بر، حلم، حقوق کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے ۔ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کے حوالے سے 'تالیفِ قلبی' اور 'ذمیوں کے حقوق ' کے عنوان سے رہنمائی اور تعلیمات ملتی ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ غیر مسلم وفود کو مسجدِ نبوی میں ٹھہراتے تھے اور ان کے لیے اچھا اہتمام فرماتے تھے۔ خلفاء راشدین نے بھی اسی سنت کو برقرار رکھا اور اپنے اپنے دورِ خلافت میں مفتوح سر زمین کے غیر مسلم باشندوں پر مذہبی انتہا پسندی، تشدّد، زبردستی یا ظلم ، غرض کہ ، کسی بھی قسم کے منفی ، متعصّب اور پُر تشدّد رویّے کا اظہار نہیں کیا بل کہ مفتوح علاقوں کے باشندوں کو اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی اجازت دی اور یہ معاملات باقاعدہ معاہدے کی صورت میں طے کیے گیے تھے۔ جن پر باقاعد گی سے عمل ہوتا تھا۔
مسلم معاشرے کی بنیاد الہٰامی تعلیمات پر ہوتی ہے تو مذہبی روادای کے حوالے سے قرآن کی یہ تعلیمات ہیں:
دین اسلام کو قبول کرنے میں کوئی جبر(زبردستی) نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 256)
اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے (سورۃ الکھف: 29)
( مسلمانو ) جن ( جھوٹے معبودوں ) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو ، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں ۔ (سورۃ الانعام: 108)

اس کے برعکس ، غیر مسلم معاشرہ جس سے عموماً مغربی معاشرہ مراد لیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد نظامِ پاپائیت کے خلاف بغاوت، اصلاحِ مذاہب ، احیائے علوم کی تحریک، معرکہء مذہب و سائنس، سیکولرائزیشن، روشن خیالی کا فروغ، صنعتی و سائنسی انقلاب،نیشنلز ازم،مذہب بیزاری ، تشکیک، الحاد، عقلیت، ،مذہب و ریاست کی علیحدگی شامل ہیں۔ ان سب محرّکات نے مغربی معاشرہ کی بنیاد، مزاج اور ساخت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
اگر کسی ملک یا معاشرت کی بنیاد سیکولر افکار وتصوّرات پر ہو تو Religious Tolerance کو بہانا بناکر توہینِ رسالت (وہ کسی بھی نبی کی ہو)کسی صورت اور ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ۔ حسّاس موضوعات ، جن سے افراد کی جذباتی وابستگی ہے، ان کو ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔کیوں کہ آزادئ اظہار بے لگام نہیں ہے، اور نہ ہی مطلق ہے کہ جو جی میں آئے کہا جائے، کیا جائے بلکہ اس کی تحدید ہے کہ کسی بھی فرد کے مذہب اور اس کی تعلیمات سے متعلق موضوعات حسّاس نوعیت کے ہوتے ہیں تو ان کے خلاف کچھ بولنا ، لکھنا، تمسخر اڑانا، آزادئ اظہار نہیں بلکہ بدتمیزی ہے۔

ان غلط رویوں اور انتہاؤں سے بچنے کے لیے معاشرے کی تربیت بہت زیادہ ضروری ہے۔ معاشرہ ہم سب لوگوں سے ہی مل کر بنتا ہے ،معاشرے کو تربیت اورشکل دینے کی ذمّے داری بااختیار، اہلِ علم ، دانش وار، مفکّرین، صاحبِ بصیرت افراد و اداروں کی ہے کہ وہ اپنی تحریروں ، تقریروں ، گفتگو، یا اپنے اپنے اداروں کے ذریعے سے لوگوں کو اچھّے برے، حق و باطل، جائز و ناجائز، قانونی و غیر قانونی ا مور سے آگاہ کریں اور احترامِ انسانیت، مذہب، عقائد، رواداری، اور وسعت واعلیٰ ظرفی کے رویّوں کو فروغ دیں کیوں کہ معاشرہ انسان کی تربیت کرتا ہے۔

ہمیں زمین پر ہمیشہ سے مختلف النّوع چیزیں ہی ملتی آئی ہیں جو قانون ِ قدرت کے عین مطابق ہے۔ انسان کے رنگ، قد، آواز، انداز، خوراک، شکل، چلنے، بیٹھنے، سوچنے ، لکھنے کے انداز میں فرق ۔غرض کہ کائنات میں موجود ایک ہی جیسی اشیاء میں کئی طرح کے نمایاں فرق نظر آتے ہیں۔ پھولوں کی خوشبوؤں میں، رنگوں میں فرق۔پانی کے رنگوں ، ذائقوں میں فرق ۔ اسی طرح سے بے شمار مثالیں موجود ہیں تو یہ فرق اختلافات نہیں ، بل کہ حُسن اور کائنات میں موجود لچک، اعلیٰ ظرفی کی جانب انسانی فکر کو متوجّہ کرتا ہے کیوں کہ یہ تنوّع ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا تو جب زندگی ہی اسی تنوّع میں گزرے گی تو اس کو گزارنے کے آداب سیکھنا ، ان پر عمل پیرا ہونا اور اپنے رویّوں ، گفتگو ، تحریروں ، تقریروں ، انداز، اطوار، تہذیب سے اس لچک اور رواداری کا اظہار بھی ضروری ہے ۔

قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی کتاب ہے۔ اس کا موضوع انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ، انبیاء علیہم السّلام، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کو، یہود، نصاریٰ، اہل کتاب، مشرکین، کافر، مجوسی، صائبین اور بنی نوع انسانوں کا ذکر بھی فرمایاہے ۔ ان کو مخاطب کیا ہے۔ اور ہدایت کی جانب بہت دھیمے اور نرم انداز سے دعوت بھی دی ہے۔ بحیثیتِ مسلمان اسی اسلوب کو اختیار کرنا ہم سب کی ضرورت ہے،تاکہ فسادات سے بچا جا سکے۔

مذہب انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے ۔ اپنے اپنے مذاہب ، عقائد، تعلیمات سے ہر ہر فرد کی جذباتی وابستگی بہت حسّاس نوعیت کی ہوتی ہے ۔ لہٰذا کسی کے لیے بھی یہ درست اور جائز نہیں کہ وہ نفرت، برتری یا تعصّب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے حقارت آمیز رویّے کا اظہار کرے۔اسی لیے جذباتیت سے مغلوب ہونے کے بجائے اختلاف کے آداب کو سیکھا جائے ۔ برداشت، تحمّل، صبر، وسعت، اعلیٰ ظرفی کے ساتھ دوسروں کو اپنے اپنے دائروں میں space دینا، باہمی ہم آہنگی، باہمی احترام،دوسروں کی بات مکمّل سنّنا، سمجھنا ، عقل اور دلائل سے چیزوں کو آگے بڑھانا مذہبی روداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔لیکن ضروری ہے کہ دونوں جانب سے ان اخلاقیات اور اعلیٰ ظرفی پر سنجیدگی سے عمل ہو۔ دین اسلام اس موضوع پر اپنے پیروکاروں کو مکمّل رہنمائی دیتا ہے ۔ لہٰذا ان تعلیمات کو صحیح فہم کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی بہت ضرورت ہے۔اور معاشرے کے بااثر، صاحبِ بصیرت، مفکّرین، بااختیار،اہلِ علم حضرات کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو درست اور صحیح سمت لے جانے کی ذمّہ داری اپنے اپنے دائروں میں رہ کرادا کریں اور روداری پر مبنی رویّوں کو فروغ دیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sara Farooqi

Read More Articles by Sara Farooqi: 3 Articles with 424 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2021 Views: 137

Comments

آپ کی رائے