بدلتا عالمی منظرنامہ اور خارجہ پالیسی کے خدوخال

(Babar Ayaz, )

حصہ اول:- خارجہ پالیسی اور اسکے بنیادی تصورات :-

ہم آئے روز عالمی منظرنامے میں کئ تبدیلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ممالک کے مابین بنتے اور بگڑتے تعلقات، معاشی فوائد کے حصول اور پابندیوں کی کشمکش، امن و جنگ کی طرف بڑھتے قدم اور کسی اہم مسئلے میں بین الاقوامی برادری کا یکجا اور ہم آواز ہونا کچھ قواعد و ضوابط کے تحت انجام پاتا ہے ۔ مندرجہ ذیل کالم میں انھی اصول و ضوابط کا احاطہ کیا گیا ہے جنکو بروئے کار لاتے ہوئے ریاستیں اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرتی ہیں اور اپنے مفاد کا تحفظ یقینی بناتی ہیں ۔ پرامید ہوں کہ یہ کالم خارجہ پالیسی کو سمجھنے میں معاون ہوگا خاص کر ابلاغ عامہ اور بین الاقوامی تعلقات کے طلباء کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔ خارجہ پالیسی یا خارجہ تعلقات کسی بھی ریاست کی طرف سے بنائے جانے والی اس اسٹریٹیجی یا لائحہ عمل کو کہتے ہیں جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ریاست بین الاقوامی برادری کے درمیان اپنے مفاد کے حصول کو یقینی بناتی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مقصد دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی مفاد اور پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر ریاستی تعلقات کو استوار کرنا ہوتا ہے ۔ خارجہ مفاد کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے دو قسم کے تصورات موجود ہیں ، اول آلات قائل یا افہام و تفہیم کا تصور ہے جسکے ذریعے سے ریاست اپنے مفاد کو دوسری ریاست کے ساتھ کچھ دو اور کچھ لو کے اصول کے تحت حاصل کرتی ہے۔ جبکہ دوئم آلات جبر یا تصور جبر ہے اور اس طریقہ کار میں ریاست بزور طاقت اپنے مفاد کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے ۔ اگر آلات قائل کی بات کی جائے تو اس میں سفارت کاری اور معاشی مراعات شامل ہیں ۔ سفارت کاری وہ طریقہ کار ہے جس میں ملکی راہنما، اعلی سرکاری افسران اور سفرا دوسرے ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے باہمی مسائل کو گفت و شنید اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ معاشی مراعات میں ریاست دوسرے ممالک کو معاشی فوائد دے کر اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرتی ہے ۔ اسکی مثال امریکہ کی پاکستان و دیگر ممالک کو دی جانے والی امداد یا یو ایس ایڈ جیسے پروگرام ہیں جبکہ اسکے بدلے میں پاکستان افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل کے لئے زمینی راستہ فراہم کرتا تھا اور حالیہ امریکہ طالبان امن مذاکرات میں بھی معاونت فراہم کر رہا ہے ۔ خارجہ مفاد کے حصول کا دوسرا تصور آلات جبر یا سختی کا راستہ ہے ۔ آلات جبر میں معاشی پابندیاں،پروپیگنڈہ،خفیہ آپریشن،سائبر آپریشن اور جارحانہ سفارتکاری شامل ہیں ۔ اگر کوئی ریاست باآسانی اپنے مفادات کا حصول نہ کر سکے تو وہ آلات جبر کا سہارا لیتی ہے ۔ معاشی پابندیاں طاقتور ریاست کا حریف کے خلاف استعمال ہونے والا بہترین ہتھیار ہے ۔ یہ پابندیاں بذریعہ اقوام متحدہ یا ریاست براہ راست عائد کرتی ہے ۔ معاشی پابندیوں کے سبب حریف ملک کے اثاثہ جات کو ضبط کر کے ملکی درآمدات و برآمدات پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے ۔ ان پابندیوں سے حریف ملک سنگین معاشی بحران کا شکار ہو کر دوسرے ملک کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتا ہے تاکہ اپنی دگرگوں ہوتی معیشت کو سنبھال سکے۔ مگر یاد رہے یہ ضروری نہیں کہ ہر ملک ان پابندیوں کے اثرات سے مغلوب ہو ۔ ایران جیسے ممالک نے امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے اہداف کے حصول کی جانب سفر جاری رکھا بالآخر امریکہ کو مجبورا مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ۔آلات جبر کی دوسری قسم پروپیگنڈہ ہے ۔ پروپیگنڈہ منفی و مثبت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ خارجہ تعلقات میں پروپیگنڈہ عموما مخالف ملک کے خلاف چلائی جانے والی غلط معلومات یا تحریک کو کہتے ہیں ۔ بذریعہ پروپیگنڈہ حریف ریاست کے حقیقی چہرے کو مسخ کر کے اسکا منفی چہرہ دکھایا جاتا ہے ۔ پروپیگنڈہ اگر موثر ہو تو حریف ریاست کو بین الاقوامی سطح پر کافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا اور انڈین کرونکلز نامی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ گروپ پاکستان کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دینے کے لئے جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے جو حال ہی میں بے نقاب ہوا ہے ۔ تیسری قسم ؛خفیہ آپریشنز وہ خفیہ اقدامات ہوتے ہیں جو دشمن ملک کے خلاف اٹھائے جاتےہیں ۔ ایسے اقدامات کو باقی دنیا کے ساتھ متاثرہ ملک سے بھی مخفی رکھا جاتا ہے ۔ خفیہ آپریشنز غیر ریاستی عناصر کے ذریعے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ بھارت کا پاکستان مخالف عسکری تنظیموں کو معاونت فراہم کرنا اور ایران کا اسرائیل کے خلاف جہادی تنظیموں کی مدد کوورٹ یا خفیہ آپریشنز میں شامل ہے۔ یہ بات زہن نشین رہے کہ ان آپریشنز میں کسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت کم ہی حاصل ہوتے ہیں اس لئے عموما اس ملک کے خلاف براہ راست کوئی بڑا اقدام نہیں اٹھایا جاتا ہے ۔ خارجہ پالیسی کے آلات جبر میں ایک قسم سائبر آپریشنز کی ہے۔ سائبر آپریشنز کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی جنگ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ان آپریشنز میں مخالف ریاست کی اہم ویب سائیٹس کو ہیک کر کے اہم معلومات چرائی جاتی ہیں جبکہ موثر پیغامات بھی شائع کیے جاتے ہیں ۔ کچھ عرصے قبل ایرانی ہیکرز نے اسرائیلی اہم حکومتی ویب سائیٹ ہیک کر کے سپریم لیڈر کی تصویر ایک پیغام کے ساتھ شائع کی تھی جبکہ حالیہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ سائبر آپریشنز کے خلاف تاحال کوئی عالمی قانون موجود نہیں ہے ۔ آخری آلہ جبر جارحانہ سفارتکاری ہے ۔ اس میں حریف ریاست کو دباؤ میں رکھنے کے لئے سرحد پر فوج کی تعیناتی ، فضائیہ کو متحرک کرنا اور جنگی جہازوں کی دشمن ملک کی سرحدوں کے ساتھ پرواز شامل ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی جنگی جنوں اسکی واضع مثال ہے جبکہ براہ راست عسکری قوت کا استعمال بھی جارحانہ سفارتکاری میں شامل ہے۔ درج بالا آلات کو اپناتے ہوئے ریاستیں اپنا قومی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ (خارجہ پالیسی کے تجزیاتی عناصر اگلے کالم میں )۔۔۔۔(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Ayaz

Read More Articles by Babar Ayaz: 6 Articles with 930 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2021 Views: 261

Comments

آپ کی رائے