درس و تدریس کی دنیا کا درخشندہ ستارہ۔۔۔ پروفیسر ڈاکٹر واصل خان

(Muhammad saleem afaqi, Peshawar)

ڈاکٹر واصل خان کا شمار خیبر پختونخوا کے ان مایہ ناز اساتذہ میں ہوتا ہے جو بڑی دلجمعی ذوق و شوق سے پڑھاتے ہیں سرحد یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائرکٹر اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسرکی نمایاں خدمات ہیں درس و تدریس کی دنیا کا درخشندہ ستارہ، ملک و ملت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا،قلم و کتاب سے رشتہ استوار رکھنے والہ،مقالہ نگار اپنی مثال آپ ہے انہوں نے 10 جنوری ١٩٦٧ کو آنکھ کھولی ان کا تعلق صوابی کے قصبے سلیم خان سے ہے۔ ان کے والد بزرگوار کا اسم گرامی اسلم خان ہے۔ وہ گورنمنٹ کنٹرکٹر تھے۔ واصل خان کی ماں بولی پشتو ہے جبکہ انہیں انگلش اور اردو پر بھی عبور حاصل ہے۔انہوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول پلوڈھنڈ سے جماعت پنجم کا امتحان پاس کیا۔آپ نے اس دوران سرکاری سطح پر سکالر شپ کے امتحانات بھی پاس کیئے۔انھوں نے جماعت دہم گورنمنٹ ہائی سکول سلیم خان سے پاس کیا۔ان کا شمار کلاس کے ذہین و فطین طالبعلموں میں ہوتا ۔ وہ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میںبھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔دوران طالب علمی فزکس ان کا پسندیدہ مضمون تھا۔اپنے کلاس فیلوز کی رہنمائی بھی کرتے۔ اسی لیے اپنے حلقہ احباب میں بھی شہرت رکھتے تھے۔وہ اپنے اساتذہ کرام کی دل سے قدر کرتے یہی وجہ تھی کہ اساتذہ بھی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے۔میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول سلیم خان سے پاس کیا۔انھوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج صوابی سے ایف ایس سی کی سند حاصل کی۔گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے شہرہ آفاق مادر علمی اسلامیہ کالج کا رخ کیا اور یہاں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔آپ نے پشاور یونیورسٹی سے الیکٹرانکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا عملی آغاز سینٹ میری ہائی سکول سے کیا۔ یہ ١٩٩٣ کا وقت تھا جب وہ ٹیچر بھرتی ہوئے۔اپنے پیشے سے لگائو کی وجہ سے طلبا کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔یوں ان کے تجربات و مشاہدات میں اضافہ ہوتا گیا۔پھر ٢٠٠٦ میں سرحد یونیورسٹی میںبی ٹیک کے انچارج مقرر ہوئے اور یہی نکتہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔پ نے اپنی پروفیشنل زندگی کا سلسہ جاری رکھا اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پھر ایم ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔پھر سرحد یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ایم فل کیا اور پھر اسی جامعہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ان کے مقالے کا عنوان تھا سکولوں کو بہترین کرنے کے لوازمات ۔جب آپ ڈاکٹر بن گئے تو آپ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوا۔اور پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات ہوئے۔ڈیپارٹمنٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائرکٹر بنے۔اس دوران آپ سے ہزاروں طلبا و طالبات مستفید ہوئے۔ان کاطریقہء تدریس منفرد ہے۔ وہ بڑے پیار سے،سلجھے ہوئے انداز میں اپنے نکتے کو بیان کرتے،غصے میں بھی پیار جھلکتا ہے ۔رٹہ بازی پر یقین نہیں رکھتے،بلکہ ان کا طریقہ ء تدریس یہ ہے کہ وہ طلبا کا موضوع کے متعلق تصور واضح کرتے ہیں۔ اپنے متعلمین کے لئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ شاگردان میں بہت مقبولیت رکھتے ہیں۔ معیاری تعلیم کے لئے پروفیسر صاحب کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ا نہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بہترین یونیورسٹی ٹیچر کا اعزاز بھی ملا ہے۔ وہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مستند سپروائزر بھی ہیں۔ ان کے درجنوں ریسرچ آرٹیکل ملکی او ر غیر ملکی جرنلز میں بھی شائع ہو چکے ہیں ۔ آپ کے ایم۔فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی سے متعلقہ آرٹیکلز جرمنی کے انٹر نیشنل جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں۔وہ دو بین الاقوامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔انٹرنیشنل ریسرچ جرائد کے ریویو ر بھی ہیں۔ڈاکٹر واصل خان کے زیر سایہ کئی بی۔ایڈ ، ایم ۔ایڈ ،ایم۔فل اور پی۔ ایچ ۔ڈی کامیابی کے ساتھ ریسرچ مکمل کر چکے ہیں۔ آپ طلباء اور طالبات کی گائیڈینس اور کونسلنگ بھی کرتے ہیں ۔ قوم کے جوانوں کودرست راستے پر ڈالنے کے لئے تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب نقل کو تعلیمی دنیا کا ایڈز سمجھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ نقل کے خلاف ہیں ۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی سیمینارز میں شرکت کر چکے ہیں اور اپنے ریسرچ پر مبنی مختلف موضوعات پر پریزینٹیشن بھی دے چکے ہیں۔ آپ گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بھی وابستہ ہیں ۔ بحیثیت ٹیوٹر اور ریسورس پرسن کے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک بہترین ٹیچر ہیں بلکہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر اور مینیجر بھی ہیں۔ یوں تو آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے مگر ان میں ڈاکٹر نیازمحمد عاجز، ڈاکٹر خسرو کلیم رضا، ڈاکٹر گلزار احمد، امیر نواب، دائود جان ، بختیار محمداور محمد فیصل خان شامل ہیں۔ جو لوگ اپنے پیشے سے عشق کی حد تک محبت رکھتے ہیں ، محنت کی عظمت پر یقین رکھتے ہیں تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر واصل خان کا بھی نوجوان نسل کے لئے یہی پیغام ہے کہ محنت کو اپنا شعار بنائیں ، نقل سے پرہیز کریں ، سستی کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں اور منصوبہ بندی سے آگے بڑھتے جائیں ۔ یوں منزل خود بخود آپ کے قریب آ جائے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Afaqi

Read More Articles by Muhammad Saleem Afaqi: 18 Articles with 18919 views »
PhD Scholar in Education
MA International Relations
MA Political Science
MA Islamiyat
.. View More
14 Jun, 2021 Views: 423

Comments

آپ کی رائے