جدید ایڈمنسٹریشن کا شاہکار ۔۔۔۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیم الرحمان

(Muhammad saleem afaqi, Peshawar)

جو لوگ محنت کی عظمت پر یقین رکھتے ہیں خلوص نیت سے جدوجہد کرتے ہیں تو پھر ان کو دنیا کی کوئی طاقت ترقی سے نہیں روک سکتی ایسی ہی شخصیات میں ایک منفرد نام پروفیسر ڈاکٹر سلیم الرحمان کا بھی ہے جو سیلف میڈ انسان ہیں اور میرٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں وہ سرحد یونیورسٹی کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے،تیسرے وائس چانسلر بنے اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی-انہوں نے امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی- نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں اعزازات جیتے اور یوں اپنی کامیابی کا لوہا منوانے میں کامیاب و کامران رہے۔

انہوں نے 15 اپریل 1962 کو شہر پشاور میں آنکھ کھولی۔ان کے والد کا اسم گرامی عظیم الرحمان تھا۔وہ پریس اینڈ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں فوٹوگرافر تھے۔سلیم الرحمان کی ماں بولی اردو ہے جبکہ انہیں انگلش اور پشتو پر بھی ملکہ حاصل ہے۔آپ کے آباواجداد قیام پاکستان کے وقت انڈیا سے ہجرت کرکے وطن عزیز آئے اور پھولوں کے شہر پشاور کو اپنا مسکن بنا لیا۔ان کا آبائی مکان پشاور کے وسطی علاقہ کریم پورہ بازار میں تھا۔آجکل وہ تہکال پایان میں قیام پذیر ہیں۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ڈیرہ اسماعیل خان سے حاصل کی۔آپ کے والد ملازمت کے سلسلے میں ڈیرہ پھلاں دہ سہرہ میں قیام پذیر تھے۔میٹرک کی سند اسلامیہ کالجیٹ سے حاصل کی۔شہرہ آفاق مادر علمی اسلامیہ کالج پشاور سے ایف ایس سی امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔درحقیقت دور طالب علمی میں ان کا شمار ذہین و فطین طالبعلموں میں ہوتا تھا ۔معلم کی عزت،کتاب سے دوستی اور مدرسہ سے مظبوط رشتہ استوار رکھا۔نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یوں نہ صرف اپنے ٹیلنٹ کو پالش کیا بلکہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑنے میں بھی کامیاب رہے۔بچپن میں ناول دلچسپی سے پڑھتے،ڈرامے دیکھتے، ریڈیو سنتے اور کھیلنے کودتے ساتھ ساتھ اردو ڈائجسٹ کے بھی رسیا تھے۔عمران سیریز بڑے شوق سے پڑھتے ۔عملی سائنس کا میگزین باقاعدگی سے پڑھتے اور کھلونے بھی بناتے۔بچپن میں فٹبال بھی کھیلتے تھے۔ایتھلیٹکس مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔

آپ کو بچپن میں انجینئر بننے کا شوق تھا اور یہی جذبہ انکو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی طرف لے گیا پھر قسمت نے یاری کی کہ1980 میں آپ کو پاکستان ائیر فورس میں بحیثیت کیڈٹ بھرتی کا پروانہ مل گیا۔ 1885 میں کالج آف ایرو ناٹیکل انجینئرنگ رسالپور سے ایرو سپیس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور یوں بحیثیت کمیشن آفیسر فوج میں خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں۔آپ کی فرسٹ اپوائمنٹ مسرور بیس میں ہوئی۔انہوں نے A-5. F-6 اور میراج جہاز میں انجینئر کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دئیے۔ 1989 میں گورنمنٹ کی طرف سے سکالر شپ مقابلے ہوئے تو ایرو سپیس میں گولڈ میڈل جیتا آپ نے اکیڈمک فیلڈ میں بھی ٹرافی جیتی۔ یہ مقابلے منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی نگرانی میں منعقد ہوئے تھے۔ایجوکیشن میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔1991 میں امریکہ کی جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یونیورسٹی امریکہ سے انڈسٹریل انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ۔1993 میں MS ور 1995 میں فلاسفی آف ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی اور یوں اپنے نام کے ساٹھ ڈاکٹر کا سابقہ لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ان کے ایڈوائزر پروفیسر الیکزنڈر شاہ پیرو تھے۔آپ اپنی مٹی اور قوم سے بے پناہ رکھتے ہیں۔یہی جذبہ آپ کو اپنے ملک کی طرف لے آیا تاکہ نسل نو کی تربیت کی جا سکے ورنہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ملازمت کے بے شمار مواقع مل سکتے تھے۔ جب وطن عزیز واپسی ہوئی تو رسالپور کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے لگے اس وقت آپکا رینک فلائٹ لیفٹیننٹ تھا۔یہ کالج NUST کا حصہ تھا۔وہاں وہ مسلسل چھ برس تک فیکلٹی ممبر رہے اور تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔2001 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے ریلیز لے لی اور یہی نکتہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا جب آپ نے پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان کے ساتھ سرحد یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور میں خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں تو ان کے وسیع تجربے کو دیکھتے ہوئے جلد ہی انہیں یونیورسٹی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔آپ سرحد یونیورسٹی کی تاریخ کے پہلے ڈائریکٹر بنے۔نئے جذبے اور ولولے سے کام شروع کر دیا ۔پالیسی میکنگ میں حصہ لینے لگے بالآخر ان کی محنت شاقہ رنگ لے آئی اور تین سال بعد اسی جامعہ کے پہلے ڈین بننے کا سہرہ بھی آپ کو حاصل ہوا۔ترقی کا سفر رکا نہیں، تھما نہیں بلکہ آگے ہی بڑھتا گیا۔اور فروری 2006 میں SUIT کے وائس چانسلر کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہو گئے اور گذشتہ 15 سالوں سے وی سی کے عہدے پر فائز ہیں جو اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے ۔شروع میں صورت حال نازک تھی۔ ابتدائی ایام میں سٹاف بہت کم تھا۔وسائل بھی محدود تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ سفر کھٹن تھا منزل دشوار تھی لیکن جذبہ تھا ولولہ تھا پیشہ ورانہ سٹائل تھا ان تھک جدوجہد تھی اور اللہ تعالی کی مدد شامل حال تھی اور یونیورسٹی کے بانی پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان کے ساتھ مل کر نت نئی اصلاحات کیں۔یونیورسٹی کی جدید طرز پر پراسپیکٹس خود تیار کی۔امتحانات کے لئےسمسٹر سسٹم متعارف کیا۔ اساتذہ اور طلباء کے ساتھ براہراست رابطہ رکھا ان کے مسائل حل کئے۔لیبارٹریز، لائبریری،کینٹین،کھیل کا میدان، مسجد اور کار پارکنگ کے لئے بندوبست کیا جس سے نہ صرف انرولمنٹ میں اضافہ ہوا بلکہ معیار بھی بڑھا۔ٹیم ورک اور مثبت طرز فکر سے آگے بڑھتے گئے اور اللہ کی مدد سے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔آپ کا قول ہے کہ ادارے ایک دن میں نہیں بنتے بلکہ اس کے لئےجھد مسلسل،عزم پیہم اور بلند نگاہ چاہیئے ۔ڈاکٹر صاحب نے کوالٹی برقرار رکھنے کے لئے میرٹ پر کھبی سمجھوتہ نہیں کیا۔سب کو انصاف فراہم کیا۔یہی وجہ ہے کہ سرحد یونیورسٹی کا شمار ملک کی بہترین جامعات میں کیا جانے لگا۔
بقول شاعر
نگاہ بلند سخن دل نواز جان پر سوز ۔۔ یہی ہے رخت سخن میر کارواں کے لئے

آپ کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ بے پناہ مصروفیات ہونے کے باوجود بھی کلاس رومز میں جا کر پڑھا تے ہیں لائبریری لیبارٹریز کھیل کے میدان اور کینٹین میں بہ نفس نفیس چا کر جائزہ لیتے رہتے ہیں طلباء و طالبات سے فیڈ بیک لیتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے ادارے میں کوئی بحران پیدا نہیں ہوا بلکہ ہر کام سسٹیمیٹک انداز سے ہوتا ہے۔ سیکورٹی، ڈسپلن اعلی معیار کا ہے اور میرٹ کی حکمرانی ہے آپ کے خیال میں بہترین پرنسپل وہ ہوتا ہے جو ادارے میں پڑھا ئے بھی اور خود کلاس رومز کا براہراست مشاہدہ بھی رکھے۔ بہترین استاد وہ ہے جو طلباء کے کردار میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔ وہ بحثیت وی سی تین کلاسز پڑھاتے ہیں جن میں لیڈرشپ، ڈیزائنز،ایکسپیریمنٹس، پاور سسٹم اینڈ ریلائے بیلیٹی جیسے مضامین میں ٹیچنگ کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اصل لرننگ پڑھانے سے ہوتی ہے انکے خیال میں بہترین ٹیچر میں dedication ہوتی ہے۔کسی بھی نکتے کو پہلے خود سمجھے اور پھر دوسرے کو سمجھانے۔ان کے پاس ٹیکنیکل نالج ہو،ذخیرہ الفاظ ہو اور سب سے بڑھ کر مشنری جذبہ ہو آپ سمجھتے ہیں کہ اچھا طالب علم وہی ہے جس میں سیکھنے کی تڑپ ہو،محنتی ہو سیلف سٹڈی کرتا ہو اور آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ آپ کے پسندیدہ ٹیچر اسلامیہ کالجیٹ کے عجب خان خٹک تھے جبکہ یونیورسٹی لیول پرسکواڈرن لیڈر طارق اعجاز سے متاثر تھے۔ڈاکٹر صاحب نے ائیر کمو ڈور فیض لودھراں کو اپنا بہترین ٹیچر اور پسندیدہ شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے گروپ کیپٹن اعجاز یعقوب مرحوم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عملی انسان تھے اور پروفیشنلزم پر یقین رکھتے تھے۔

انہوں نے بیرون ممالک کے سفر بھی کئے جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کی سیر سے آپ کے تجربات، مشاہدات اور احساسات میں اضافہ ہوتا گیا آپ سرحد یونیورسٹی کے توسط سے انگلینڈ ترکی ،جرمنی اردن اور دوسرے ممالک میں بھی گئے ۔جسکی نامزدگی ایچ ای سی نے کی تھی۔ بیرون ملک کمایا ہوا تجربہ آپ نے نسل نو کے لئے وقف کر دیا جس سے نہ صرف یونیورسٹی کو فروغ ملا بلکہ طلباء و طالبات نے بھی استفادہ کیا۔ ان کے حلقہ رفقاء میں ڈاکٹر خالد خان، پروفیسر غلام روح اللہ،ڈاکٹر افتخار، گروپ کیپٹن شکیل،گروپ کیپٹن ناصر جاوید شامل ہیں جبکہ آپ کے لنگوٹیا یاروں میں کفایت اللہ درانی شامل تھے۔ڈاکٹر صاحب کتب بینی کا ذوق رکھتے ہیں ان کی پسندیدہ کتاب سٹیفن کوہی کی کتاب لیڈرشپ اور با اثر لوگوں کی سات عادات ہیں۔ آپ کے خیال میں ایک اچھے لیڈر کو متحرک ہونا چاہیئے دیانت داری، آگے بڑھنے کا جذبہ اور ٹیلنٹ ہونا چاہیے جو اپنے فالوورز کو موٹیویٹ رکھے،جو رویئے میں تبدیلی لائے جو اپنی ٹیم کو وژن دے اور منزل مقصود تک پہنچائے
سچ تو یہ ہے کہ لیڈرشپ ،منیجمنٹ اور ٹیچنگ کے میدان میں آپ ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے مشاغل میں اخبارات کا مطالعہ بھی ہے۔ان کو اخبار میں ادارتی صفحہ بھی پسند ہے جہاں ملکی بین الاقوامی اور تعلیمی موضوعات پسند ہیں۔وی سی صاحب بچپن میں ٹی وی ڈرامے بھی بڑے شوق سے دیکھتے تھے ان میں وارث،سمندر اور چاند گرہن شامل ہیں ۔آپ نے پی ایچ ڈی میں دو پراجیکٹس پر کام کیا ۔ان میں Heavey Tail Distribution شامل تھے ۔انہوں نے کہا سوانا دریا کے قریب نیو کلیئر فیسلیٹی سٹڈی ہوتی تھی ۔نیوکلیئر ویسٹ Incineration facility پر کام کیا ۔ جائزہ لینا تھا کہ اسکا اثر زیر زمین پانی اور پودے پر کیا پڑتا ہے ۔دوسرے بہت سے ماہرین کے ساتھ مل کر مشاہدات کئے ۔ 70 میل دور جا کر مشاہدہ کرتے اور تجزیہ کرتے۔ وہ اس ٹیم کا بنیادی حصہ تھے۔ دو ڈاکومنٹس مل کر لکھے ان کا پی ایچ ڈی میں موضوع Non para Matric Molding of Cross Semi Vario Grams تھا۔ آپ ایک بہترین رائٹر بھی ہیں ان کے دو درجن ریسرچ آرٹیکلز انٹرنیشنل جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو اکیڈمک اور کریٹیکل رائیٹنگ پہ عبور حاصل ہے ۔اس دوران وہ ہزاروں تقاریر اور پریزینٹیشن بھی دے چکے ہیں ان کے لاکھوں شاگرد ہیں جو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

2016 میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی وہ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک صبح ہم امریکہ کے ایک عالمی فیسٹول سے لطف اندوز ہو رہے تھے تمام لوگ اپنے اپنے ملک کی مقبول ڈش بنا رہے تھے ۔ہمارے ہاں فیمیلز کم تھیں کراچی سموسے بنائے گئے گاجر کا حلوہ بھی تیار کیا گیا جس پر چاندی کا ورک لگا تھا۔اسی دوران ایک چائنیز آیا جب اس نے دیکھا اس کو وہ غلطی سے ایلومینئم فائل سمجھ رہا تھا تو حیران ہو کر بولا ہاں آپ لوگ تو دھات بھی کھاتے ہو ایلو مینیم فائل اتار کر کھاو اس پر ہم نے زوردار قہقہہ لگایا ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں لیکن اب ہاوس وائف کا روپ دھار چکی ہیں۔آپ کے دو صاحبزادے ہیں۔ احمر سلیم بی ایس فارمیسی کا طالبعلم ہے جبکہ احسن سلیم بی ایس کمپیوٹر سائنس میں پڑھ رہا ہے انہوں نے نسل نو کے لئے یہ پیغام دیا ہے کہ پریکٹیکل بنیں۔نئی ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل کریں۔تعلیم کو ترجیح نمبر ون بنائیں اور کتابوں سے دوستی رکھیں۔کامیابی آپ کے قدم چومے گی-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Afaqi

Read More Articles by Muhammad Saleem Afaqi: 18 Articles with 18917 views »
PhD Scholar in Education
MA International Relations
MA Political Science
MA Islamiyat
.. View More
13 Jun, 2021 Views: 789

Comments

آپ کی رائے