تین کی کسوٹی

(مشعال فاطمہ, Islamabad)

عزیم یونانی فلاسفر افلاطون ایک دن اپنے استاد کے پاس آیا اور کہنے لگا: "آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا تھا"
سقراط نے مسکرا کر پوچھا کیا کہ رہا تھا ؟
افلاطون نیں جذباتی لہجے میں جواب دیا ،آپ کے بارے میں کہ رہا تھا کہ...
اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا تم یہ بات سنانے سےپہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو،اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کہ یہ بات تمہیں مجھے بتانی چاہیے یا نہیں'
افلاطون نے عرض کیا استادِ محترم!یہ تین کی کسوٹی کیا ہے؟
سقراط بولا کیا تمہیں یہ یقین ہے کہ جو بات تم مجھے بتانے والے ہو وہ بات سو فیصد سچ ہے؟
افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
سقراط نے ہنس کر کہا:تو پھریہ بات تمہیں بتانے کا ،اور مجھے جاننے کا کیا فائدہ ہو گا؟
افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کو دیکھنے لگا،سقراط نے کہا یہ پہلی کسوٹی تھی۔
اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں،تم جو یہ بات مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟
افلاطون نے انکار میں جواب دیا، جی نہیں یہ بری بات ہے۔۔
سقراط نیں مسکرا کر کہا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے؟
افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا۔
سقراط بولا گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پوری نہیں اترتی۔

افلاطون خاموش رہا!
سقراط نے زرا توقف کیا اور پھر بولا اور آخری کسوٹی "یہ بتاو جو بات تم مجھے بتانےگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟
افلاطون نے انکار میں سر ہلایااور عرض کیا "استاد! یہ آپ کے لیے ہرگز فائدہ مند نہیں ہے۔
سقراط نے پھر ہنس کر جواب دیا کہ اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں ،تو اس کے بتانے کی کیا ضرورت؟
افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے ہزار سال قبل وضع کر دیے تھے۔1) کیا یہ بات سو فیصد درست ہے۔2) کیا یہ بات اچھی ہے۔3)کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟
وہ لوگ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جو بات وہ بتانے جا رہے ہیں وہ تین کی کسوٹی پر پوری اترتی ہے یا نہیں اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا اس میں ایک عنصر بھی کم ہوتا تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔
آج ہمارے معاشرے کو بھی اس "تین کی کسوٹی" کی بہت ضرورت ہے۔جہاں نقطہ چینی ،چغل خوری،تہمت ،بہتان اور گمراہ کن باتوں کا دور دورہ ہے،اور ہر فرد دوسرے کے لیے زبان کے نشتر چلانے کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے۔جس کی وجہ سے بہت سے افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں ۔یہی باتیں معاشرے میں انتشار پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔ہمیں بھی تین کی کسوٹی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ کرناہے۔

ختم شد۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مشعال فاطمہ

Read More Articles by مشعال فاطمہ: 2 Articles with 981 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2021 Views: 508

Comments

آپ کی رائے