بظاہر زندگی

(Farzana jabeen, Islamabad)

اس رات وہ مر گئے تھی ۔ یا پھر مار دی گئے تھی ۔ صرف ایک زخمی ماں زندہ بچی تھی جو کسی بھی طرح اپنے بچوں کو پروان چڑھانا چاہتی تھی ۔

اسےلگتا ہے وہ مسکرانے ، ہنسنے یا خوش ہونے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ وہ بہت کوشش کے بعد مسکرا نہیں پاتی ۔ اکثر اس کوشش میں آنسو نکلنے کو بے تاب ہو جاتے ہیں ۔ شاید اب وہ صرف خود پر ہنس سکتی ہوں ۔

اس سب کے باوجود وہ شدت سے چاہتی کے اس کے بچے خوش رہیں ۔ جانتی ہے کہ اسے اس طرح دیکھ کر وہ خوش نہیں رہ سکتے اسی لیے کوشش کرتی ہے کہ ڈرامہ کرنا سیکھ جائے۔ وہ لوگ کتنے بہادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر کو باہر نہیں آنے دیتے ۔ پر وہ کبھی بھی بہادر نہیں تھی ۔ بالکل ٹھیک محاورہ ہے “ جو ڈر گیا وہ مر گیا “ مر ہی تو گئی تھی وہ ۔ بس سانسیں چل رہی تھیں ۔ہمیشہ سانس لیتا انسان زندہ نہیں ہوتا ۔

پر یہ بھی سچ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے جینا چاہتی ہے ۔شائد ایک دن وہ پھر سے جی اٹھے، پھر سے مسکرانے لگے۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتاہے ۔جو ہو چکا ہے اس کے بارے میں بھی تو کبھی نہیں سوچا تھا ۔ آگے کیا ہو اس کے بارے میں بھی کیسے سوچ سکتے ہیں ۔انسان کی اوقات تو یہ ہے کہ خود اپنے دل پر کوئی اختیار نہیں ۔ شاید کبھی اس دل اسے پھر سے خوش رہنا سکھا دے ۔

اس کے اندر کی ماں بس یہ چاہتی ہے کہ وہ بچوں کو خوش رکھ سکے اس کے بچے اس کے چہرے کو دیکھ کو مطمعین ہو سکیں ۔ خدا کرے ایسا ہو ۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farzana jabeen

Read More Articles by Farzana jabeen: 36 Articles with 26275 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2021 Views: 403

Comments

آپ کی رائے