’اپنا دل میرے بھائی کو عطیہ کرنے والی خاتون کا نام دیکھ کر میں حیران رہ گیا‘

 
’فرید آپ کو فوراً ہسپتال پہنچنا ہو گا۔ قریب المرگ ایک خاتون کے خاندان نے اُن کا دل عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اگر تمام رپورٹس مثبت آتی ہیں تو آپ کے دل کا ٹرانسپلانٹ فی الفور کر دیا جائے گا۔‘
 
12 ستمبر 2021 کی شام چار بجے 31 سالہ فرید کو ممبئی میں واقع گلوبل ہسپتال سے موصول ہونے والی کال میں فرید کو خوشخبری سنائی گئی تھی۔
 
فرید اور ان کا خاندان گذشتہ کئی دنوں سے اس فون کال کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ اس فون کال سے فرید کے زندہ رہنے کی امید بندھی تھی۔
 
فرید کو ڈائیلیٹڈ کارڈیومیوپیتھی (ڈی سی ایم) نامی عارضہ لاحق تھا اور اس کا علاج ہارٹ ٹرانسپلانٹ تشخیص ہوا تھا۔ فرید اور ان کا خاندان کسی ایسے عطیہ کرنے والے کے انتظار میں تھے جس کا دل طبی لحاظ سے فرید کے لیے موزوں ہو۔
 
 
فرید کا خاندان ممبئی کے علاقے مہیم میں مقیم ہے۔ فرید اپنی والدہ مہرالنسا اور چھوٹے بھائی عمران کے ساتھ رہتے ہیں۔ سنہ 1992 میں ہونے والی ممبئی فسادات میں فرید کے والد ہلاک ہو گئے تھے، اس وقت فرید کی عمر تین برس تھی۔
 
فرید درزی کا کام کرتے ہیں۔ رواں برس مئی میں اچانک فرید کی طبعیت بگڑنے لگی اور اسی دوران انھیں ملیریا بھی ہو گیا۔
 
بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے فرید نے بتایا ’پہلے میں صرف کام کے دوران ہی تھکاوٹ محسوس کرتا تھا، مگر پھر ایسا پورا پورا دن ہونے لگا اور میں تھکا تھکا محسوس کرتا۔ مجھے ہر وقت کھانسی رہتی تھی۔ پہلے میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ میری طبعیت کو دیکھتے ہوئے میرے گھر والے مجھے ہسپتال لے گئے، جہاں مجھے دل کی بیماری تشخیص ہوئی۔‘
 
ہسپتال میں ہونے والے چند اہم ٹیسٹوں کے بعد فرید کو بتایا گیا کہ وہ لیفٹ وینٹریکولر ڈائیسفکشن اور ڈائیلیٹڈ کارڈیومیوپیتھی کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری نے وقت کے ساتھ ساتھ ان کے دل کو کمزور کر دیا تھا کیونکہ دل کو کافی مقدار میں آکسیجن نہیں مل پا رہی تھی۔ گلوبل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ فرید زندہ رہنے کے لیے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔
 
ڈاکٹروں کی یہ تجویز سُننے کے بعد فرید کی والدہ کو نہ تو یقین آ رہا تھا اور نہ ہی سمجھ کہ کسی دوسرے آدمی کا دل اُن کے بیٹے کے سینے میں کیونکر اور کیسے لگ سکتا ہے۔
 
 
فرید کی والدہ مہرالنسا کہتی ہیں کہ ’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب کیسے ہو گا، مگر جس کرب سے میرا بیٹا گزر رہا تھا وہ مجھے پریشان کیے ہوئے تھا۔ ہم نے مختلف ڈاکٹروں کی تجویز کردہ بہت سی ادویات استعمال کر کے دیکھیں مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا۔۔۔ بلآخر ہم نے ہارٹ ٹرانسپلاٹ کی تجویز قبول کر لی تاکہ میرے بیٹے کو نئی زندگی مل سکے۔‘
 
’دل عطیہ کرنے والے کا نام دیکھ کر میں حیران رہ گیا‘
12 ستمبر کوگلوبل ہسپتال سے موصول ہونے والی کال کے بعد فرید اور ان کے گھر والے جلد از جلد ہسپتال پہنچ گئے کیونکہ ڈاکٹروں نے انھوں آگاہ کیا تھا کہ ہارٹ ٹرانسپلاٹ میں اگر ٹیسٹ رپورٹس مثبت آ جائیں تو یہ کام فی الفور کیا جاتا ہے۔
 
گلوبل ہسپتال سے منسلک کنسلٹنٹ ٹرانسپلانٹ فزیشین ڈاکٹر شُرتی کہتی ہیں کہ ’دوسرے اعضا کے ٹرانسپلانٹ اور دل کے ٹرانسپلانٹ میں ایک بڑا فرق ہوتا ہے۔ دل کا ٹرانسپلانٹ (دل کے) عطیہ دینے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر اندر کرنا پڑتا ہے۔ یہ بہت نازک صورتحال ہوتی ہے۔‘
 
ڈاکٹر شرتی کے مطابق ’فرید کے کیس میں سہولت یہ تھی کہ دل عطیہ کرنے والی خاتون اسی ہسپتال میں تھیں جہاں فرید کا ٹرانسپلانٹ ہونا تھا۔ اس خاتون کے اہلخانہ نے ہمیں بتایا کہ وہ بعد از مرگ ان کے مختلف اعضا عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
 
 
ہسپتال پہنچنے کے بعد فرید کے بھائی عمران کو دل عطیہ کرنے والی خون کے چند نمونے ٹیسٹ کروانے کے لیے دیے گئے۔ ان نمونوں پر لکھے نام کو دیکھ کر پتہ چلا کہ دل عطیہ کرنے والی خاتون ہندو ہیں۔
 
عمران بتاتے ہیں کہ ’میں نے خون کے نمونوں پر نام پڑھا، میں فوراً اپنی والدہ کے پاس گیا۔ میں نے انھیں یہ بتایا اور ساتھ کہا کہ انسانیت کے مذہب سے بڑا کوئی اور مذہب نہیں ہے۔‘
 
اس سرجری کے لیے فرید کے خاندان کو تقریباً 20 لاکھ انڈین روپے درکار تھے۔ فرید چونکہ درزی کا کام کرتے تھے اور گھر کے مالی حالات بھی کچھ اتنے اچھے نہ تھے اس لیے یہ خاندان اتنا خرچہ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔
 
فرید کے بھائی عمران کہتے ہیں کہ جب انھیں فرید کی بیماری کے بارے میں پتہ چلا تو خاندان والوں کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔
 
موت کے بعد چھ اعضا عطیہ کرنے والی خاتون
موت کے بعد اپنے اعضا عطیہ کرنے والی خاتون کی عمر 41 برس تھی اور انھیں برین ہیمرج کے بعد چھ ستمبر کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ بعدازاں 12 ستمبر کو ڈاکٹروں نے خاتون کو ’برین ڈیڈ‘ قرار دے دیا۔
 
انڈیا میں ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے مطابق خاتون کے اہلخانہ نے ان کے چھ اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں دل، گردے اور چار دیگر اعضا شامل تھے۔ (اعضا عطیہ کرنے والی خاتون کا نام بوجوہ شائع نہیں کیا جا رہا ہے)۔
 
اعضاء کے عطیہ کرنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ٹرانسپلانٹیشن کی انتظار کی فہرست چیک کی جاتی ہے۔ اس فہرست میں موجود پہلے مریض کے علاج کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر متعلقہ ہسپتال میں کوئی مریض نہیں ہے تو مریضوں کا ترجیحی آرڈر ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی فہرست کے مطابق شہر، ضلع، قریبی دوسرے ضلع، اور ریاست کے مطابق دیا جاتا ہے۔
 
 
’میں بھی اعضا عطیہ کروں گا‘
در حقیقت ، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دل کی پیوند کاری کامیاب ہوئی ہے۔ عضو عطیہ کرنے کے طریقہ کار اور ٹرانسپلانٹ سرجری ممبئی سمیت ملک کی دیگر ریاستوں میں کی جاتی ہیں۔
 
فرید کہتے ہیں کہ ’میں دل عطیہ کرنے والی خاتون کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے نئی زندگی دی۔‘
 
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شرتی نے کہا ’انسان کا جسم بس انسان کا ہوتا ہے۔ جب ہم پیدا ہوئے تو زمین پر ہماری مذہبی شناخت بنی۔ مگر جب قدرت نے ہمیں بنایا تھا تو اس نے ہمیں ایک جیسا جسم دیا اور اس میں ایک جیسا خون۔‘
 
عمران کہتے ہیں کہ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ بطور انسان ہم دوسرے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔
 
انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انسانیت سے بڑی کوئی چیز ہے۔ میں نے اپنے اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اعضا کے عطیہ نے میرے بھائی کی جان بچائی ، اس لیے میں کسی اور کی جان بچانا چاہتا ہوں۔‘
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 Oct, 2021 Views: 40793

Comments

آپ کی رائے