آکٹوپس اپنا رنگ اور اپنی شکل تبدیل کر سکتے ہیں... آکٹوپس کے بارے میں چند دلچسپ حقائق

 
آکٹوپس کے پورے جسم میں اس کے ذہن کے خلیے پائے جاتے ہیں۔ آکٹوپس ایک شرارتی اور تجسس میں رہنے والا جانور ہے جس کو حاصل صلاحیتیں شاید آپ کو حیران کر دیں۔فلسفی اور سکوبا ڈائیور پیٹر جفری سمتھ نے اپنی آڈیو بُک میں اس سمندری جانور کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیا ہے۔مندرجہ ذیل وہ چند چیزیں ہیں جو ہم ان شاندار جانداروں کے بارے میں اب تک جان سکے ہیں۔
 
1۔ وہ چالاک ہیں مگر ان کا زیادہ تر دماغ ان کے بازوؤں میں ہوتا ہے
آکٹوپس کا عصبی نظام یعنی نروس سسٹم بہت بڑا ہوتا ہے اور ایک عام آکٹوپس میں تقریباً 500 ملین نیورون یعنی برین سیلز پائے جاتے ہیں۔یعنی ان کے دماغ کا کل حجم چھوٹے جانوروں جیسا کہ کتے جتنا بڑا ہوتا ہے۔مگر کتوں، انسانوں اور دیگر جانوروں کے برعکس ان کے زیادہ دماغی خلیے ان کے دماغ کے نظام کے بجائے اُن کے بازوؤں میں پائے جاتے ہیں۔آٹھ بازوؤں والے آکٹوپس کے ایک بازو میں اوسطاً دس ہزار نیوروز ہوتے ہیں تاکہ وہ ذائقہ چکھ سکیں اور لمس محسوس کر سکیں۔
 
2۔ آکٹوپس کو یادداشت قائم رکھنے کی تربیت دی جا سکتی ہے
گذشتہ 70 سالوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس کو عام اور سادہ سا کام کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ایک مخصوص تجربے میں ان کو یہ سیکھایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک لیور دبائیں تاکہ انھیں کوئی انعام دیا جائے۔آکٹوپس کے بینائی کے ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں جس میں وہ کوئی سادہ سا کام یاد رکھتے ہیں اور اس کے لیے پہلے ان کی ایک آنکھ بند کی جاتی ہے اور پھر دوسری۔یہ ایک طویل تجربہ تھا مگر اس میں آکٹوپس کی پرفارمنس دیگر اور جانوروں سے بہتر رہی جیسا کہ کبوتر وغیرہ۔
 
3۔ یہ انتہائی شرارتی ہوتے ہیں
مندرجہ بالا لیور والے تجربے میں تین آکٹوپس شامل کیے گئے تھے۔ ان کے نام ایلبرٹ، برٹریم اور چارلس رکھے گئے تھے۔ ایلبرٹ اور برٹریم متواتر کامیاب ہوتے رہے مگر چارلس کبھی کبھی اپنے ہدف کو نہیں پہنچاتا تھا اور ایک موقع پر اُس نے لیور توڑ دیا تھا۔اس کے علاوہ جو بھی شخص اس دن یہ تجربہ کر رہا ہوتا تھا چارلس اس پر پانی کی دھاریں بھی مارتا تھا۔ کئی ایکوئیرئرمز میں آکٹوپس کی شرارتوں کی شکایات موجود ہیں جیسا کہ کمرے میں لائٹ بند کرنے کے لیے بلبوں پر پانی کی دھاریں مارنا، یا پانی کے ذریعے شارث سرکٹ کروا دینا۔ نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو میں یہ اس قدر مہنگا پڑ رہا تھا کہ ایک آکٹوپس کو واپس سمندر میں چھوڑنا پڑ گیا۔
 
4۔ آکٹوپس مختلف انسانوں کو پہچانتے ہیں
نیوزی لینڈ میں اسی لیب میں ایک آکٹوپس کو لیب کے عملے میں سے ایک مخصوص شخص پسند نہیں تھا۔ بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔جب بھی وہ شخص ان کے پاس سے گزرتا وہ تقریباً نصف گیلن پانی کی دھار اس شخص کی کمر پر پھینکتا تھا۔
 
5۔ آکٹوپس کو کھیلنے کا شوق ہے
ان کی شرارتی طبعیت کے پیشِ نظر یہ بالکل حیران کن نہیں کہ انھیں کھیلنے کا شوق بھی ہوتا ہے۔کچھ آکٹوپس اپنے ٹینک میں خالی بوتلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینکتے اور ایک دوسرے کی طرف پھیکنتے بھی دیکھتے گئے ہیں۔
 
6۔ وہ ہاتھ مار کی ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں
جب آکٹوپس کہیں جا رہے ہوتے ہیں تو وہ اکثر اپنے بلوں میں بیٹھے سمندری کیکڑوں کی جانب بازو ہلا کر ہیلو بول رہے ہوتے ہیں۔پروفیسر سٹیون لنکوئسٹ جو آکٹوپس کے رویے پر تحقیق کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک طریقہ ہے جس سے سمندری کیکڑے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
7۔ آکٹوپس کے متعدد دل ہوتے ہیں
آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں۔ ان کا خون نیلے ہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ان کے خون میں تانبے کے مالیکیول آکسیجن لے کر جاتے ہیں جیسے کہ ہمارے خون میں یہ کام آئرن کے مالیکیول کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا خون لال ہوتا ہے۔
 
8۔ وہ خوفناک بھی ہو سکتے ہیں
آکٹوپس اپنا رنگ اور اپنی شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔جب کوئی نر آکٹوپس کسی اور آکٹوپس پر حملہ کرنے والا ہوتا ہے وہ تو اپنا رنگ گہرا کر لیتا ہے اور اپنے بازو ایسے پھیلاتا ہے جس سے اس کا حجم زیادہ معلوم ہو۔
 
09۔ ڈھانچہ نہ ہونے کا فائدہ بھی ہوتا ہے
آکٹوپس اپنی شکل اس قدر تبدیل کر سکتے ہیں کہ وہ ایک آنکھ جتنے بڑے سوراخ سے گزر جائیں۔ کوئی ڈھانچہ یا کوئی شیل نہ ہونا اتنے پیچیدہ جانور میں عام بات نہیں ہے۔ یہ خصوصیت انھیں اپنا تحفظ کرنے میں مشکل تو پیدا کرتی ہے مگر ان کے لیے قرار اور چھپنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
09 Oct, 2021 Views: 1919

Comments

آپ کی رائے