پاکستان کا جدید ترین ٹینک الضرار کب اور کیوں ایجاد کیا گیا؟ حیرت انگیز خصوصیات اور دلچسپ حقائق

 
65ء کی جنگ کے بعد پاکستان پر لگنے والی پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین کی جانب دیکھا جانے لگا، چین نے اس ساری صورتحال کا نا صرف ادراک کیا بلکہ اس زمانے میں پاکستان کے کام آنے کا ناصرف یقین دلایا بلکہ عملی تعاون بھی کیا۔
 
جنگ ستمبر میں پاکستان آرمی کے پاس زیادہ تر امریکی ساختہ ہتھیار تھے، جنگ کے خاتمے کے بعد ایک جانب روس اور دوسری جانب چین کے ٹینکوں اور دیگر سامان حرب کا چناؤ ہوا، روس سے محدود سامان مل سکتا تھا، لیکن زیادہ خریداری کے لئے چین پر انحصار کیا گیا، پاکستان آرمی کے لئے روسی ٹینک ٹی۔54 کی چینی کاپی ٹی۔ 59 بڑے پیمانے پر حاصل کیے گئے، سو ملی میٹر دھانے مین گن کے ساتھ یہ ایک اچھے ٹینک ثابت ہوئے-
 
جنگ 71 میں پاکستان آرمی نے ان ٹینکوں کا استعمال مختلف محاذوں پر کیا- جنگ ختم ہوئی ، 80 اور 90 کی دہائی میں پاکستان کو نئے اور بہتر ٹینکوں کی ضرورت محسوس ہوئی جو نا صرف رات میں کارگر ہوں بلکہ قیمت میں بھی کم ہوں-
 
 
دفاعی میدان میں خود انحصاری اور پرانے سامان کو وقت کے ساتھ تبدیل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، چنانچہ وقت کے ساتھ پرانے ہوتے ٹی 59 ٹینکوں کو از سر نو اپ گریڈ کرنے کا اہم فیصلہ لیا گیا- تبدیلیاں اتنی بڑی اور اہم تھیں کہ پرانا ٹی 59 ایک یکسر نئے ٹینک میں تبدیل ہو گیا-
 
یہ سارا پاکستان کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں کیا گیا- ٹی59 ٹینک جہاں مرمت کے مراحل سے گزرا کرتے تھی، اسی فیکٹری کو نئے ٹینک کی تعمیر میں استعمال کیا گیا- ٹی59 کو الضرار ٹینک میں تبدیل کردیا گیا-
 
وہ پاکستان آرمی کے دیگر ٹینکوں جن میں الخالد، ٹی ۔85 دوئم، ٹی 80 یو ڈی کے ساتھ پاک آرمی کے لئے ایک اچھا اثاثہ ثابت ہوئے- پرانی سو ملی میٹر توپ کو 125 ملی میٹر توپ سے بدل دیا گیا، یہ توپ مختلف اقسام کے گولوں کے علاوہ اینٹی ٹینک میزائل بھی فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
 
ٹی 59 ٹینک کے مقابلے میں پچاس نئی جدید ترامیم کی گئیں، اس ٹینک کو مختلف پروٹو ٹائپ اور مراحل سے گزارنے کے بعد ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں جنوری 2003 میں باقاعدہ سیریل پروڈکشن کا آغاز ہوا۔
 
 
ٹینک کو پہلی بار سرکاری سطح پر 23 مارچ 2000 میں عوام اور میڈیا کے سامنے لایا گیا، پھر یہ ٹینک عالمی سطح پر آئیڈیاز 2000 کا حصہ بھی بنا-
 
ٹینک کی اہم خصوصیات
 ٹینک میں گولہ لوڈ کرنے کے لئے سیمی آٹو لوڈنگ اور ریمنگ سسٹم موجود ہے- ٹینک کو میدان جنگ میں دشمن کی نگاہ سے اوو جھل رکھنے کے لئے اسموک ڈسچارجر بھی نصب ہیں- فضائی دفاع کے لئے اس ٹرٹ ( اوپری حصے میں) 12.7 ملی میٹر کی اینٹی ائیر کرافٹ گن لگی ہو ئی ہے-
 
اس کا انجن 580 ہارس پاؤر کا ہے، دشمن کے حملے سے عملے کو محفوظ رکھنے کے لئے ایکسپلوسو ری ایکٹو آرمر کا استعمال بھی کیا گیا ہے- ٹینک کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے لیزر رینج فائنڈر بھی موجود ہے جس سے دشمن کو ڈھونڈ کر ٹھکانے لگانا آسان تر ہو جاتا ہے۔
 
 جنگی آزمائش
 الضرار ٹینک کامیابی سے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہوئے، خصوصاً تحریک طالبان اور مختلف دہشت گرد گروپس کے خلاف کاروائی میں حصہ لیتے رہے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
13 Oct, 2021 Views: 2348

Comments

آپ کی رائے