سولہ گھنٹے کا روزہ جسم کے لئے کیوں ضروری ہے۔۔۔وزن کم کرنے کا ایک نیا طریقہ جو صنم جنگ نے بھی آزمایا

 
کہتے ہیں جب وزن بڑھ جاتا ہے تو معدہ بھی بڑا ہوجاتا ہے اور بھوک کا کنٹرول کرنا بھی انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔اس صورتحال میں کبھی کبھی کوئی بھی ڈائٹنگ جسم کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہوپاتی اور وزن کم ہونے کے بجائے باقاعدہ رک جاتا ہے اور بھوک بھی کم نہیں ہوپاتی۔۔۔
 
2014 کی ایک ریسرچ کے مطابق انٹرمٹنگ فاسٹنگ یعنی سولہ گھنٹے کا روزہ جسم میں کچھ ایسے انزائمز پیدا کرتا ہے جو وزن کو نا صرف کم کرتے ہیں بلکہ بھوک کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔۔۔حیرت انگیز طور پر تین سے اکیس ہفتوں کے دوران جسم کا بہت زیادہ وزن کم ہوجاتا ہے۔۔۔
 
اس میں اصول یہ ہوتا ہے کہ آپ اگر رات آٹھ بجے آخری کھانا کھائیں تو دوسرے دن بارہ بجے سے پہلے آپ کچھ نا کھائیں۔۔۔ اور آپ کے پاس آٹھ گھنٹے ہوں گے اپنی خوراک کو حاصل کرنے کے۔۔۔سولہ گھنٹے کے اس روزہ کے دوران آپ پانی یا گرین ٹی لے سکتے ہیں لیکن کچھ کھا نہیں سکتے۔
 
 
پاکستانی شوبز کے کئی ستارے یہ روزہ سالوں سے رکھ رہے ہیں اور ایک دن بھی نہیں چھوڑتے۔۔۔ انڈسٹری کی ہاجرہ یامین اور صنم جنگ اس کی مثال ہیں۔۔۔ہاجرہ یامین کے قریبی دوستوں نے بتایا کہ وہ روزانہ سولہ گھنٹے کا روزہ رکھتی ہے اور سیٹ پر بہت ہی مختصر کھاتی ہے۔جبکہ صنم جنگ کا کہنا ہے کہ اس روزہ نے ان کے وزن کو کم کرنے میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا۔۔۔
 
اس انٹرمٹنگ فاسٹنگ کے ساتھ اگر ڈائٹ میں کاربز بھی کم کئے جائیں تو ایک مہینے میں چھے سے آٹھ کلو تک وزن کم ہوتا ہے۔۔۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ایک انرجی اور دماغی طاقت بھی ملتی ہے۔۔۔
 
 
جیسے ہی بارہ گھنٹے گزرتے ہیں بغیر کھائے تو جسم سے ایسے انزائمز نکلتے ہیں جو بھوک کو کم کرتے ہیں اور آپ کے جسم میں موجود چربی کو ہی انرجی کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔یہ عمل سولہ گھنٹے میں ختم ہوتا ہے اور آپ کے جسم کی چربی خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Oct, 2021 Views: 3671

Comments

آپ کی رائے