ہم اس علاقے میں اپنی لڑکی شادی نہیں کریں گے کیونکہ ... انڈیا کا وہ علاقہ جہاں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے لڑکوں کی شادی تک نہیں ہوتی

 
'یہاں پانی کی بہت قلت ہے۔ ہم چار کلومیٹر دور سے پانی لاتے ہیں۔ پانی کی اتنی قلت ہے کہ پورا گاؤں پریشان ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکہ پورے گاؤں کو اس مشکل کا سامنا ہے۔ ہمیں یہاں پانی کی سہولت ہو تو ہم کیوں مارے مارے پھریں؟ کبھی رات کو پانی کے لیے نکلیں، کبھی آدھی رات کو، کیا کریں دن بھر پانی بھرتے رہتے ہیں۔‘
 
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے للت پور ضلع کی رہنے والی سکھوتی یہ کہتے ہوئے جذباتی ہو جاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ گھر کے قریب ہینڈ پمپ کام نہیں کرتا ہے۔ بہت محنت کے بعد اگر پانی آجاتا بھی ہے تو بہت گندا آتا ہے۔ اس لیے وہ گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر دور جا کر پانی لاتی ہیں۔ جب بجلی نہیں ہوتی تو پانی کی قلت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہ جس ٹینک سے پانی لاتی ہیں اس کو پانی اسی وقت ملتا ہے جب بجلی ہو۔
 
پانی کے مسئلے سے دو چار سکھوتی تنہا نہیں ہیں۔ للت پور بندیل کھنڈ علاقہ کا ایک ضلع ہے۔ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے کل 13 اضلاع بندیل کھنڈ خطے کے تحت آتے ہیں۔ ان میں اتر پردیش کے سات اضلاع ہیں۔ اس علاقے میں پانی کا بحران تقریباً سبھی جگہ سنگین ہے۔
 
 
سالہا سال یہاں ترقی کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے جس میں سے زیادہ تر رقم پانی کے بحران کو دور کرنے میں خرچ کیے گئے۔ یہاں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا لیکن عوام کی پیاس نہ بجھ سکی۔ لوگ آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
 
تقریباً 97 لاکھ کی آبادی والے بندیل کھنڈ میں کئی لوگوں کے لیے پینے کا پانی حاصل کرنا روزانہ کی جدوجہد ہے۔
 
للت پور کے مدن پور گاؤں میں رہنے والی سکھوتی آدھا دن پانی جمع کرنے میں گزارتی ہیں۔ ان کے شوہر کی موت ہو چکی ہے۔ دو بیٹے ہیں جو مزدوری کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پانی بھرنے کا کام کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو گھر میں نل لگوا لیتے لیکن پیٹ پالنے کے ہی پیسے نہیں تو نل کہاں سے لگوائیں۔
 
اسی ضلع کے ساکرا گاؤں میں رہنے والے قبائلی خاندان ہینڈ پمپ کی خرابی کی وجہ سے کنویں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ گاؤں میں نہ تو سڑک ہے اور نہ ہی صحت کی کوئی سہولت۔ جبکہ بیمار افراد کو علاج کے لیے 30-40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
 
للت پور سے نکل کر ہم ضلع مہوبا پہنچے۔ یہاں کے چوکا گرام پنچایت کے راوت پورہ گاؤں میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین ہے۔ لوگ پانی کے ایک چھوٹے سے ٹینک سے پانی بھرتے ہیں۔ لوگ اسی پانی کو پیتے ہیں اور اس سے غسل کرتے ہیں۔
 
مہوبا میں ہماری راجکماری نامی ایک خاتون سے ملاقات ہوئی۔ راجکماری کاشتکاری کرتی ہیں۔ ان کا معمول بھی سکھوتی جیسا ہے۔
 
وہ کہتی ہیں: 'دو دو، چار چار دن کے لیے پانی بھر لیتے ہیں۔ بجلی نہ ہو تو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی بجلی چار ، پانچ دن میں آتی ہے، اور وہ بھی ایک دو گھنٹے کے لیے۔ اسی دوران ہم پانی بھر لیتے ہیں۔ کبھی کبھی پاس کے گاؤں سے سائیکل یا بیل گاڑی پر پانی لاتے ہیں۔ یہ گاؤں مدھیہ پردیش میں آتا ہے۔ سارا مسئلہ پانی کا ہے۔ اس گاؤں میں پانی ہو گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔'
 
 
بندیل کھنڈ پیکیج اور پانی کا بحران
لوک سبھا یعنی انڈیا کے ایوان زیریں میں دیے گئے جواب کے مطابق، بندیل کھنڈ پیکیج کے تحت سنہ 2009 اور 2019 کے درمیان تین مرحلوں میں اتر پردیش کو 3107.87 کروڑ روپے دیے گئے۔ یہ رقم بندیل کھنڈ کے سات اضلاع میں مختلف ترقیاتی سکیمیں شروع کرنے، کسانوں کی حالت بہتر بنانے اور پینے کے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے استعمال کی جانی تھی۔
 
نیتی آیوگ یعنی پلاننگ کمیشن نے بندیل کھنڈ میں پانی کے مسئلہ پر دی انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ٹی ای آر آئی) کے ساتھ مل کر ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بندیل کھنڈ خصوصی پیکیج کے تحت اتر پردیش کو دی گئی رقم کا 66 فیصد یعنی 1445.74 کروڑ روپے پانی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیے گئے لیکن زمینی صورت حال نہیں بدلی۔
 
 
پورا گاؤں دو کلومیٹر دور موجود ایک کنویں سے پانی پیتا ہے
ہمیر پور ضلع کے گوسیاری گاؤں میں مسئلہ قدرے مختلف ہے۔ یہاں پورے گاؤں میں ہینڈ پمپ کا پانی کھارا ہے۔ اس لیے لوگ گاؤں سے باہر کنویں پر منحصر ہیں۔ تقریباً دو کلومیٹر دور واقع اس کنویں سے پورا گاؤں پانی پیتا ہے۔
 
اس گاؤں میں پینے کے پانی کا مسئلہ اس قدر شدید ہے کہ لوگ وہاں اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کرنا چاہتے۔
 
گوسیاری گاؤں کے رہنے والے جلیس کہتے ہیں: 'پانی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی شادیاں رک گئیں۔ جو لوگ پڑوس کے گاؤں میں رشتہ مانگنے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ گوسیاری گاؤں میں شادی نہیں کریں گے۔ وہاں پانی نہیں ہے۔ عورتیں پانی لینے جائیں گی۔ صرف پانی کی وجہ سے گاؤں میں بہت سے لوگ، تقریباً 40 فیصد کنوارے بیٹھے ہیں۔ جن کی شادی صرف پانی کے بحران کی وجہ سے نہیں ہو رہی۔'
 
گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ الیکشن کے وقت لیڈران ووٹ مانگنے آتے ہیں اور یہ وعدے کرتے ہیں کہ مسئلہ حل کریں گے، لیکن ابھی تک کوئی مستقل حل نہیں ہوا ہے۔
 
اس گاؤں کی حالت باندہ ضلع کے کالنجر سے بھی بدتر ہے۔ یہاں پورے گاؤں کے لوگ سڑک کے کنارے لگے ہینڈ پمپ سے پانی پیتے ہیں۔ یوپی جل نگم (اترپردیش واٹر کارپوریشن) کی جانب سے اس ہینڈ پمپ پر سولر سسٹم سے ایک موٹر لگائی گئی ہے، جس کے ذریعے پانی آتا ہے۔ سورج نہ نکلے تو پانی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتنی بڑی آبادی میں صرف ایک نل سے کام نہیں چلتا ہے۔
 
پانی لینے آئی گیتا بتاتی ہیں کہ یہاں 24 گھنٹے میں مشکل سے ہی ایک بار پانی ملتا ہے۔ پانی کے برتن خالی ہونے پر لوگ اپنا نمبر لگاتے ہیں اور باری آنے پر پانی بھرتے ہیں۔
 
گیتا کہتی ہیں: 'پانی کا ایسا مسئلہ ہے کہ لوگوں میں مار پیٹ اور لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں۔ کئی بار معاملہ تھانے تک بھی پہنچ چکا ہے۔ لیکن یہاں کوئی سننے کو تیار نہیں۔ لیڈر اور ایم ایل اے سارے ووٹ لے کر چلے جاتے ہیں۔ پردھان (گاؤں کا سربراہ) بھی کچھ حل نہیں کرتا۔‘
 
چترکوٹ کے پاٹھا علاقے کا بھی یہی حال ہے۔ جگہ جگہ پانی کے ٹینک لگائے گئے ہیں۔ لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کو پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے یہاں خصوصی بندیل کھنڈ پیکج اور دیگر سرکاری سکیموں کے ذریعے چیک ڈیم اور تالاب بنائے گئے، لیکن زیادہ تر تالاب خشک ہیں۔ چیک ڈیم کا پانی بھی گرمیوں تک نہیں بچتا ہے۔
 
اپریل اور مئی کے مہینے سے ہی پورے بندیل کھنڈ میں پینے کے پانی کا بدترین بحران دیکھا جاتا ہے۔ ہر سال یہاں خشک سالی کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور پھر لوگ کئی کلومیٹر دور جا کر پانی لا کر گزارہ کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر ٹینکر کے ذریعے بھی پانی پہنچایا جاتا ہے۔
 
 
حکومت کیا کر رہی ہے؟
اتر پردیش کی موجودہ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی والی بی جے پی حکومت نے جون سنہ 2020 میں ’ہر گھر جل‘ (ہرگھر پانی) سکیم کے تحت بندیل کھنڈ کے ہر گھر کو پائپ لائن کے ذریعے پانی پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سکیم کی آخری تاریخ جون 2022 رکھی گئی ہے۔
 
یہ سکیم مرکزی حکومت کے 'جل جیون مشن' کا حصہ ہے۔ اس کے تحت سنہ 2024 تک ہر گھر میں پائپ لائن کے ذریعے پینے کا پانی پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
 
'جل جیون مشن' کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 25 نومبر سنہ 2021 تک ملک بھر میں کل 19,22,41,339 دیہی گھروں میں سے 8,55,08,916 یعنی تقریباً 44.48 فیصد گھروں کے پاس پائپ لائن کنکشن ہے۔ تاہم بندیل کھنڈ میں اعلان کے 16 ماہ بعد بھی یہ منصوبہ حقیقت میں نہیں بدل سکا۔ کئی مقامات پر آبی ذخائر بن رہے ہیں، پائپ لائنیں بچھائی جا رہی ہیں لیکن فی الحال پینے کے پانی کا مسئلہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
 
 
بندیل کھنڈ میں پانی کے بحران کے بارے میں یوپی حکومت کے محکمہ تعمیرات عامہ کے وزیر مملکت چندریکا پرساد اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے، لیکن بحران اتنا سنگین ہے کہ جلدی ہر جگہ اس کا اثر نظر نہیں آئے گا۔
 
وہ کہتے ہیں: 'بندیل کھنڈ میں پہلے حالات بدتر تھے۔ ابھی ہماری حکومت نے ہر گھر میں جل یوجنا (پانی پہنچانے کی مہم) شروع کی ہے اور پانی فراہم کرنے کا کام چل رہا ہے۔ رفتہ رفتہ تبدیلی نظر آئے گی۔ دہائیوں سے جاری مسئلہ ایک دن میں حل نہیں ہو سکتا۔ اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن حکومت کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ پینے کا پانی ہو یا زراعت کے لیے پانی، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ہم ڈیم، نہریں، تالاب بنا رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘
 
’ہر گھر جل‘ سکیم کی طرح چتر کوٹ کے پاٹھہ علاقے میں سنہ 1973 میں پینے کے پانی کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ جس کے تحت یہاں پانی کے ٹینک بنائے گئے اور لوگوں کو پائپ لائنوں کے ذریعے گھر گھر پانی پہنچانے کا وعدہ کیا گیا لیکن صورتحال جوں کی توں رہی۔ بعض مقامات پر پائپ لائن تو پہنچ گئی لیکن پانی نہیں پہنچا اور جہاں پانی پہنچا وہ بھی کچھ دنوں بعد رک گیا۔
 
فی الحال آئندہ اسمبلی انتخابات میں بندیل کھنڈ کے لوگوں کے لیے پانی ایک اہم انتخابی مسئلہ ہو گا۔ یہاں کے لوگ اسی بات پر پریشان ہیں کہ آخر کب یہ بحران ختم ہو گا اور پینے کے پانی کے لیے ان کی جنگ کب ختم ہو گی؟
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
28 Nov, 2021 Views: 1568

Comments

آپ کی رائے