آپ کی اولاد کیوں نہیں ہو رہی۔۔۔بانجھ پن کے قدرتی مسائل آخر ہیں کیا؟

 
ہمارے معاشرے میں شادی کا ایک بہت بڑا مقصد اولاد پیدا کرنا ہے ۔۔۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ خود ایک عورت کی بھی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کی گود شادی کے بعد جلد سے جلد بھر جائے۔۔۔
 
بانجھ پن کے مسائل شادی سے پہلے بھی ظاہر ہوسکتے ہیں اور اس کے اسباب مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔۔۔ایک لڑکی کی پرورش کرتے ہوئے اس کی اچھی خوراک کا اور صحت مندانہ زندگی کا خیال رکھنا اس لئے بھی بہت اہم ہے کیونکہ کل اس نے اس اہم عمل سے گزرنا ہوتا ہے ۔۔۔اور اس طرح کے مسائل اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔۔
 
بانجھ پن کے مسائل صرف عورتوں میں ہی نہیں ہوتے بلکہ ہر تین میں سے ایک مرد کسی نا کسی وجہ سے ذیلی بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔کیونکہ سگریٹ نوشی، جنک فوڈ، تیز ڈرائیونگ بھی ان کی وجوہات ہیں۔۔۔
 
 
حمل ہونے میں یا ٹہرنے میں عمر کا ایک بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔۔۔مردوں میں بھی پینتیس سال کی عمر کے بعد مسائل شروع ہونے لگتے ہیں جبکہ خواتین میں عمر بڑھنے کا بہت زیادہ دخل ہے۔۔۔ کم عمر عورتوں میں ماں بننے کے امکانات زیادہ بہتر ہوتے ہیں جبکہ تیس سال تک کی عمر کی عورتوں میں اس کی شرح تیس فیصد رہ جاتی ہے۔۔۔ چالیس برس کی عمر کی عورتوں میں یہ شرح گھٹ کر صرف دس دوفیصد رہ جاتی ہے۔۔۔
 
جب بانجھ پن بہت طویل ہوجاتا ہے اور علاج کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاتا ہے تب بھی عورت کے اندر زندہ بچوں کی پیدائش کی شرح کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔۔۔
 
شادی اگر کم عمر میں ہوئی ہے تو حمل کے لئے دو سال کا انتظار بہتر ہے لیکن اگر عورت کی عمر پینتیس سال ہے اور اس کی شادی کے بعد حمل ٹہرنے کی کوئی صورت چند ماہ نظر نا آئے تو فوری طور پر معالج کے پاس جانا چاہئے اور ضروری ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔۔۔
 
آج کل خواتین میں بہت کم عمری سے ہی پولی سسٹک اوریریز یعنی پی سی اوز کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔شادی سے پہلے ہی چھوٹی عمر میں جب بچیوں کا وزن تیزی سے بڑھنے لگے اور ان کے چہرے پر بال نمایاں ہونے لگے، سر کے بال گرنے لگیں یا پتلے ہوجائیں اور بھوک کم یا بہت زیادہ لگنے لگے، چہرے پر کیل مہاسے بہت تعداد میں نکلنے لگیں تو فوری طور پر چھوٹی عمر میں ہی بچی کا الٹراساؤنڈ کروا کر گائنی کی ڈاکٹر کو دکھائیں۔۔۔ کیونکہ یہ ایک بہت اہم وجہ ہوتی ہے جو بچیوں کا نا تو وزن کم ہونے دیتی ہے اور نا شادی کے بعد انہیں ماں بننے دیتی ہے۔۔۔ ماہواری کے مسائل کا سامنا ہی رہتا ہے اور پھر وہ بانجھ پن کی تکلیف سہتی ہیں۔
 
 
علاج کروانا انتظار سے بہت بہتر ہے اور اس معاملے میں دیر بھی معاملے کو مزید خراب کرسکتی ہے۔

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
27 Nov, 2021 Views: 7300

Comments

آپ کی رائے