اگر تمہارے گردے فیل ہو جاتے تو میں کیا کرتا، بیٹی نے باپ کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی

 
والدین کے دلوں میں اولاد کی محبت ایک فطری جذبہ ہے جس کے تحت وہ اپنے بچوں کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے وقت سے جب ماں اس کو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھتی ہے اور اس کے بعد اس کی ضروریات کی تکمیل کے لیے باپ کا سخت ترین محنت کرنا اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد والدین کی اولین ترجیح اس کی اولاد ہی ہوتی ہے-
 
لیکن یہی والدین جب کسی بیماری یا بڑھاپے کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کی دیکھ بھال کرنا اولاد کو ایک بوجھ لگتا ہے- وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے والدین نے ان کے لیے اپنی راتوں کی نیند اور دن کا چین برباد کیا ہوتا ہے-
 
مگر کچھ نیک اولادیں ایسی ہوتی ہیں جو والدین کی حقیقی قدر و قیمت سے واقف ہوتی ہیں- ایسی ہی ایک لڑکی نے اپنی کہانی ہیومن آف بمبئی کی سوشل میڈیا سائٹ پر شئير کی ہے جس کو پڑھ کر اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی ایسے بچے موجود ہیں جو اپنے والدین کی محبت میں مثال قائم کر سکتے ہیں-
 
 
اس لڑکی نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والد صرف اس کے باپ ہی نہیں بلکہ سب سے قریب ترین دوست بھی ہیں ان کے مشاغل ان کی پسند ناپسند سب ایک جیسی ہیں- فارغ وقت میں نئے نئے کھانے پکانا اور نئی جگہوں پر سفر کرنا ان دونوں کا محبوب مشغلہ ہے۔
 
کووئڈ 19 کی اس وبا کے دنوں میں جب اس کے والد اس کا شکار ہوئے تو وہ بہت پریشان ہو گئی مگر خوش قسمتی سے تین ہفتوں میں اس کے والد ریکور ہو گئے اور اس نے ان کی صحتیابی کی خوشی میں سکھ کا سانس لیا-
 
لیکن اس کے بعد کرونا وائرس کے زيلی اثرات کے سبب اس کے والد مست‍قل بیمار رہنے لگے اور مکمل معائنے کے بعد اس کے خاندان پر یہ انکشاف ہوا کہ اس بیماری نے ان کے والد کے دونوں گردے ناکارہ کر دیے ہیں-
 
یہ خبر سنتے ہی اس کا پہلا فیصلہ یہی تھا کہ وہ اپنا ایک گردہ اپنے والد کو دے کر ان کی جان بچا لے گی مگر اس کے اس فیصلے کو سن کر اس کے والد جذباتی ہو گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے- ان کا یہ کہنا تھا کہ اگر ایسا کچھ تمھارے ساتھ ہوتا تو میں کیا کرتا؟ میں تو ایک پل ہی میں مر جاتا-
 
 
اس لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ سکتی تھی کہ اس وقت اس کے والد کو اپنے آپ سے زیادہ اس کی فکر ہے مگر اس نے بہت بہادری سے اپنے والد سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا- اس کے بعد طویل ٹیسٹ کا مرحلہ شروع ہوا اور بلاخر ڈاکٹروں نے انہیں گردہ ڈونیٹ کرنے کی اجازت دے دی-
 
اس خبر نے ان کو اور ان کے والد کو بیک وقت خوش اور پریشان بھی کر دیا مگر انہوں نے سارے اندیشوں کو بھول کر آپریشن کی تیاری شروع کر دی جس پر ان کی امی کا یہ کہنا تھا کہ باپ بیٹی پہلے ہی ایک جان دو قالب تھے اور اب تو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ کا ایک اور بہانہ مل گیا-
 
تین مہینے کی تیاری کے بعد آپریشن تھیٹر جانے سے قبل ان کے والد ایک بار پھر ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ آخر ان کی خاطر وہ اپنی جان کو کیوں خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ ان کے اس سوال کا جواب اس کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ وہ اپنے والد کے گلے لگیں اور انہوں نے ان سے کہا کہ سب ٹھیک ہو گا آپ دعا کریں-
 
آپریشن کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی تو پہلا سوال ان کے لبوں پر ان کے والد کے بارے میں ہی تھا مگر اس وقت موجود ڈاکٹر نے ان کو یہ کہہ کر خوش کر دیا کہ تم نے اپنے باپ کو نئی زندگی دے دی ہے-
 
اب ان کے آپریشن کو تین مہینے گزر چکے ہیں باپ بیٹی ایک دوسرے کے ساتھ ریکوری کی منزلیں طے کر رہے ہیں- انہیں ابھی ان کے ڈاکٹروں نے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی ہے مگر دونوں ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ ڈاکٹر اجازت دیں تو وہ اپنی زندگی کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں جہاں سے ٹوٹا تھا-
 
سچ ہے کچھ اولادیں ایسی ہوتی ہیں جن پر ان کے والدین حقیقی معنوں میں فخر کر سکتے ہیں -
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
02 Dec, 2021 Views: 1097

Comments

آپ کی رائے