تمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہے، وہ جھوٹا ہے۔۔۔والد جب دنیا سے چلے جاتے ہیں تو کیا احساس ہوتا ہے

 
باپ کی محبت کا کوئی بدل نہیں یہ ایک ایسی ہستی ہے جسے دنیا میں تذکروں میں ماں سے کم ہی رکھتی ہے- لیکن باپ کے درجات اور باپ کے پیار سے انکار ناممکن ہے- جب یہ زندگی سے چلے جاتے ہیں تب ہی دنیا کے اصل اور رنگ اور حقیقت سمجھ آتے ہیں- جب یہ زندہ ہوتے ہیں تو جس تحفظ کا احساس ہوتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے- ندا فاضلی کی یہ نظم ایک ایسی اولاد کی ہے جو اپنے باپ کی موت کے بعد اپنے اندر ایک خلا محسوس کرتا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کے وجود کا حصہ قبر میں ہو اور آپ دنیا میں بس اس کے نام کا کچھ حصہ جی رہے ہو-
 
تمہاری قبر پر
میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
مجھے معلوم تھا
تم مر نہیں سکتے
تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی
وہ جھوٹا تھا
وہ تم کب تھے
کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھا
میری آنکھیں
تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک
میں جو بھی دیکھتا ہوں
سوچتا ہوں
وہ وہی ہیں
جو تمہاری نیک نامی اور بدنامی کی دنیا تھی
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا
تمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں
میں لکھنے کے لئے
جب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوں
تمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوں
بدن میں میرے جتنا بھی لہو ہے
وہ تمہاری
لغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے
میری آواز میں چھپ کر
تمہارا ذہن رہتا ہے
میری بیماریوں میں تم
میری لاچاریوں میں تم
تمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہے
وہ جھوٹا ہے
تمہاری قبر میں، میں دفن ہوں
تم مجھ میں زندہ ہو
کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
(ندا فاضلی)
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 Dec, 2021 Views: 1373

Comments

آپ کی رائے