گرفت

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

میں کار کا ڈرائیونگ سیٹ والا دروازہ کھول کر جیسے ہی سیٹ پر بیٹھا تو انتہائی کراہت انگیز منظر اور بدبو سے میرا واسطہ پڑا میں اِس ناگوار عمل کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا میرے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر ایک بیمار مریض جس کا چہرہ زخم یا پھوڑے کی وجہ سے ورم زدہ چہرے کے ساتھ نیم بے جان سا پڑا ہو اتھا چہرے کی تکلیف دہ سوجن سے اُس کے خدو خال مکس سے ہو کر رہ گئے تھے مجھے دیکھ کر مریض نے حرکت یا استقبال کی کو شش کی لیکن کراہ کر رہ گیا مسکرانے یا بات کر نے کی کوشش کی تو درد کی شدت سے کرا ہنے لگا مریض سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا میں پریشان سا ہو گیا اِس منظر سے میرے اعصاب منتشر سے ہو گئے تھے اِسی دوران مریض کے ساتھ آیا ملازم دوسری طرف آکر دروازہ کھول دیتا ہے میں سوالیہ نظر سے اُس کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ بولتا ہے جناب اِن کو دم کر نا ہے یہ پچھلے کئی دنوں سے آپ کے پاس آنے کی ضد کر رہے تھے اِن کے منہ میں کینسر کا پھوڑا ہے جو ناسور بن چکا ہے اُس پھوڑے کی وجہ سے اِن کاچہرہ سوج چکا ہے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے اب یہ بول بھی نہیں سکتے آپ پلیز اِن کو دم کر دیں ساتھ میں دعا بھی کر دیں کچھ پڑھنے کو بتا دیں تاکہ یہ ٹھیک ہو جائیں اب میں سمجھا کہ گاڑی کے اندر ناگوار بد بو کیوں پھیلی ہو ئی تھی دوائیوں اور زخم کے ناسور سے ناگوار بو نے میرا استقبال کیا تھا مریض کی حالت زار دیکھ کر میں دہشت زدہ سا ہو گیا تھا میرے اعصاب ظاہر با طن توبہ اور خوف خدا میں عرق ہو رہے تھے کہ صحت کتنی بڑی نعمت ہے اِس بیچارے کی حالت نے مجھے خوف میں مبتلا کر دیا تھا میں روٹین میں دفتر آیا تو سیکورٹی گارڈ نے مجھے بتایا سر ایک مریض صبح سے آیا ہوا ہے اُس کی حالت بہت خراب ہے آپ مہربانی کر کے اُس کو دیکھ لیں گارڈ کے ساتھ مریض کا نوکر بھی کھڑا تھا میں نوکر کے ساتھ چل کر مریض تک پہنچا تو یہاں آکر مریض کی حالت دیکھ کر دہل سا گیا اب میں نے زیر لب خدا سے معافی مانگتے ہوئے دعا کر نا شروع کر دی مریض کی خوفناک حالت نے مجھے چکرا کر رکھ دیا تھا جب میں سے آنسو ؤں کی لکیریں اُس کے سوجھے ہوئے چہرے کو بھگو رہی تھیں مریض کے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ طویل بیماری اور کینسر کے نام سے مایوس ہو کر اِدھر ادھر مدد مدد رحم پکارتا نظر آرہا تھا کیونکہ وہ بول نہیں سکتا تھا اِس لیے ملتجی نظر وں سے میرے طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ مریض بولنے سے قاصر تھا اِس لیے اب میں نے ملازم سے پوچھا صاحب کو کیا ہوا تو اُس نے گفتگو کے سلسلے کو دراز کیا اور کہا صاحب کو دانت درد ہوا تو یہ ڈاکٹر کے پاس گئے تو ڈاکٹر نے کہا دانت کا زخم خراب ہے دانت نکالنا ہو گا دانت نکال دیا گیا لیکن مسوڑے بہت خراب تھے جب دانت نکالنے کے بعد بھی درد میں افاقہ نہ ہوا نہ ہی زخم ٹھیک ہو اتو ڈاکٹر نے علاج کے سلسلے کو آگے بڑھا یا ٹیسٹ کرائے تو خوفناک حقیقت سامنے آئی کہ زخم خراب اور پرانا ہو نے کی وجہ سے کینسر کا روپ دھار چکا ہے اور اب کینسر خون اور ہڈیوں تک سرایت کر چکا ہے قدرت نے بلکل مہلت نہیں دی جب پتہ چلا تو کینسر آخری درجے میں داخل ہو کر لا علاج صورت اختیار کر چکا تھا مریض دولت مند تھا اِس لیے ڈاکٹروں ہسپتال کے بہت چکر لگائے لیکن مرض بڑھتا چلا گیا اب ڈاکٹروں ہسپتالوں سے مایوس ہو کر روحانی علاج بابوں مزاروں پر بھی جانا شروع کر دیا اِسی دوران کینسر کا پھوڑا اِس قدر بڑھا کہ منہ بند سا ہو کر رہ گیا اب ڈاکٹروں نے گردن میں سوراخ کر کے خوراک کی نالی لگا دی ہے اب خوراک اِس نالی سے معدے میں پہنچائی جاتی ہے اب یہ منہ سے نہ بول سکتا ہے نہ کچھ کھا سکتا مریض کی بیماری اور بے بسی نے مجھے بہت زیادہ پریشان کر دیا تھا میں ہمدرد شفیق نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا اب میں نے ہمت کی اور اُس کے کندھے پر تھپکی دیتے ہو ئے کہا آپ پریشان نہ ہو ں اﷲ تعالی شفا دینے والا ہے وہ آپ کو بھی ضرور صحت مند کر ے گا میرے ہمدردانہ الفاظ اُس کی سماعت سے ٹکرائے تواُس نے شدت کرب سے ہچکیاں لینا شروع کر دیں میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیا پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا کہ خدا سے مجھے معافی لے دیں وہ کبھی مجھے ہاتھ جوڑ رہا تھا کبھی اوپر کی طرف اشارہ کر کے معافی مانگ رہا تھا پھر اپنے ملازم سے کچھ کہنے کی کو شش کی ملازم میری طرف دیکھ کر بولا سر آپ نے اِن کو پہچانا نہیں یہ آپ سے مری میں مل چکے ہیں یہ اشاروں میں مجھے کہہ رہے ہیں آپ کو بتاؤں کہ میں مری میں آپ کے پاس آیا تھا اور یہ آپ کے فلاں دوست کے دوست ہیں انہوں نے ان کو آپ کے پاس پچیس سال پہلے مری بھیجا تھا اب یہ بات تو کر نہیں سکتے اِس لیے یا تو موبائل سے میسج کرتے ہیں یا پھر کا غذ پر لکھ کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر تے ہیں یہ کافی دنوں سے آپ کی تلاش میں تھے آپ کے لیے خط بھی لکھ کر لائے ہیں اِس کے ساتھ ہی مریض نے ایک خط میری طرف بڑھا یا جو میں نے پکڑلیا اِس دوران میں ماضی کے دھندلکوں میں دوڑ رہا تھا پھر چند لمحوں میں ہی میری طاقتور یاد داشت نے سارا منظر میرے سامنے اجاگر کر دیا مجھے وہ سب یاد آگیا جب میرے کالج فیلو نے مجھے فون کیا تھا کہ اُس کا دوست میرے پاس آنا چاہتا ہے بہت کام کا بندہ ہے یاروں کا یار ہے محفلوں کی جان ہے خوبصورت لچھے دار گفتگو کا ماہر ہے امیر زادہ ہے والدین کی لمبی چوڑی دولت کا اکلوتا وارث ہے انتہائی ذہین چالاک پڑھا لکھا جوان کامیاب بزنس مین بھی ہے اپنی ذہانت چالاکی سے چھوٹے شہر سے بڑے شہر میں آکر کامیاب بزنس کر لیا ہے مجھے اِس سے کام پڑتا رہتا ہے آپ کے پاس آرہا ہے میری عزت کے لیے اِس کا خیال رکھنا پھر اگلے ہی دن یہ میرے پاس ایک جوان خوبصورت لڑکی کے ساتھ آگیا میں سمجھا نئی نئی شادی کے بعد ہنی مون منانے آیا ہو گیا لیکن بعد میں پتا چلا یہ اِس کی گرل فرینڈ ہے اور اِس سے دوسری شادی کر نا چاہتا ہے میرے پاس یہ دو دن رہا اور واقعی نہایت ذہین چالاک شاطر جوان تھا باتوں کا کھلاڑی تھا باتوں سے چالاکی مکاری ٹپکتی تھی اِس لیے مجھے زیادہ متاثر نہ کر سکا لیکن اِس نے میرے قریب آنے کی بہت کو شش کی لیکن میں اپنے دوست کی وجہ سے اِس کو برداشت کر تا دو دن بعد یہ واپس چلا گیا واپس جانے کے بعد بھی مجھ سے رابطے میں رہا لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ میرا اِس سے رابطہ ٹوٹ گیا آج اتنے سالوں بعد جب میرے پاس آیا تو مجھے وہ خوبصورت صحت مند چالاک عیار جوان یاد آگیا جو باتوں کا کھلاڑی تھا لیکن اِس سے کیا غلطی ہوئی کہ قدرت کی گرفت میں آگیا تو مجھے ساتھ وہ لڑکی یاد آگئی اور میں خط کے بارے میں سوچنے لگا کہ کیا لکھا ہے ۔ ( جاری ہے )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 683 Articles with 438966 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2021 Views: 283

Comments

آپ کی رائے