ابھی بہت سی دِلچسپ معلومات باقی ہیں جنکو جاننے کے بعد فارمالا1ریس دیکھنے کا مزہ اور ہی ہے : (جاری ہے)
" />

فارمولا 1۔۔ گرینڈ پریکس (گراں پری) مشہور ِزمانہ کاروں کی ریس(حصہ اوّل)

(Arif Jameel, Lahore)

"گرینڈ پریکس3" روز جمعہ ،ہفتہ اور اتوار تک جاری رہتی ہے ۔ چونکہ ریس کا ہر ٹریک مختلف ہو نے کی وجہ سے موافق اور غیر موافق بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ بس غور طلب یہ ہے کہ اگر ریسنگ کا ر اتنی مہنگی ہے تو پورا ایونٹ کتنا مہنگا ہوگا ؟
ابھی بہت سی دِلچسپ معلومات باقی ہیں جنکو جاننے کے بعد فارمالا1ریس دیکھنے کا مزہ اور ہی ہے : (جاری ہے)

فارمولا 1۔۔ گرینڈ پریکس (گراں پری)

فارمولا 1۔۔ گرینڈ پریکس (گراں پری) مشہور ِزمانہ کاروں کی ریس(حصہ اوّل)

فارمولا ون ایک ایسا ریسنگ ایونٹ ہے جس کے بارے میں ریسنگ سے دِلچسپی رکھنے والے کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں۔ اس میں بہت سی کاریں آپس میں مقابلہ کرتی ہیں ۔فِنش لائن کو سب سے پہلے پار کرنے والے ڈرائیور کو ٹرافی اور ایک بڑی رقم ملتی ہے۔ اسکے علاوہ نامور اشتہاری اداروں میں ماڈلنگ اور ریسنگ سے متعلقہ مختلف کمپنیوں کی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل ہو تا ہے۔دُنیا بھر میں مختلف کھیلوں کے بڑے ایونٹس سال میں ایک یا دو دفعہ ہوتے ہیں یا چند سالوں کے وقفے کے بعد اُنکا ورلڈ کپ یا چیمپئین شپ ہو تی ہے۔لیکن فارمولا 1 سال بھر چلنے والا ایونٹ ہے۔یعنی سال میں 15سے20کار یسس کا انقعاد عام بات ہے۔
اِنٹرنیشنل آٹو موبائیل فیڈریشن :
"فارمولاون" جسے مختصر طور پر" ایف "1بھی کہتے ہیں انٹرنیشنل آٹو ریسنگ سپورٹس ایونٹ ہے جس میں کاروں کے درمیان ریس کروائی جاتی ہے۔جسطرح فُٹ بال کیلئے "فیفا"اور کرکٹ کیلئے"آئی سی سی"جیسے ادارے ہیں اسطرح اس ایونٹ کا روح رواں "اِنٹرنیشنل آٹو موبائیل فیڈریشن "ہے اور اسکی منظوری سے اس ریس کا انقعاد ہوتاہے۔اسکے علاوہ بھی یہ ادارہ ورلڈ ریلی چیمپیئن شپ، ورلڈ انڈیورینس چیمپیئن شپ، ورلڈ ٹورنگ کار کپ، ورلڈ ریلی کراس چیمپیئن شپ، فارمولا ای اور ریسنگ کی مختلف اقسام کی سر پرستی کرتا ہے۔( ایف آئی اے) موٹر سائیکل ریس کی تنظیم( ایف آئی ایم) کی بھی لینڈ اسپیڈ ریکارڈ کی کوششوں کی تصدیق کرتی ہے۔
گرینڈ پر یکس )گراں پری(:
ریسنگ کے زیادہ تر مداح اس بات سے نا انجان ہیں کہ ریسنگ کے اس گرینڈایونٹ کو فارمولا1کیوں کہتے ہیں اور دوسرا "گرینڈ پر یکس )گراں پری( " کا نام اسے کیوں منسلک ہے؟مثلاً عام سُنا ہو گا " آسٹریلین گرینڈ پریکس ،فرنچ گرینڈ پریکس، اِٹالین گرینڈ پریکس ،یورپین گرینڈ پریکس" وغیرہ ۔ یعنی جو ملک یا گروپ اپنے ہاں اِسکاانقعاد کرواتا ہے وہ اپنا نا م ساتھ لگا لیتا ہے۔ " گرینڈ پریکس" کے نام کا پہلا استعمال فرانس میں گھوڑوں کی ریس کے نام کے طو ر پر ملتا ہے جو 1863 میں ہوئی تھی۔پھر20صدی کے آغاز میں آٹو موبائلز کی ریسس کو بھی " گرینڈ پریکس" کا نام دیا جانے لگا جن میں موٹر سائیکل اور کاریں شامل ہیں ۔
فارمولا کی اصطلاح:
یورپ میں 1920ءتا 1930ءکے دوران کا ر ریسنگ کارُحجان بڑھنے لگا۔ لیکن جنگ ِعظیم دوم کے بعدتک اس میں کوئی باقاعدہ قواعد و ضوابط نہیں تھے ۔اُس وقت تک جو بھی ریس کا منتظم ہو تا خود ہی فیصلہ کر لیتا تھا کہ اس دفعہ ریس کا طریقہ کار کیا ہو گا۔ پھر 1946ءکے بعد حفاظتی اقدامات کو مد ِنظر رکھتے ہوئے ڈرائیورز اور کاروں کے مینوفیکچرز کیلئے اس ریس میں شامل ہو نے کیلئے باقاعدہ قواعد و ضوابط کا ایک فارمولا تشکیل دیا گیا ۔اسی"فارمولا " کی اصطلاح کو زیادہ مناسب سمجھا گیا اور " ون" سب سے پہلے پھر ریس۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِن میں ترمیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ :
فارمولا 1 کے تحت جب "اِنٹرنیشنل آٹو موبائیل فیڈریشن " نے 1950 ءمیں پہلی مرتبہ ڈرائیورز اور کار مینوفیکچرز کیلئے " گرینڈ پریکس" چیمپئین شپ کروانا کا فیصلہ کیا تو اُسی سال سے اسکی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور ساتھ ہی ورلڈ کلاس ڈرائیورز اور کارمینوفیکچرز کی شرکت نے چیمپئین شپ کو چار چاند لگانا شروع کر دیئے۔ پھرورلڈ ڈرائیورز چیمپئن شپ1981ءاپنے افتتاحی سیزن1950ءکے بعد دُنیا بھر میں ریسنگ کی اعلیٰ ترین میں سے ایک کہلائی۔2021ءتک 34ممالک اس ریس کی میزبانی کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں اورابو ظہبی گرینڈ پریکس2021ءکے72 ویںایڈیشن تک 1057ریسس اس سلسلے کی ہو چکی ہیں۔ 15 مختلف ممالک کے ڈرائیورز یہ چیمپئین شپ جیت چکے ہیں۔
ڈرائیورز ٹیم اور ریسنگ کاریں:
فارمولا1 کی ماڈرن ریس کیلئے ایک ایسی ریسنگ کار ہوتی ہے جس کے پہئے(وہیلز) کار کی مین باڈی کے باہر ہوتے ہیںاور صرف ایک سیٹ ہوتی ہے۔کار سے باہر نکلنے کا راستہ چھوٹا ہو تا لہذا ڈرائیور کو باہر نکالنے کیلئے پہلے اسٹرنگ وہیل باہر نکالناپڑتا ہے۔ مقابلے میں 20ڈرائیورز کی 10ٹیمیں ہو تی ہیں (یعنی فی2ڈرائیورز جو ریس کے دوران ایک دوسرے مخالف ہوتے ہیں)۔ اس لیئے ہرٹیم کے پاس 2ریسنگ کاریں ہو تی ہیں ۔ لہذا ایک ریس میں20کاریں حصہ لیتی ہیں (اگر منتظم چاہے تو 26کاریں بھی حصہ لے سکتی ہیں)۔ریس میں پوائنٹس فی ڈرائیورکو جیت پر ملتے ہیں اور ایک سیزن میں جیتنی ریسس ہوں اُن میں سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والے ڈرائیور اور کار مینوفیکچرز کو الگ الگ ٹرافی دی جاتی ہے۔ہر فی ریس میںپہلے نمبرپر آنے والے کو25،دوسرے پر18،تیسرے کو15اور اسی ترتیب سے10ویں نمبر پر آنے والے کوصرف1 پوائنٹ ملتا ہے۔11ویںسے آخری نمبر تک آنے والی ریسنگ کا ر کو کوئی پوائنٹ نہیں ملتا۔
ریس کے3دِن:
"گرینڈ پریکس3" روز جمعہ ،ہفتہ اور اتوار تک جاری رہتی ہے ۔ چونکہ ریس کا ہر ٹریک مختلف ہو نے کی وجہ سے موافق اور غیر موافق بھی ہو سکتا ہے ۔لہذا جمعہ والے روز ڈرائیورز ٹریک کے معیار کو جاننے کیلئے پریکٹس کرتے ہیں اور باقاعدہ سبق کی طرح یاد کرتے ہیں۔ ہفتے والا روز کوالیفائنگ کہلاتا ہے اور بہت اہم ہو تا۔ اُس روز ہر ڈرائیور اپنی ریسنگ کا ر میں ٹریک کا ایک راﺅنڈ انتہائی رفتاری سے مکمل کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔جس کا " ٹائم" سب سے کم ہو گا وہ اتوار کے روز فائنل ریس کے آغاز کیلئے سب سے آگے اپنی ریسنگ کار کھڑی کرے گا۔مثلاًہفتے والے دِن اگر ایک ڈرائیور نے۱یک منٹ 5اسکنڈ میں راﺅنڈ لگا یا ہو اور دوسرے نے۱یک منٹ دس اسکنڈ میں تو پہلے نمبر پر ایک منٹ 5اسکنڈ والا اُسکے پیچھے اُسے زیادہ وقت والا۔پھرتیسرے نمبر کے"ٹائم" والا۔ یہی ترتیب سب کاروں کیلئے ہو گی۔بس اتوار والے دِن اس ترتیب میں کھڑے ہونے کیلئے پہلے ڈرائیور ریسنگ کارمیں ایک "وارم اَپ لیپ"لگاتا ہے اور پھر اپنی ترتیب کے لحظ سے کھڑا ہو جاتا ہے ۔
عام کاروں کی رفتار 0سے200اور 200سے 0 کی کمی بیشی میں عام طور پر 10سے12اسکینڈ لگ جاتے ہیں ۔لیکن فارمولا1کی کار چونکہ خا ص ڈائیزین ومنصوبہ بندی سے بنائی جاتی ہے لہذااسکی رفتار 0سے160 اور 160سے0صرف 4اسکنڈ سے کم وقت میں چُھو لیتی ہے۔ ویسے ایک ریسنگ کا ر 375کلو میٹررفتار کو چُھو سکتی ہے۔اسے کم ر فتار پرایک چھوٹا جہاز اُڑ سکتا ہے ۔لہذا یہ سوال عام ہے کہ پھر یہ کار کیوں نہیں اُڑسکتی؟اصل میں ریسنگ کا ر کے حیران کُن " آٹو ڈائنامک" نُما " وِنگز" تیز رفتاری میں کار کا دباﺅ زمین کی طرف رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسکے انجن کی لاگت بہت زیادہ ہو تی ہے۔
فارمولا1کار کی لاگت:
فارمولا1کی کا ر کی بنیادی قیمت بغیر کوئی تبدیلی کروائے 7ملین ڈالر ہے ۔لہذا جو ممالک اور ادارے ریس کرواتے ہیں وہ کارمیں کافی حد تک ریس کے مطابق تبدیلیاں کرواتے ہیں جس سے ایک ریسنگ کار کی لاگت 14 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے اور فارمولا 1 کیلئے مکمل طور پر تبدیل شدہ کار بھی ریس کا حصہ بن سکتی ہے۔ بس غور طلب یہ ہے کہ اگر ریسنگ کا ر اتنی مہنگی ہے تو پورا ایونٹ کتنا مہنگا ہوگا ؟
ابھی بہت سی دِلچسپ معلومات باقی ہیں جنکو جاننے کے بعد فارمالا1ریس دیکھنے کا مزہ اور ہی ہے : (جاری ہے)

"آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "





Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 168 Articles with 216102 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
30 Dec, 2021 Views: 402

Comments

آپ کی رائے