بچوں کا ادب اور کانفرنس 2021

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے اس وقت پاکستان میں بہت کم افراد یا ادارے کام کر رہے ہیں بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہیں انہیں وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم مستقبل میں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں آج سے ہی اپنے بچوں پر وقت صرف کرنا ہو گا بچوں کے ادب کے لئے آج بھی بہت سے رسائل اور میگزین شائع کیے جا رہے ہیں انہیں میں سے ایک رسالہ" پھول "بھی شائع ہوتا ہے جس کے ایڈیٹر میرے بہت پیارے دوست محترم شعیب مرزا صاحب ہیں شعیب مرزا صاحب انتہائی محنتی ہیں اور وہ بہت خوب جانتے ہیں کہ بچوں کے لئے کس قسم کی کہانیاں شائع کرنے کی ضرورت ہے ملک کے نامور رائیٹرز ان کے میگزین میں لکھتے ہیں اور یہ بچوں کا مقبول ترین میگزین ہے مرزا صاحب پچھلے پانچ سالوں سے باقاعدہ بچوں کے ادیبوں کے لئے ایک سالانہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں مجھے ان تمام کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا ہے یہ تمام کانفرنسیں پی سی ہوٹل لاہور میں منعقد کی گئی ان کانفرنس میں ملک بھر سے ادیب شرکت کرتے ہیں اسی حوالے سے اس سال 26 دسمبر 2021کو بھی چھٹی کانفرنس منعقد کی گئی اس بار یہ کانفرنس پی سی ہوٹل کی بجائے الحمرا ہال میں منعقد ہوئی ہر بار کانفرنس کا کوئی نہ کوئی موضوع ہوتا ہے اس بار کانفرنس "بچوں کے حقوق کے تحفظ اور امن کے فروغ میں اہل قلم کا کردار " کے موضوع سے منعقد کی گئی جس پر مہمان خصوصی اور ادیبوں نے حاضرین محفل سے گفتگو کی اس تقریب کو منعقد کرنے میں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب ،لاہور آرٹس کونسل (الحمراء) اور اکادمی ادبیات اطفال قابل ذکر ہیں ان کی کوششوں سے ایک یاد گار تقریب منعقد کی گئی اس بار بھی اس کانفرنس میں آزاد کشمیر ،جنوبی پنجاب سمیت پورے ملک سے ادیبوں نے شرکت کی اس تقریب میں جہاں ادیبوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے وہاں ادیبوں کی کتابوں اور ان کے کام پر انہیں ایوارڈز اور اسناد سے بھی نوازا جاتا ہے اس بار بھی تقریباً ایک سو پچاس ادیبوں کو ایوارڈ دیے گئے اس تقریب میں تین سیشن رکھے جاتے ہیں ہر سیشن میں مختلف مہمان گرامی کو بلایا جاتا ہے کانفرنس کا آغاز قران پاک کی تلاوت سے کیا گیا حافظ علی احمد نے قران پاک کی تلاوت کی جبکہ نعت رسول مقبول ﷺسرور حسین نقشبندی نے پڑھی اس کے بعد باقاعدہ کانفرنس کا آغاز ہوا پہلے سیشن کے مہمان خصوصی محترم شعیب مرزا،محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ ،محترمہ کوثر خان صاحبہ ڈائیریکٹر جنرل محکمہ بلدیات حکومت پنجاب اور محترم ارسلان بٹ صاحب تھے محترمہ کوثر صاحبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ" اہل قلم سے مخاطب ہونا میرا لئے اعزاز ہے اہل قلم بچوں کے لئے سبق آموز کہانیاں لکھیں بچوں کا پہلا حق اندراج ہے اس کو یقینی بنایا جائے محکمہ بلدیات نے اس سلسلے میں کچھ قوانین بنائے ہیں جو انتہائی آسان ہیں بچے کی پیدائش پر اس کے نام کے اندراج کو یقینی بنائیں اور اہل قلم ، اور کالم نگار اس بات کو اجاگر کریں اور ماں باپ کو باور کرائیں کہ وہ بچے کی پیدائش پر خصوصاً بچیوں کی پیدائش پر ان کے ناموں کا انداراج ضرور کروائیں "

شعیب مرزا صاحب نے سب مہمانوں اور اہل قلم کو خوش آمدید کہا انہوں نے کہا کہ" میں اہل قلم کو سلام کرتا ہوں کہ اہل قلم ملک کے دور دراز علاقوں سے تشریف لائے کیونکہ اس سردی کے موسم میں آنا بڑی بات ہے میں تمام محکموں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کانفرنس میں ہماری بھر پور مدد کی انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پچھلی پانچ کانفرنسیں پی سی ہوٹل میں منعقد کی گئیں لیکن اس بار تاریخ نہ مل سکی آج ہال میں نامورلکھاری،ادیب اور صحافی موجود ہیں ہر ایک اپنی جگہ ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے میں سب کا شکر گزار ہوں "

اسی طرح پہلے سیشن کے تمام مہمان گرامی نے ایک ایک کر کے اہل قلم سے خطاب کیا اور بچوں کے ادب میں ان کے مقام کو سراہا دوسرے سیشن میں محترم حسان خاورمعاون خصوصیو ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب،محترمہ تسنیم جعفری،شہزاد احمد حمید سابق ڈائیریکٹر لوکل گورنمنٹ ،سجاد منیر ڈائیریکٹر لوکل گورنمنٹ پنجاب،ٹی وی پروڈیوسر حفیظ طاہر صاحب اور پروفیسر ریاض قادری صاحب تھے محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ ہر سال اس کانفرنس میں اہل قلم کی کتابوں اور کہانیوں پر انعامات کا اعلان کرتی ہیں اس بار بھی مرزا شعیب اور نذیر انبالوی کو انعامات سے نوازا گیا اس کے علاوہ بھی دوسرے لکھاریوں کو بھی نقد انعامات دیے گئے اسی طرح مسرت کلانچوی صاحبہ نے بھی ایک نقد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ۔مہمان خصوصی حسان خاور صاحب نے اہل قلم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں آج ہال میں موجود اہل قلم سے خطاب کر رہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک سپر پاور ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہے آپ کسی کو ایسی جادو کی گولی دے سکتے ہیں جسے وہ زندگی بھر یاد رکھے انہوں نے کہا کہ آپ مستقبل کا حال جانتے ہیں کیونکہ آپ کی کتابیں بچوں کومستقبل کے بارے میں بتاتی ہیں آپ کتابوں میں جس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں ایسا ہی معاشرہ تشکیل پائے گا میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل کے معاشرے کے آپ ہی معمار ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے ذہین ہوں تو انہیں کہانی سنائیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ بہت ذہین ہوں تو انہیں بہت سی کہانیاں سنائیں آخر میں انہوں نے کہا کہ بچوں کے ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی وزیر اعلیٰ سے بات کروں گا "

اس کانفرنس میں پہلے سیشن کے بعد تمام اہل قلم اور مہمانوں کی چائے اور بسکٹ سے تواضع کی گئی پھر دوسرا سیشن شروع ہوا اس کے اختتام کے بعد کھانا تقسیم کیا گیا اور پھر تیسرا اور آخری سیشن شروع ہوا جس میں تمام اہل قلم کو ایوارڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں تمام اہل قلم کو ایوارڈز محترمہ بشری رحمان صاحبہ کے ہاتھوں سے دلایا گیا اس کے بعد کانفرنس کا اختتام ہوا اور پھر تمام دوستوں کی ایک بار پھر چائے سے تواضح کی گئی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 317 Articles with 1492733 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
02 Jan, 2022 Views: 499

Comments

آپ کی رائے