کیا بائیو انرجی پاکستان کے لیے کوئلے کا بہترین متبادل ہے؟

 
دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع میں بائیو انرجی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بائیو انرجی انڈسٹری پائیدار جنگلات کو فروغ دینے کے ساتھ مقامی افراد کو روزگار کی ضمانت بھی دیتی ہے۔
 
دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی و حرکی توانائی کے ساتھ بائیو انرجی کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے مگر اس حوالے سے عالمی سطح پر تحفظات بھی زیادہ ہیں۔
 
بائیو انرجی کیا ہے اور مستقبل میں اتنی اہمیت کی حامل کیوں ہے؟
پاکستان میں بہت سے افراد شاید بائیو انرجی کے بارے میں نہیں جانتے ہوں تو ان کے لیے یہ واضح کرتے چلیں کہ بائیو انرجی دراصل نباتات اور حیوانات کی نامیاتی مرکبات کو ری سائیکل کر کے ان سے حاصل شدہ توانائی کو کہا جاتا ہے، جو ٹھوس، مائع اور گیس تینوں حالتوں میں تیار کی جا سکتی ہے۔
 
ٹھوس حالت میں یہ ووڈ پیلیٹس یا لکڑی کے چھرے ہیں، جنہیں درختوں کی لکڑی سے تیار کر کے بجلی تیار کرنے کے لیے پلانٹس میں کوئلے کے متبادل کے طور پر جلایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں امریکا، یورپی ممالک اور برطانیہ وغیرہ بڑے پیمانے پر ووڈ پیلٹس ایکسپورٹ کرتے ہیں۔
 
ووڈ پیلٹس اور کاربن کا اخراج
اس حوالے سے پرنسٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ انرجی اینڈ انوائرمنٹ کے سینیئر سکالر ٹموتھی سرچنجر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اگرچہ بائیو ماس کی قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں اہمیت بڑھ رہی ہے مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ ووڈ پیلٹس کو جب بجلی کی تیاری کے لیے پلانٹس میں جلایا جاتا ہے تو یہ کوئلے کی نسبت زیادہ کاربن فضا میں خارج کرتے ہیں۔
 
 
سرچنجر کے بقول اس کے علاوہ ان پیلٹس کی کٹائی، تیاری، خشک کرنے اور دیگر ممالک تک منتقلی کے دوران بھی کاربن کا اخراج ہوتا ہے، جو فوسل فیول کے استعمال سے خارج ہونے والے کاربن سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود بائیو انرجی کو ترجیح دینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جنگلات کہیں بھی ہوں یہ دراصل کاربن کا ذخیرہ ہیں۔
 
درختوں میں اضافے سے وہ کاربن ایکو سسٹم میں لوٹ آتا ہے، جو ووڈ پیلٹس کی کٹائی سے لے کر انہیں جلانے تک کے پورے عمل میں خارج ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر ووڈ پیلٹس انڈسٹری کھڑی کی گئی ہے، جو پائیدار جنگلات کو فروغ دینے کے ساتھ مقامی افراد کو روزگار کی ضمانت بھی دیتی ہے۔
 
بھوک اور افلاس کو کم کرنا ضروری ہے
اس حوالے پاکستان کے معروف انوائرمینٹل اکنامسٹ ڈاکٹر پرویز عامر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ غریب یا ترقی پذیر ممالک کو سب سے پہلے 'بھوک‘ اور 'دو وقت کی روٹی‘ پر توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے،''ماحولیات کی باری دیگر ضروریات زندگی جیسے تعلیم، صحت اور پانی کے بعد آتی ہے۔‘‘ پاکستان میں منسٹری آف انوائرمنٹ کو کل سالانہ بجٹ کا بشمکل 1 فیصد الاٹ کیا جاتا ہے۔ اسے اب منسٹری آف کلائی میٹ چینج بنا دیا گیا ہے۔
 
 ڈاکٹر پرویز کے مطابق دنیا بھر میں نباتات، جنگلات، وائلڈ لائف وغیرہ کے لیے علیحدہ بجٹ رکھا جاتا ہے،''مگر ہمارے ہاں ان سب کو ایک ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے گزشتہ 20 برسوں میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کافی اقدامات کیے ہیں مگر بجٹ اور درست سمت میں اقدامات کی کمی اب بھی ہے۔‘‘
 
انوائرمینٹل پیپر نیٹ ورک سے وابستہ سینیئر پالیسی میکر پیگ پٹ کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں پچھلی دو دہائیوں کے دوران بائیو ماس کی سپلائی میں دو گنا جبکہ ووڈ پیلٹس کی پیداوار میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے،'' اگلی دہائی میں یہ اضافہ 270 فیصد تک متوقع ہے۔ مگر اس سب کے لیے درست سمت میں منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے کیونکہ کرہ ارض کا قدرتی سسٹم انسانی سرگرمیوں کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے جو مزید تجربات اور ان کے منفی اثرات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘
 
 
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجہ کیا ہے؟
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجہ جنگلات کی اندھا دھند کٹائی ہے۔ کسی بھی ملک میں تقریبا 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے مگر پاکستان میں یہ رقبہ گھٹ کر محض 4 فیصد رہ گیا ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
 
عالمی ادارۂ خوراک و زراعت کی سن 2015 میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2.1 فیصد جنگلات کم ہو رہے ہیں اور ہر برس تقریبا 42 ہزار ایکڑ رقبہ جنگلات سے محروم ہو رہا ہے۔ ملک میں لکڑی کی مانگ اس کی ممکنہ فراہمی سے 3 گنا زیادہ ہے اور نجی ملکیت والے تقریباً 66 ہزار 700 ایکر رقبے پر جنگلات سالانہ کی اوسط سے ضائع ہو رہے ہیں۔
 
پاکستان میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا رجحان کیوں بڑھا؟
زیارت کے رہائشی کلیم اللہ خان اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں لوگوں کا روزگار جنگلات کی کٹائی اور لکڑی بیچنے سے وابستہ ہے۔ اسی لکڑی کو موسم سرما میں بطور ایندھن بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر زیارت کو گیس سپلائی کا منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ایسے میں غریب طبقے کو لکڑی یا کوئلے کے علاوہ کوئی اور ایندھن دستیاب نہیں ہوتا۔
 
 لیکچرار کلیم مزید کہتے ہیں کہ یہاں زیادہ تر افراد ان پڑھ ہیں،''ان افراد کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ ان کا کاٹا گیا صرف ایک درخت پورے خطے کے ایکو سسٹم اور خود ان کے ذریعہ معاش کو کس طرح برباد کر کے پاکستان میں "گرین ایمرجینسی" کا سبب بن رہا ہے۔ انسان خود تو بھوکا رہ سکتا ہے مگر اپنے گھر، بچوں اور خاندان کی کفالت ایک بھاری ذمہ داری ہے سو ہر کوئی مجبور ہے اور کرۂ ارض کا نوحہ سننے کو کوئی تیار نہیں۔‘‘
 
دیودار کے درخت
 اکتوبر 2021 میں پاکستان کے مشہور تفریحی مقام کالام میں محکمہ جنگلات کی زمین پر دیودار کے پانچ درختوں کو غیر قانونی طور پر کاٹا گیا تو مقامی افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد متعلقہ حکام نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا اور تین گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ساتھ ہی مجرمان کو بھاری جرمانہ بھی کیا گیا۔ یہ واقعہ کالام اور بحرین کو آپس میں ملانے والی ایک اہم سڑک کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً 50 برس عمر کے درختوں کو رات میں بھاری مشینری کی مدد سے کاٹا گیا تھا۔
 
دیودار کے ان جنگلات میں ہزار برس پرانے درخت بھی موجود ہیں، جن کی کٹائی سے پورے خطے کا صدیوں پرانا ایکو سسٹم تباہ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ کالام اور اطراف کے علاقے دیودار کا گھر ہیں، جہاں اس کی قدرتی آماجگاہیں ہیں۔ یہ درخت ان علاقوں کے قدرتی ماحول میں نشونما پاتے ہیں۔ دیہی علاقوں کے مکینوں کا ذریعۂ روزگار ان جنگلات کی کٹائی اور لکڑی بیچنے سے وابستہ ہے۔ دیودار کی انتہائی مضبوط لکڑی فرنیچر اور عمارتیں بنانے کے علاوہ بحری جہازوں کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
 
پاکستان میں توانائی کا بحران شدید تر کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
پاکستان فی الوقت توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ ملک کی کل آبادی کا تقریبا 68 فیصد ایندھن کے لیے لکڑی اور کوئلے پر انحصار کرتی ہے، جو زیادہ تر دیہی علاقوں کے مکین ہے۔ شہروں میں اگرچہ گیس و بجلی دستیاب ہیں مگر اربنائزیشن کے نام پر جنگلات کے کٹائی، فضائی آلودگی اور بڑھتی ہوئی صنعتوں کے باعث صورتحال ویسے ہی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
 
پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے چین کے تعاون سے سی پیک کے تحت کئی کول پاور پلانٹس منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ مگر فوسل فیول سے چلنے والے یہ پلانٹس فضا میں کاربن اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
 
عالمی سطح پر کول پاور پلانٹس پر شدید تنقید کے بعد پاکستان نے گلاسگو عالمی ماحولیاتی کانفرنس 2021 میں اپنے اس عہد کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں کوئلے سے چلنے والے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔
 
Partner Content: DW Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
09 Jan, 2022 Views: 908

Comments

آپ کی رائے