ریسکیو 1122کلرسیداں کی 2021 میں شاندار کارکدگی

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

کلرسیداں کے سرکاری اداروں میں اس وقت ریسکیو 1122 کا ادارہ کارکردگی کے لحاظ سے سر فہرست جا رہا ہے دھوپ ہو سخت سردی ہو رات ہو یا دن ہو ان کی ایمبولینسز ہر وقت دوڑتی دکھائی دیتی ہیں کہیں بھی کوئی حادثہ ہو باقی لوگ بعد میں اور ریسکیو 1122کا با ہمت عملہ وہاں پر سب سے پہلے پہنچ جاتا ہے چوھدری حارث کی قیادت میں یہ ادارہ ایک مثالی حثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ان کے تمام بہادر سپاہی ا ور بلخصوص ان کے ڈرائیورز پنی جانوں کو داؤ پر لگا کر دوسروں کی جانوں کو بچانے اور ان کو محفوظ بنانے میں مصروف عمل رہتے ہیں سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ تمام سٹاف دیانتدار اہلکاران پر مشتمعل ہے بڑے سے بڑے کارنامے تو یہ انجام دے ہی رہے ہیں اگر کوئی چھوٹا سا جانور بھی کسی مشکل جہگہ میں پھنس جائے تو اس کو بھی باحفاظت نکالنے میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی گردانتے ہیں اور دوسروں کی جانیں بچا کر خوشی اور آخرت کیلیئے اپنا زریعہ نجات محسوس کرتے ہیں مشکل سے مشکل کاموں کی انجام دہی کے بعد بھی پرسکون نظر آتے ہیں ان کے کام و کارکردگی کو جانچنے کیلیئے ان کے دفتر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہے بس آپ کلرسیداں کی حدود میں کسی جہگہ بھی تھوڑی دیر کیلیئے کھڑے ہو جائیں ٹوٹل کچھ منٹوں بعد ان کی ایمبولینس سائرن بجاتی کہیں ایمرجنسی والی جہگہ پر جا تی ہوئی دکھائی دے گی ویسے تو ریسکیو 1122کا تمام سٹاف ہی نہایت محنتی ہے اور سبھی اپنے فرائض دیانتداری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں ان تمام اہلکاروں کی محنتون کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی بہت اچھی جا رہی ہے ٹریفک حادثات ہوں آگ کی ایمرجنسی ہوریسکیو آپریشن ہو یا اینیمل ریسکیو ہوان اہلکاروں کو ہر وقت ثابت قدم پایا گیا ہے کورونا کے خلاف جنگ میں بھی ان کا کردار نہایت ہی اہمیت کا حامل رہا ہے حارث فاروق اور ان کی پوری محنتی ٹیم نے اس ادارے کے وقار اور معیار کو بلند کیا ہے اور یہ ادارہ آئے روز بہتری کی جانب گامزن ہے اور کلرسیداں میں قائمم سرکاری اداروں سے ہر لحاظ سے سبقت لے گیا ہے جس کی بڑی وجہ اس ڈیپارٹمنٹ کے اعلی حکام کی خصوصی توجہ اور ان کی پالیسیاں ہیں جن کو فالو کرتے ہوئے کلرسیداں آفس کے افسران و اہلکاران بہترین طریقے سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اپنے ادارے اور اپنے افسران بالا کیلیئے عزت افزائی کا باعث بھی بنے ہوئے ہیں ریسکیو 1122کلرسیداں کی پوری ٹیم واقع ہی بہت بہادر با اخلاق فرض شناس اور دیانتدار ہے ان کے پاس جب بھی کسی کام کے سلسلہ میں جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو سبھی اہلکار نہایت ہی خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں انہوں نے کلرسیداں کو محفوظ بنانے میں کوئی بھی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے میں ان کی کارکدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اپنی سرکاری مصرفیات کے ساتھ ساتھ جس کسی بھی سرکاری ادارے میں کوئی تقریب منعقد ہوتی ہے ریسکیو اہلکاران وہاں پر اپنی خدمات کی انجام دہی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ان کی اگر صرف سال 2021کی کارکدگی کا جائزہ لیا جائے تو پڑھتے ہوئے آنکھیں تھک جاتی ہیں ان کو پورے سال میں 1043 ایمرجنسی فون کالز موصول ہوئی ہیں 342روڈ ایکسیڈنٹ کیسز کو ڈیل کرتے ہوئے مریضووں کو ٹی ایچ کیو اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا ہے 481میڈیکل ایمرجنسی کیس ڈیل کیئے ہیں 1بلڈنگ کلیپس کیس ،56آگ لگنے کے واقعات45مخلتف جرائم کے واقعات،2ڈروونگ،1بلاسٹ ،85مختلف ملے جلے واقعات،30اونچائی سے نیچے گرنے کے واقعات،2بڑے حادثات،اور 10 آلریڈی شفٹڈاور 1085مریضوں کو شفٹ کیا ہے اس کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ اس محنتی ٹیم کی طرف سے بہت بڑی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ان کی مستند ٹیم ہمارے علاقہ کی خدمت میں پیش پیش ہے یہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے ہیں ہماری طرف سے حوصلہ افزائی ہی ان کی ہمت بڑھاتی ہے غریبوں اور لاچاروں کی دعائیں ہی ان کی مزدوری ہوتی ہیں ان کی خدمات کے پیش نظر ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ان کیلیئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کی جائیں اپنی کارکدگی کے بل بوتے پر حارث فاروق اور ان کی پوری ٹیم یقینا مبارک باد کی مستحق ہے
 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 194 Articles with 85150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2022 Views: 601

Comments

آپ کی رائے