مردان میں سپیشل پرسنز کے گراﺅنڈ پر کتوں کا میلہ

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
جرمن شیفرڈ رکھنے والے لوگ کون ہوتے ہیں ، معاشرے کا ایلیٹ کلاس ، کیونکہ ان کتوں کو پالنا بھی جوئے شیر سے کم نہیں ، کیونکہ خوراک اور اس کی دیکھ بھال ایک ایسے معاشرے میں جہاں بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا عام لوگوں کیلئے مشکل ہے ایسے میں جرمن شیفرڈ کے مقابلے منعقد کروانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی اس بات پر انسانوں کو بھی کتوں کے معیار پر لانا چاہتی ہیں.

کتے تو کتے ہوتے ہیں کیا پتہ کب بھونکنا بند کردیں اور کاٹنا شروع کردیں ، یہ ایک بڑے لکھاری کا جملہ ہے جو نصابی کتب میں پڑا تھا. ویسے بھی لکھت پڑھت کی اہمیت اب ہمارے معاشرے میں کتنی رہ گئی ہیں کتابیں پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہوگئی ہیں اور آن لائن سب کچھ دستیاب ہیں ،دنیا آن لائن پڑھتی ہے جبکہ ہم آن لائن بہت کچھ دیکھتے ہیں اور اتنے چپکے سے رات کے اندھیرے میں دیکھتے ہیں کہ بوڑھے تو بوڑھے اب تو نوجوانوں کی نظریں بھی خراب ہونا شروع ہوگئی ہیں. بات کتوںسے شروع ہوئی تھی اسی کتوں کی طرف آتے ہیں.لکھنے کا آغاز بھی کتوں سے اس لئے کیا کہ پہلی مرتبہ کھیلوں کے میدان میں کتے دیکھے .خدانخواستہ ہم کھلاڑیوں کو کتے نہیںکہہ رہے بلکہ حقیقت میں مردان میں ہونیوالے " ڈاگ شو"کی بات کرتے ہیں.اور ڈاگ شو بھی جرمن شیفرڈ کا` مطلب اس میں "کوسہ ڈب" کتا حصہ نہیں لے سکتا تھا.

مردان والے تو اسے اپنا اعزاز قرار دے رہے ہیں کہ ہم نے کتوں کو اکھٹا کیا ، ویسے کتوں کو گوشت پر اکٹھا کیا جاسکتا ہے ، لیکن خیر ، بات یہی ہے کہ سپیشل پرسنز کیلئے بننے والے اتنے خوبصورت گراﺅنڈ میں ایبٹ آباد سے لایا جانیوالا آسٹرو ٹرف بھی بچھایا گیا تاکہ سپیشل افراد جنہیں ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے انہیں کھیلوں کی جانب راغب کیا جائیگا اور مثبت سرگرمیوں کی طرف آنے سے نہ صرف یہ معاشرے کے کارآمد افراد بنیں گے بلکہ ان میں پائی جانیوالی احساس محروم بھی ختم ہوجائیگی لیکن وہاں پر سپیشل پرسنز کیلئے مقابلوں کے بجائے کتوں کا مقابلہ کروایاگیا ، اور کتے بھی جرمن شیفرڈ..

ہم ویسے بھی احساس محرومی کے مارے لوگ ہیں اپنے لوکل کتوں کی ہمیں پروا نہیں ، لیکن جب نام کسی انگریز ی کا آجائے تو پھر اس میں فخر محسوس کرتے ہیں ، ویسے سوال یہ ہے کہ کھیل کے میدان تو انسانوں کیلئے ہوتے ہیں کیا حکومت نے کتوں کو انسانوں کیٹگری میں شامل کیا ہے یا پھر انسان کتوں کی کیٹگری میں شامل کردئیے گئے ہیں ا س بارے میں کوئی اطلاع ابھی تو ہمیں موصول نہیں ہوئی لیکن جرمن شیفرڈ رکھنے والے لوگ کون ہوتے ہیں ، معاشرے کا ایلیٹ کلاس ، کیونکہ ان کتوں کو پالنا بھی جوئے شیر سے کم نہیں ، کیونکہ خوراک اور اس کی دیکھ بھال ایک ایسے معاشرے میں جہاں بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا عام لوگوں کیلئے مشکل ہے ایسے میں جرمن شیفرڈ کے مقابلے منعقد کروانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی اس بات پر انسانوں کو بھی کتوں کے معیار پر لانا چاہتی ہیں.

ویسے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ کو ریجنل سپورٹس آفیسر کے سروس سٹرکچر پرتوجہ دینا چاہییے جوگذشتہ چار سالوں سے التواءکا شکار ہیں ، کیا مردان میں کھیلوں کے مقابلوں کے بجائے سپورٹس گراﺅنڈ میں کتے وہ بھی ایلیٹ کلاس کے ا س بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ سپورٹس سے وابستہ افراد کو عا م لوگوں سے کوئی دلچسپی نہیں ، حالانکہ کھیلوں کے گراﺅنڈ یہی غریب لوگ آباد کرتے ہیں پوری دنیا میں کسی بھی کھیل میں آپ دیکھ لیں غریب ہی ٹاپ پوزیشن پر آئیں گے اور اسی کھیل کی بہ نسبت وہ آگے آتے ہیں پیسے کماتے ہیں ، کسی امیر یا ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والوں کے پاس اتناوقت نہی ہوتا کہ روزانہ اپنے آپ کو گراﺅنڈ میں خوار کرے ، ہاں یہ الگ بات کہ جب پیٹ بڑھنا لگتا ہے تو ورزش کرتے ہیں ورنہ انہیں گراﺅنڈ سے کوئی غرض نہیں ہوتی.اب مردان میں ان ایلیٹ کلاس کے لوگوں کیلئے کتوں کے مقابلوں کاانعقاد سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ کی آنکھیں کھولنے کیلئے ہی کافی ہے.ویسے سپورٹس سے وابستہ تمام افراد کو انہی کھیلوں سے وابستہ افراد کی بنیاد پر تنخواہیں غریب عوام ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتے ہیں ، اور یہی افسران یہی تنخواہ لیکر "بڑے بڑے گھروں میں ہذا من فضل ربی" لکھ کر سوتے ہیں -

کتوں کے اس میلے پر سرکار کے کتنے پیسے خرچ ہوئے ، یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا اور یہ سرکار کو کتنے میں پڑا ، کتنے ایوارڈ دئیے گئے یہ الگ کہانی ہوگی لیکن کیا ان اخراجات پر سپیشل پرسنز کیلئے کوئی میلہ ، سپورٹس مقابلہ نہیں ہوسکتا ، یہ وہ سوال ہے جس پر سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ کو سوچنا چاہئیے..آخر میں سپورٹس سے وابستہ افراد کو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ خدارا اگر غریب لوگوں جنہیں بڑے لوگ "کوسہ ڈب"سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اگر کسی دن انہیں "کوسہ ڈب"کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر "چودہ ٹیکے"لگوانا پڑیں گے جبکہ اس کے مقابلے میں "جرمن شیفرڈ" بھونکتے تو زیادہ ہیں مگر کاٹتے کم ہیں ..



Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 457 Articles with 270757 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
18 Jan, 2022 Views: 518

Comments

آپ کی رائے