اے قیس جنوں پیشہ،، ! انشاء کو کبھی دیکھا؟

(Tahir Ayub Janjua, )

11 جنوری کا دن اردو ادب کے افق پر دمکتے ایک درخشندہ ستارے کے غروب ہونے کا دن ہے, ایک ایسے بنجارے شاعر و ادیب کے اس جہاں سے اٹھنے اور کوچ کرنے کا دن, کہ جس نے اپنی نظموں, غزلوں , افسانوں,کہانیوں اور سفرناموں کو اردو ادب کے ماتھے پر ایک جھومر کی طرح سجا دیا, جس کے تخیّل کی پرواز نے زبان اردو کو کسی سجی سجائی دلہن کی سی عشوہ طرازیوں سے آشنا کیا, اور جس کے اپنے ہی بقول؛ " شاعری سے اس نے عشق کیا, نثر سے شادی, اور کالم نگاری کو تو جیسے اس کی ازدواجی زندگی کی حیثیت حاصل ہے"۔ جی ہاں اردو کے گلستانِ ادب سے اگر کچھ چننے جائیں تو " اِبنِ اِنشاء" کی تحاریر کی صورت میں ہر رنگ, ہر مزاج اور ہر طرح کی طلب و ذوق کے گل و گلدستے ملیں گے۔ جس کا جو دل چاہے اٹھا لے, جو چاہےخرید لے, اور جتنا چاہے حسبِ ذائقہ و حسب مراد اپنی روح کی چاشنی اور مٹھاس پا لے۔ ان کی تخلیقات کے رنگا رنگ جلووں کا دل چَسپ پِہلو یہ ہے کہ نثری تحریروں (کالموں، سَفرناموں، خُطوط اور طنز ومزاح وغیرہ) میں ہمیں ایک اِنتہائی کھلنڈرا اور ہنسی مزاح کے گلچھرے اُڑاتا "اِنشاء جی" مِلتا ہے, جب کہ شاعری (نظموں اور غزلوں) کے دریچوں میں سے اس کی اُداسی اور دل شکستگی کی کرنیں چِھن چِھن کر آتی ہیں, اور وہ بیابانوں کا ایک بے ٹھکانا مغموم دل گرفتہ سا بنجارا اور سادھو دکھائی دیتا ہے۔

25 جون 1927 کو ضلع جالندھر میں پیدا ہونے والے "انشاء جی" کا اصل نام تو شیر محمد تھا لیکن انہوں نے اپنی پہچان اپنے قلمی نام سے ہی بنائی, وہ اکثر کہا کرتے کہ میرے نام کے ایک حصے میں چوپائے کا نام آتا ہے, اور میں نہیں چاہتا کہ کسی انسان کی پہچان میں ایک چوپایا بھی شریک ہو اس لیے مجھے "ابن انشاء" کے نام سے ہی لکھا اور پکارا جائے تو بہتر ہے, "جمیل الدین عالی" نے ایک مشاعرے میں انہیں "انشاء جی" کہا تو تب سے وہ ہمیشہ کے لیے "انشاء جی" ہی ہو گئے۔
اُن کے والد کا نام چوہدری مُنشی خان اور والدہ کا نام مریم تھا, جو ایک خالص کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے, اِنشاء جی نے 1942ء میں لُدھیانہ ہائی سکول سے دَرجہ اَوّل میں میٹرک کا اِمتحان پاس کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد وہ انبالہ چھاؤنی میں مِلٹری اکاؤنٹس میں بطَورِ کلرک بھرتی ہو گئے۔ کم آمدنی، گھریلو اُلجھنوں اور دفتری مَصرُوفیات کے باوجُود اُنہوں نے تعلیمی سِلسِلہ مُنقطع نہیں ہونے دیا اور 1946ء میں انہوں نے جامِعہ پنجاب سے بی اے کا امتحان پاس کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اکاؤنٹس کی مُلازمت کو خیر باد کہا اور دہلی جا کر امپیریل کونسل آف ایگریکلچر میں بھرتی ہو گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور آئے اور اس وقت کے ایک مضبوط میڈیا سیکشن ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ 1949ء میں وہ ریڈیو پاکستان کی مُلازمت کے سِلسِلے میں ہی کراچی مُنتَقِل ہوئے جہاں اُنہوں نے اُردو کالِج کراچی میں داخلہ لیا اور 1953ء میں اُردو زُبان وادب میں ایم اے کا امتحان پاس کر لیا۔

شِعر گوئی کا شوق ابن انشاء کو بچپن سے ہی تھا, زمانہِ طالِب عِلمی میں انہوں نے کچھ انوکھے اور منفرد تخلص بھی اپنائے, جن میں "اصغر، قیصر، مایُوس" اور "مایُوس صِحرائی" قابل ذکر ہیں۔ نجی زندگی میں اُنہیں کئی سانِحات اور مَحرُومیوں مثلاً پہلی شادی میں ناکامی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعِری میں ، درد وغم، حزن وملال اور اداسی و پژمردگی کی بازگشت بکثرت سُنائی دیتی ہے۔ اُن کی بہت سی غزلیں اور نظمیں اُن کی ذہنی کیفیات کی غمّاز اور عکّاس ہیں۔ وہ خُود کِہتے ہیں کہ: "میری نظموں میں وحشت، سپردگی اور ربودگی میری زندگی ہے۔" اِنشاء جی نے بھرپُور شاعری کی ہے جس میں جوگ بَجوگ کی کہانیاں اور ویرانئی دل کی حَسرت وماتم کی حکایتیں ہیں۔ اُن کی شاعِری میں فقر، طنطنہ، وارفتگی اور آزارگی پائی جاتی ہے۔ اِنشاء جی کا پِہلا مجمُوعہ کلام 1955ء میں "چاند نگر" کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے عِلاوہ اُن کے شعری مجمُوعوں میں "اِس بستی کے اِک کُوچے میں (1976ء) اور دلِ وحشی (1985ء) شامِل ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک مخصوص امتیاز ہے جس میں امير خسرو کے الفاظ اور تعمیرات میں زبان کی یاد تازہ ہے۔ مزاح نگاری میں بھی انشاء جی کو خوب ملکہ حاصل تھا, مزاح میں ان کی تنصیفات "اردو کی آخری کتاب", (1971ء)، آپ سے کیا پردہ، خُمارِ گندم (1980ء) "باتیں اِنشاء جی کی" اور "قِصّہ ایک کنوارے کا" قابلِ ذکر ہیں۔ یہی وجہ کہ آج انہیں اردو ادب کے بہترین مزاح نگاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

انشاء جی نے بچوں کے لیے بھی تخلیقی کام کیا, " بلو کا بستہ" کے عنوان سے ان کی تصنیف کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی, بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں وہ بالکل الگ ہی انداز و اسلوب میں ڈھلے نظر آتے ہیں اور بلاشبہ یہی انفرادیت ہی باقی شعراء و ادباء سے ان کی الگ پہچان کرواتی ہے۔

انشاء جی نے 1960 میں اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا اور روزنامہ "اِمروز" کراچی میں "درویش دمشقی" کے نام سے کالَم لِکھنا شُروع کیے, پھر روزنامہ انجام, جنگ, اخبار جہاں سمیت درجنوں اخبارات میں قلمی جوہر دکھاتے رہے, 1959 میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے رُکن بنے اور 1962ء میں نیشنل بُک کونسل (اب اِس اِدارے کو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کہا جاتا ہے) کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور طویل مدت تک اِس عہدے پر تعیّنات رہے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کیے, جن میں گزرے ایک ایک پل کو انہوں نے اپنے سفرناموں میں سمو کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ "چلتے ہو تو چین کو چلیے"، "ابن بطوطہ کے تعاقب میں", جیسے سفرنامے آج اردو ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں "سحر ہونے تک"(ترجمہ روسی ناول)، ’انشا جی کے خطوط‘، ’نگری نگری پھرا مسافر‘ جیسی اعلیٰ پائے کی تصانیف اس امر کی غماز ہیں کہ انشاء جی نے اردو ادب کو نہایت اعلیٰ پائے کا تخلیقی مواد فراہم کیا۔ "انشاء جی" کے اسلوب اور معیار پر مشتاق یوسفی نے کیا خوب کہا؛ "بِچّھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ اِنشا جی کا کاٹا سوتے میں مُسکراتا بھی ہے۔"

ابن اِنشاء ٹوکیو بُک ڈویلپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشین کوپبلیکیشن پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مَجلِسِ اِدارت کے رُکن بھی رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے اُنہیں اِنگلستان میں تعیّنات کر دیا تھا تاکہ وہ اپنا عِلاج کروا سکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اُردو اَدب کے اِس مایہ ناز ادیب اور بنجارے شاعِر کو اُن کے لاکھوں مَدّاحوں سے جُدا کرکے ہی دَم لیا۔ وہ طویل عرصہ لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے, 11 جنوری 1978ء کا دن ان کا اس فانی نگر سے ابدی نگر کو روانگی کا دن تھا۔ اُنہیں 13 جنوری کو کراچی میں پاپوش نِگر کے قبرستان میں سُپُردِ خاک کیا گیا۔

ان کی وفات پر سید ضمیر جعفری نے کیا ہی خوب کہا؛ "اِبنِ اِنشاء چَل بَسے، چاند نگر کی رُوشنی دوستوں سے ہمیشہ کے لیے رُوٹھ گئی اور اُردو کا عظیم بنجارہ اپنی عُمر کی پُونجی لُٹا کر کُوچ کر گیا۔ اُردو نثر میں شگُفتگی کا سَدا بہار آبشار تھم گیا، وہ جِس کی باتوں میں گُلوں کی خوش بو تھی، وہ جس کے لفظوں میں موتیے کی کلیاں کھل اُٹھتی تھیں، افق کی دھند میں کھو گیا۔ وہ سورج جو صِرف اس کے قلم سے طلوع ہوتا تھا، ایوان اردو میں پھر کب چمکے گا؟ اردو مزاح نگاری کے قبیلے کا سردار رخصت ہو گیا۔ کل جب وہ ہم میں موجود تھا، ہم کتنے توانگر تھے، آج وہ ہم میں موجود نہیں، ہم کتنے نادار ہو گئے ہیں۔ ابنِ انشاء ایک بے بہا متاع تھے۔"

بلاشبہ آج وہ ہم میں موجود نہیں لیکن انہوں نے اردو ادب کے اُفق پرایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا تک لوگوں کو ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

"اب کوئی آئے تو کہنا کے مسافر تو گیا
یہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو"
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ayub Janjua

Read More Articles by Tahir Ayub Janjua: 4 Articles with 2069 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2022 Views: 496

Comments

آپ کی رائے