موت العالم ، مولانا محمد اکرم طوفانی

(Qazi Baha Ur Rahman, )

قُرب قیامت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں میں روشنی کے مینار یکے بعد دیگرے بجھتے چلے جا رہے ہیں ۔گزشتہ چند برسوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہم اہل پاکستان بڑے بڑے صاحبان علم و عرفان اور متقی بزرگوں کی بے باک قیادت سے محروم ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی عالم باعمل کی اس فانی دنیا سے رخصتی کے بعد ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔احادیث صحیحہ کے مطابق قحط الرجال کا یہ سلسلہ یوں ہی بڑھتا رہے گا اور بالآخر بدترین لوگ زمین پر باقی رہ جائیں گے جن کی کوئی پرواہ اﷲ تعالیٰ کو نہ ہو گی۔
سلسلہ اہل حق کے روشن چراغ ، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی رحمۃ اﷲ علیہ ایک منفرد اوربے مثال شخصیت کے مالک تھے ، آپ کے انتقال سے تحفظ ختم نبوت تحریک میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا۔آپ نے ناموس رسالت اور ختم نبوت کے لیے پوری زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اس کام کے لیے نہ صرف اندرون ملک بلکہ یورپی مسلم کمیونٹیز میں بھی آپ کی محنت اور لگن کا اعتراف ہے ۔ آپ کی جائے پیدائش اور آبائی ضلع اٹک ہے لیکن آپ نے اوائل جوانی ہی میں تحصیل علم کی خاطر سرگودھا کی طرف ہجرت کی ۔ جامعہ سراج العلوم سے حصول علم کے بعد جید بزرگوں کی خدمت و تربیت کا شرف حاصل کیا اور برصغیر کی تمام بڑی اسلامی تحریکوں میں شامل رہے، بالآخر اہل سرگودھا پر اپنی محبتیں نچھاور کردیں اور اس شہر کو اپنی تبلیغی آماجگاہ بنا لیا ۔ قریہ قریہ خوشہ چینی سے علم و عزیمت کا جو گلدستہ ترتیب دیا اس کی خوشبو آج بھی سرگودھا اور گردو نواح میں محسوس کی جاسکتی ہے ۔

آج سے 50برس قبل تحفظ ختم نبوت کی مہم سرگودھا شہر میں شروع کرنا مولانا اکرم طوفانی کا مشکل اور جرأت مندانہ فیصلہ تھا ۔ اس وقت تک آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار نہیں دیا گیا تھا لہٰذا اسلامیان پاکستان کو مختلف شہروں میں ان کا جارحانہ رویہ درپیش تھا ، عالمی سامراجی قوتیں ان کی پشت پناہی کر رہی تھیں اور انہیں برصغیر پاک و ہند پر مسلط کرنے کے لیے یہود ونصاریٰ نے اپنے مال خانے کھول رکھے تھے ۔ مرزائی سازشوں کا مرکز چناب نگر تھا جبکہ اس کے قرب و جوار بھی مکاری و شر پسندی سے محفوظ نہیں تھے ۔ سرگودھا شہر کا فاصلہ بھی قادیانی بستی سے بہت زیادہ نہیں ۔ اُس کٹھن وقت میں یہاں فتنہ قادیانیت کے خلاف آواز بلند کرنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ ناموس رسالت کے لیے مولانا کی فکر اور تڑپ کا اندازہ اسی امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے نہ صرف وہاں اس کام کی بنیاد رکھی بلکہ آخری دم تک ختم نبوت کا عَلم جرأت و بہادری کے ساتھ بلند رکھا ۔ کوئی دھمکی، خوف ، وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی ان کے قدم و عزم کو متزلز ل نہ کر سکی ۔ وہ ہر فتنہ کے مدمقابل سدِّ سکندری بن کر دینی عقائد و نظریات کا دفاع ڈنکے کی چوٹ پر کرتے رہے ۔

مولانا محمد اکرم طوفانی رحمتہ اﷲ علیہ کا ایک بہت بڑا کارنامہ سرگودھا میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہسپتال کا قیام ہے جس کی تعمیر پر کروڑوں روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی ۔ اس سے پہلے شہر میں اس سطح کا جدید ہسپتال موجود نہیں تھا اور مسلمان مریضوں کو چاروناچار چناب نگر کے مرزائی مشنری ہسپتال میں علاج کروانا پڑتا تھا ۔ وہاں قادیانی انتظامیہ مسلمانوں کی جیب کے ساتھ ساتھ ایمان پر بھی ہاتھ صاف کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ارتدادی مشن شمع ختم نبوت کے پروانوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ مولانا طوفانی نے متبادل ہسپتال کی تیاری خود پر لازم کر لی ، شبانہ روز محنت کرکے فنڈز جمع کیے اور صرف 3سال کے قلیل عرصہ میں یہ خواب پورا کر دکھایا۔ مولانا نے اس ادارے کا نام خاتم النبیینؐ میڈیکل کمپلیکس اینڈ ہارٹ سنٹر رکھا ۔ اس کا انتظام و انصرام خاتم النبیین ٹرسٹ کے ہاتھ میں ہے ۔یہاں سرگودھا کے علاوہ چنیوٹ، میانوالی، بھلوال ، خوشاب ، گجرات، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں ، کوہاٹ اور دیگر دور درازشہروں سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں ۔ جدید ترین مشینری اور پرائیویٹ ادارہ ہونے کے باوجود اس ہسپتال کے اخراجات انتہائی کم ہیں جبکہ غریب لاچار مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے ۔ ہسپتال کا بجٹ شہر کی تاجر برادری اور مخیر حضرات کے عطیات سے چلتا ہے ۔
 
سرگودھا کو ’’شاہینوں کا شہر‘‘ ملکی دفاع میں پی اے ایف بیس کے کلیدی کردار کی وجہ سے کہا جاتا ہے لیکن تحفظ ختم نبوت نصب العین کے لیے جو شاہین مولانا اکرم طوفانی نے تیار کیے اس تناظر میں سرگودھا شہر کا یہ لقب ہر لحاظ سے درست ہے ۔ تاریخی حقائق کے مطابق شہر کا نام ایک ہندو سادھو کے نام پر رکھا گیا تھا جس کا قیام موجودہ گول مسجد کی جگہ پر تھا ۔ بھارت میں ہندو تنظیمیں اپنے علاقوں اور اداروں کے اسلامی نام ختم کرکے ہندو مذہبی حوالوں سے موسوم کررہی ہیں جبکہ ہمارے شہروں کے ہندو نام اسی طرح موجود ہیں ۔ مولانا محمد اکرم طوفانی کی گراں قدر خدمات کا صلہ دینا کسی انسان کا بس نہیں لیکن سرگودھا شہر کے لیے زندگی بھر محنت کے بعد ان کا کم از کم یہ حق تو مسلّم ہے کہ شہر کو ایک ہندو سادھو کی بجائے ایک مسلمان عالم دین کے نام سے پکارا اور لکھا جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Baha Ur Rahman

Read More Articles by Qazi Baha Ur Rahman: 20 Articles with 14703 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jan, 2022 Views: 686

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ