خانہ خالی

کسی فلسفی نے کہا تھا کہ خالی گھر میں بھوتوں ،چڑیلو ں اور مافوق الفطرت عناصر کا بسیرا ہوتا ہے ۔اس قسم کے گھر میں آسیب اور پچھل پیری کی ریشہ دوانیاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ انسانیت کو ناقابل اندمال صدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کئی غاصب اور مہم جو عناصر خانہءخالی کو دیکھ کر اس پر دھاوا بول دیتے ہیں اور اپنے مفادت کے لیے سب کچھ داﺅ پر لگا نے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔بس ایک ہی تمنا ان کے دل میں چٹکیاں لیتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح خانہ خالی پر اپنا تسلط قائم کر لیا جائے۔فارسی کی ایک مثل ہے کہ ” خانہ خالی را دیو می گیرد“اس پر اب ہر شخص کو یقین ہو چلاہے ۔جس کا عقل کا خانہ خالی ہو وہ بھی کسی نہ کسی خانے کو ہتھیانے ،اس پر قبضہ جمانے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر اپنی دھاک بٹھانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں دکھائی دیتا ہے ۔اپنا خالی خانہ بھرنے کے لیے مجبوروں کا خانہ خراب کرناتو ظالم و سفاک ،موذی و مکار استحصالی عناصر کا وتیرہ بن چکا ہے ۔مسلسل شکست دل سے اس قدر بے حسی بڑھ گئی ہے کہ سکون ہی عنقا ہو گیا ہے۔آج کا دور اپنے لیے خانہ بر انداز چمن کی تلاش میں ہے ۔اس کارخانہ قدرت میں کار جہاں اس قدر دراز ہے کہ اس میں الجھ کر انسان اطمینان اور راحت کے حصول کی تمنا میں سر گرداں ہے مگر دہر میں اسے کہیں بھی آسودگی نہیں ملتی ۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

خانہ ءخالی آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ بن گیا ہے ۔یہ تمام مسائل کی جڑ ہے ۔قبضہ گروپ ،انڈر ورلڈ(Underworld)،استحصالی مافیا اور ہوس جاہ و منصب سے مغلوب درندوں نے خانماں برباد انسانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کے تصور سے نہ صرف رونگٹے بلکہ کان بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔یہ بات طے ہے کہ خرگوش اور خود خر بھی اپنے کان ہلا ہلا کر مگس رانی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔کئی خان جاناں آج بھی گل کی صباحت اور آرزو کی آرزو میں ہلکان ہوتے پھرتے ہیں۔ان کو امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی امنگوں کا چمن شگفتہ دکھائی دیتا ہے ۔ان کا مہمان خانہ اس قدر خالی ہو گیا ہے کہ اس کے درو دیوار سے حسرت و یاس ٹپک رہی ہے ۔ایام گزشتہ کی لٹی محفلوں کی دھول سے ان کا چہرہ دھندلا گیا ہے مگر ان کی سوچ کا خانہ اب بھی اپنی تسبیح روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرنے میں مصروف ہے ۔کئی چربہ ساز ،خفاش منش ،بگلابھگت اور جو فروش گندم نما متفنی ہر وقت کسی نہ کسی کا خانہ اپنی غاصبانہ دستبرد سے تلپٹ کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہوتے ہیں ۔اس کے بر عکس تصوف کے پیروکار ہر خانے میں توحید کے جلوے دیکھ لیتے ہیں ۔عشق حقیقی کا یہ ارفع معیارنہاں خانہء دل کی تطہیر و تنویر کے امکان کو یقینی بنا دیتا ہے اور زندگی کی حقیقی معنویت کا احساس اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے ۔
مدرسہ یا دیر یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سب ہی مہماں تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا

ہر حساس دل کے اندر بھی ایک خاص خانہ ہوتا ہے اس خانے میں کسی کی حسین یادیں رچ بس جاتی ہیں ۔محبت کرنے والے اسی خانے کی تعمیر و تزئین پر توجہ دیتے ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر یہ خانہ مکیں کے لیے شایان شا ن انداز میں تیار و استوار کیا جائے تو مکیں اس میں بڑی عجلت کے ساتھ آکر رین بسیرا کرے گا۔اس کے علاوہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خانہ ءدل کا مکیں اس کو خالی کر کے اجنبی منزلوں کی جانب رخت سفر باندھ لیتا ہے ۔رفتگاں کی یاد کا دکھ اس عبرت سرائے دہر میں پیمان وفا باندھنے والوں کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے ۔ایسے حادثے کبھی پلک جھپکتے میں نہیں ہوتے بلکہ وقت سالہا سال تک ان کی نمو کا اہتمام کرتا رہتا ہے ۔دل کی ویرانی کا اب کیا مذکور ہے ۔زندگی کا سفر تو جیسے تیسے کٹ ہی جاتا ہے مگر خانہءدل کی ویرانی روح کو زخم زخم اور دل کو کرچی کرچی کر دیتی ہے۔جب دکھی انسان کرچیوں میں بٹ جاتا ہے تو نالہ ،فریاد ،آہ اور زاری کا جو اعصاب شکن مرحلہ آتا ہے وہ حد درجہ لرزہ خیز ہوتا ہے ۔خانہءدل میں ایک کہرام مچ جاتا ہے ۔
شور برپا ہے خانہءدل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں زندگی کی اقدار عالیہ کو شدید ضعف پہنچا ہے ۔وقت کے ایسے حادثات سامنے آرہے ہیں کہ انھیں کوئی نام دینا بھی ممکن نہیں ۔اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ جامہءابو جہل میں ملبوس فاتر العقل، مخبوط الحواس،کندہء ناتراش اور مشکوک نسب کا ابلہ بھی راوقیت کا داعی بن کر اپنی جہالت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ایسے آستین کے سانپ بھی معاشرے میں عام ہیں جو دوستی کا سوانگ رچا کر رتیں بے ثمر ،کلیاں شرر ،آہیں بے اثر اور زندگیاں پر خطر کر دیتے ہیں اور وہی کردار ادا کرتے ہیں جو برادران یوسف نے کیا تھا ۔ایسے نام نہاد رفیق کار جو مجبورو ں اور سادہ لوح انسانوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو اہل کوفہ کی روایتی پیمان شکنی کی یاد دلاتا ہے ۔ایسے دوست تو دشمن سے بھی زیادہ تباہ کن اور ہولناک کردار ادا کرتے ہیں۔انسانیت کی توہین ،تذلیل، تضحیک ا ور بے توقیری کرنے والے ایسے ننگ انسانیت بے ضمیروں کو معاشرتی زندگی کا ایک ایسا فتنہ سمجھا جاتا ہے جس نے کذب و افتر اور کینہ پروری کے باعث آدمیت کو گہرے چرکے لگائے ہیں۔ان کی خباثت اور قبیح کردار کی وجہ سے امیدوں کی فصل غارت ہو جاتی ہے اور صبح و شام کی محنت اکارت چلی جاتی ہے ۔
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم تھا
ہوئے تم دوست جس کے ، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

خانہ ایک ایسا لاحقہ ہے جو آن کی آن میں لفظ کو کثیر المعنویت کی وسیع وادیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔مثال کے طور پر عقوبت خانہ ،چنڈو خانہ ،شراب خانہ،مے خانہ ،صنم خانہ ،نقار خانہ ،بت خانہ،غریب خانہ ،پاگل خانہ،دوا خانہ ،خم خانہ ،عزا خانہ ،کتب خانہ،جیل خانہ اور مرغی خانہ وغیرہ ۔ہم دیکھتے ہیں کہ خانہ کو جو تکثیریت حاصل ہے وہ کسی اور لاحقے کی قسمت میں نہیں ۔گندے جوہڑ کے نواح میں رہنے والا ایک سادیت پسند فلسفہ زدہ شخص (ناصف کھبال)کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہو گیا ۔اسے کچھ عرصے کے لیے فاﺅنٹین ہاﺅس میں منتقل کیا گیا لیکن یار لوگوں کو تو ایک بہانہ چاہیے تھا اس کی تذلیل کا ،جب وہ قدرے صحت یاب ہو کر واپس آیا تو ہر طرف سے یہ آواز آتی تھی کہ ناصف کھبال پاگل خانے کی یاترا کر کے واپس آیا ہے ۔کم سن بچے اسے دیکھتے ہی پاگل اوئے ۔۔۔پاگل ای اوئے ۔۔۔ کا نعرہ مستانہ لگاتے اور بھاگ جاتے ۔ناصف کھبال اپنی فلسفیانہ مو شگافیوں کے باوجود اپنی ذہنی صحت کے بارے میں اپنے حلقہ ءاحباب کو قائل نہ کر سکا ۔وہ لوگوں کو کاٹنے کو دوڑتا آخر کار اسے مستقل طور پر خانہ ءزنجیر میں محبوس کر دیا گیا ۔اب تو اس کی تما م سرگرمیاں محض خانہ پری کی ایک صور ت بن گئی ہیں۔خانہ کو جو معنوی تنوع حاصل ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ہر جگہ خانہ کے معانی دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتے ہیں

۔ہر خانہ گنجینہ ءمعانی کا طلسم بن کر فکر و نظر کہ مہمیز کر رہا ہے ۔خانہ گلدستہءمعنی کو نئے ڈھنگ سے باندھنے اور اک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنے کی ایک حیران کن صورت سامنے لاتا ہے ۔تاریخ کا ایک مسلسل عمل ہو اکرتا ہے ۔ہم اپنے معاشرے کو مختلف خانوں میں بانٹ کر بہت بڑی کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔وسائل کی بندر بانٹ نے عجب گل کھلائے ہیں۔آج جاہ و منصب پر غاصبانہ طور پر قابض
مافیا نے دستیاب وسائل کو اندھے کی ریوڑیو ں کی طرح صرف اور صرف اپنوں ہی میں بانٹنے کا وتیر ہ اپنا رکھا ہے ۔اغیا ر کے کاشانو ں پر تو انعام و اکرام کی بارش ہو رہی مگر پیمان وفا باندھنے والوں پر عرصہ ءحیات تنگ کر دیا جاتا ہے ۔ان حالات میں انسان ہجوم غم میں دل کو سنبھالنے کی سعی ءناکا م کے باوجود پکار اٹھتا ہے ۔
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خانہ اپنے تمام کروفر اور انداز حجابانہ کے با وجود معاشرتی زندگی میں اپنا جائز مقام حاصل نہیں کر سکا ۔خانہ کی رنگت در اصل خانہ ساز کی منشا اور نیت پر منحصر ہے ۔آپ جس خانے کو لے لیں وہاں طلسم ہوش ربا کی کیفیت جلوہ گر دیکھیں گے ۔ہر خانے کے اندر ایک جہان معانی آباد ہے ۔یہ دنیا ایک بت خانے کی صورت میں نگاہوں کو خیرہ کر رہی ہے ۔ہمیں بتوں سے تو امیدیں ہیں مگر خدا سے نومیدی ہے اسی کا نام توبے یقینی اور تشکیک ہے جو کہ غلامی سے بھی بد تر ہے ۔بت خانے میں بتوں کے ناز و انداز دیکھ کر کئی جذباتی لوگ ہو ش و خرد سے محروم ہو جاتے ہیں ۔جب بت خانے کے جامد و ساکت بتوں کے ناز برداشت سے باہر ہو جائیں تو سینہ و دل حسرتوں سے چھا جاتا ہے اور ہجوم یاس میںدل گھبرا جاتا ہے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ آج کے بے حس معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حساس تخلیق کار کو جانداروں کے لرزہ خیز مسائل کا احوال سنگلاخ چٹانوں اور جامد بتوں کے سامنے بیان کرنا پڑتے ہیں ۔آج تو ریت کے گھروندے بنانے والوںنے اندھیر مچا رکھا ہے ۔صدیوں کے تحیر سے نڈھال فکر انسانی اس سے تڑپ اٹھتی ہے جب اس کے سامنے سد سکندری حائل ہو اور اس کو کاٹنے کے لیے تیشہ ءزر کی احتیاج ہو ۔اس تما م صورت حال سے انتہائی ملول اور دل برداشتہ ہو کر وہ پکار اٹھتا ہے کہ وہ تو شیشے کے گھر میں براجمان ہے اس کا بسیرا ایک ایسے گلشن میںہے جس میں زاغ و زغن اور بوم و شپر نے ہر شاخ کو دبوچ رکھا ہے ۔بہ قول سید جعفر طاہر :
میں نے جو تیرے تصور میں تراشے تھے کبھی
لے گئے وہ بھی میرے گھر سے پجاری پتھر

ناز ہر بت کے اٹھا پائے نہ جعفر طاہر
چوم کر رکھ دیئے ہم نے یہ بھاری پتھر

اس وسیع و عریض عالم آب و گل کے تمام مظاہر دیکھ کر یہ گمان گزرتا ہے کہ یہ کائنات ابھی شاید نا تمام ہے ۔اس کے کئی خانے تو ابھی خالی ہیں ۔اس دنیا میں پائے جانے والے تضادات بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خانوں میں بٹے ہوئے معاشرے کی وہ کیفیت ہے جو ہر لمحہ اور ہر آن ہمارے سر پر مسلط ہے ۔آج معاشرہ متضاد خانوں میںبٹ چکا ہے کہیں امیری ہے تو کہیں فقیری ہے ۔کہیں آمریت ہے تو کہیں جمہوریت کی داغ بیل دکھائی دیتی ہے ۔اپنے تمام تر تضادات ،ارتعاشات،بے رنگیوں ،بے ہنگم کیفیات اور کجیوں کے باوجود زندگی کا یہ ساز بھی عجب ساز ہے جو مسلسل بج رہا ہے مگر کسی کے کانو ں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔خالی خانے پر قبضہ ہو جانے کے بعد اسے واگزار کرانا تو اب دیوانے کا خواب بن گیا ہے ۔پولیس کے پاس خانہ تلاشی کے جو اختیارات ہیں،ان سے بعض اوقات ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ اہل کار اہل خانہ کو قیمتی سامان سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔یہاں عجیب افراط و تفریط کا عالم ہے ۔بے شمار خانے ہیں جن میں انسانیت کو بانٹ دیا گیا ہے ۔غریبی میں نام پیدا کرنے کی تمنا رکھنے والے اپنے اپنے جداگانہ خانوں میںرہتے ہوئے بھی ایک انداز دلبرانہ اور شان استغنا سے کام لیتے ہوئے پکار اٹھتے ہیں ۔بہ قول مجید امجد:
تیرے فرق ناز پہ تاج ہے ،میرے دوش غم پہ گلیم ہے
تیری داستاں بھی عظیم ہے میری داستاں بھی عظیم ہے

متعدد خانے ایسے بھی ہیں جو اپنی متنوع کیفیات کے باعث اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ۔یتیم خانوں ہی کو لے لیں جہاں ایک زمانے میں محض فاقہ کش کم سن بچوں کی اکثریت رہتی تھی اور ان کی کفالت مخیر افراد کیا کرتے تھے ۔آج کے دور میںسیاسی یتیموں کی فوج ظفر موج ہر طرف دندناتی پھرتی ہے اور ان کی نمو ، نشو و نمااور ارتقا کی تمام ذمہ داری ووٹروں نے سنبھال رکھی ہے ۔تیسری دنیا کے ناخواندہ ووٹر سیاسی یتیموں کی رسد کو یقینی بنانے میں بڑے انہماک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہ لوگ جب جاہ و منصب پر غاصبانہ قبضہ کرتے ہیں تو ہنستے بستے چمن کو کباڑ خانے میں بدل دیتے ہیں ،روم جل رہا ہوتا ہے اور وقت کے یہ نیرو دیپک راگ الاپ کر اپنے ذہنی افلاس کا ثبوت دیتے ہیں۔تیسری دنیا کے غریب عوام جو غربت کی انتہائی سطح سے بھی نیچے زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور ہیںبنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے سلسلے میں ایسے لگتا ہے کہ وہ پتھر کے زمانے کے ماحول کے اسیر ہیں ۔ان کے شفاخانوں میں دوا،علاج اور شفا عنقا ہے ۔ان شفاخانوں کے صدر دروازو ں پر کتبہ سازوں کی دکانیں قائم ہیں۔یہ کتبہ سازان عطائیوں کے پاس علاج کی غرض سے جانے والے مریضوں کی قبروں کے لیے کتبے تیار کرتے ہیں ۔ان عطائیوں کی وجہ سے موت کے سائے آبادیوں پر منڈلا رہے ہیں۔اہل ہوس نے ہر سو دام بکھیرے ہیں۔ان عطائیوں کی وجہ سے یہ بے بس افراد زندگی کے خانے سے نکل کر قبر کے خانے میں تہہ ظلمات چلے جاتے ہیں۔
نہ مدعی نہ شکایت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

تیسری دنیا کے ممالک کے عوام کو سپر پاورز نے اپنی آہنی گرفت میںلینے کے بعد انھیں صبح و مسا قرض در قرض کی فکر میں الجھا رکھا ہے ۔ان کے گھروں کی دیواروں پر اداسی ،مایوسی ،محرومی ،بے بسی ،بے چارگی اور غربت و افلاس بال کھولے گریہ و زاری میں مصروف رہتی ہے ۔ان غریب ممالک کے نام نہاد حکمرانوں کو سپر طاقتیں اپنا خانہ زاد غلام تصور کرتی ہیں اور وہ ان بادشاہ گروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہیں۔قرض کی دلدل میں دھنسے تیسری دنیا کے غریب ممالک کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی کور مغزی ،بے بصری اور عاقبت نا اندیشی نے ان ممالک کے بد قسمت عوام کو اقوام عالم کی صف میں تماشا بنا دیا ہے ۔ان کی آزادی کی بے توقیری کا یہ عالم ہے کہ ان کے سر پر تو تاج ہے مگر ان کے پاﺅں بیڑیوں سے فگار ہیں۔واحسرتا کہ تیسری دنیا کے غریب ممالک کے بے بس و لاچار عوم تو ڈربہ نما جھونپڑوں پر مشتمل عقوبت خانوں میں زندہ درگو رہو گئے ہیں مگر ان ممالک کے مطلق العنان حکمران قیصر و کسریٰ جیسے ٹھاٹھ باٹھ سے اپنی عیاشیوں اور اللوں تللو ں میں مصروف ہیں۔

گھریلو خواتین کی زندگی کا کوئی خانہ ایسا نہیں جو کہ خالی رہ جائے۔خانہ داری کے جھنجھٹ ان کو ہمہ وقت الجھائے رکھتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں اگر کسی کو آٹے دال کا حقیقی بھاﺅ معلوم ہے تو وہ خانہ دار خواتین ہیں ۔کمانے والے مرد اپنا پیٹ کاٹ کر ضروریات زندگی فراہم کرتے ہیںجب کہ خاتون خانہ تمام کھانے والوں کے لیے مزے مزے کے کھانے تیار کر کے لذت کام و دہن کا بھرپور اہتمام کرتی ہے ۔در اصل پیٹ بھی ایک خانہ ہی تو ہے جس کا خالی رہنا کسی کو گوارا نہیںہے ۔اس دنیا کے تمام گورکھ دھندے اسی پیٹ کے خانے کی خالی جگہ پر کرنے کے لیے جاری و ساری ہیں ۔ مطبخ یا باورچی خانہ اس کام کے لیے بہت مفید ہے ،جہاں ہمہ وقت انواع و اقسام کے کھانے تیار ہوتے ہیںجن کی مہک سے منہ میں پانی بھرآتا ہے اوروہ آنتیں جو کہ قل ہو اللہ پڑھ رہی ہوتی ہیں وہ مطبخ سے من و سلویٰ کھا کر الحمد للہ کا ورد شروع کر دیتی ہیں۔ایسے معجز نما کرشمے دیکھ کر قوت نامیہ کی افادیت کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔

ہمارے محلے میں پچھلے چند روز سے ایک بد خط شخص بڑے بھونڈے انداز میں ہر گھر کے دروازے پر ایک الٹا سیدھا نمبر درج کرنے میں مصروف ہے ۔اس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ لکھے مو سا پڑھے خود آ۔اس شخص سے جب نمبروں کے اندراج کے اجمال کی تفصیل دریافت کی تو وہ یوں گویا ہوا: ”اب ملک بھر میں خانہ شماری کا آغاز ہو گیا ہے ۔اس کے بعد مردم شماری کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔جب مردم شماری کا تمام کام پایہ ءتکمیل کو پہنچے گا تو ووٹوں کے اندراج کا کام شروع ہو گا ۔جب ووٹر لسٹیں مکمل ہو جائیں گی تو ان پر اعتراضات طلب کیے جائیں گے ۔تمام اعتراضات دور کرنے کے بعد یہ ووٹر لسٹیں الیکشن کمیشن کے سپرد کر دی جائیں گی ۔اس کے بعد عام انتخاب ہو ں گے اور پھر سلطانیءجمہور کا زمانہ آجائے گا۔“

پاس ہی بیٹھے ہوئے نتھو خان نے ٹوکتے ہو ئے کہا ”جب جمہوری حکومت آئے گی تو اس کے ساتھ ہی اپنی ناکامی اور نا مرادی کے واقعات بھی دہرائے گی ۔اس کے بعد فوری طور پر جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی اور آمریت کے طویل اور صبر آزما دور کا آغاز ہو جائے گا ۔یہی تیسری دنیا کے ممالک کا دستور ہے ۔“

میں تو نتھو خان کو ایک جید جاہل سمجھتا تھا لیکن وہ تو رواقیت کے داعی بڑے بڑے نام نہاد دانش ورو ں سے بھی زیادہ ذکی الحس نکلا ایسے لوگ تو حالات کے نباض ہوتے ہیں۔ان کی حساسیت کا خانہ تو اس قدر صداقت سے معمور ہے کہ ان کی فکری تونگری پر رشک آتا ہے ۔حبیب جالب نے کہا تھا :
وہی حالات ہیںفقیروں کے
دن پھرے ہیںفقط وزیروں کے

وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

میں دیر تک سو چتا رہا کہ ان چھوٹے لوگوں کا دل کتنا بڑا اور سوچ کتنی گہری ہوتی ہے ۔یہی طبقہ اپنے خانہءدل میں وطن اور اہل وطن کے لیے سچی محبت،خلوص اور دردمندی کے جذبات کی دولت فراواں لیے ہوتا ہے ۔یہ لوگ جانتے ہیں کہ وطن محض چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں یہ تو محب وطن لوگوں کے جسم اور روح سے عبارت ہے ۔کاش ہم میں نام نہاد خود ساختہ مدبروں کے بجائے اس قسم کے نتھوخان کثرت سے پیدا ہوں جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے سب کی آنکھیں کھول دیں۔مجھے سید ضمیر جعفری بے حساب یاد آئے انھو ں نے کہا تھا :
بڑی مدت سے کوئی دیدہ ور پیدا نہیں ہوتا
جو ہوتا ہے مسلمانوں کے گھر پیدا نہیں ہوتا

خواتین کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ فیشن اور مغربی تہذیب کی نقالی میں وہ حد اعتدال سے تجاوز کر جاتی ہیں ۔وہ خاتون جو پہلے چراغ خانہ ہوا کرتی تھی اب اسے شمع محفل بننے کا خبط ہو گیا ہے ۔اس رجحان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ہمیں اپنی مٹی پر چلنے کا قرینہ بہ ہر حال سیکھنا ہو گا اگر ہم درآمد شدہ سنگ مرمر پر چلنے پر بہ ضد رہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم پھسل کر منہ کے بل گریں گے اور ہماری ہڈی پسلی ایک ہو جائے گی ۔اس کے بعد ان بھونڈی نقالی کرنے والوں کو خانہ بدوشوں کی طرح در بہ در اور خاک بہ سر جوتیاں چٹخانے کے علاوہ کچھ نہ سوجھے گا ۔

جدید دور نے نگارخانے ،قمار خانے ،نقار خانے اور پتا نہیں کتنی تعداد میں اور خانے اختراع کر لیے ہیں ۔حسن بے پروا کو اپنی بے حجابی کے لیے نگارخانے بہت مرغوب ہیں ۔حسن پرست بھی جوق در جوق نگار خانوں کا رخ کرتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے مہ جبینوں کے خورشید جمال کے مرہون منت ہیں ۔ہر لو دینے والی شمع پر جل مرنے والے یہ پروانے اپنا سب کچھ حسن کے جلووں کی خاطر داﺅ پر لگا دیتے ہیں ۔اور اس طرح ان کے خانماں برباد رہنے کی داستان اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہے ۔غربت ،افلاس اور بے روزگاری نے قمار خانوں کی چکا چوند کو ماند کر دیا ہے ۔میں نے بارہا کوشش کی ہے کہ اہل درد کو تمام واقعات کے بارے میں کھل کر بتاﺅں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔
Dr. Ghulam Shabbir Rana
About the Author: Dr. Ghulam Shabbir Rana Read More Articles by Dr. Ghulam Shabbir Rana: 80 Articles with 236721 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.