ڈپریشن اور ہراسگی باعث تشویش

(QAFIA KHAN, )

آجکل ہر دوسرا بندہ ڈپریشن کا شکار نظر آتا ہے تو دوسری طرف معاشرے میں ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پر تشدد روئیے بھی باعث تشویش ہیں بلخصوص ایسی خواتین جو خاموشی سے ظلم سہتی رہتی ہیں اور بدنامی کے ڈر سے سامنے نہیں آتی انہی خواتین کے لیے حکومت نے سرکاری محکموں سمیت کام کرنے کے مقامات پر انسداد ہراسگی کے لئے اقدامات کو موثر بنایادیا ہے اب ہراسگی میں ملوث ملزمان کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جاسکتاہے ہراسگی کے مقدمات میں حق و انصاف پر مبنی فیصلوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں وسیع پیمانے پر شعوری آگاہی کی ترویج ضروری ہے تاکہ ایسے حالات کا قلع قمع کیا جاسکے جو پر تشدد رویوں کو جنم دیتے ہیں اس ضمن میں سول سوسائٹی ، وکلاء کی تنظمیوں ، میڈیا آرگنائزیشن، سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگے بڑھ کر خواتین کاساتھ دینا ہوگا تاکہ مل جل کر کثیر الجہتی اقدامات کے ذریعے معاشرے سے ہراسگی اور تشدد آمیز رویوں کا خاتمہ کیا جاسکے جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا تھا ڈپریشن کا جو مسائل کا منبہ ہے حد سے زیادہ بے چین عموما لوگ ہمارے ہاں دکھی ہونے کو ڈپریشن سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور بہت سے لوگ ہلکے سے دکھ کو بھی ڈپریشن کہنا شروع کر دیتے ہیں مگر وہ دکھ ڈپریشن نہیں فقط پریشانی ہوتی ہے اسی طرح تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ باقاعدگی کیساتھ ہفتے میں ایک دن ورزش کرنے سے آپ مستقبل میں ڈپریشن سے بچ سکتے ہیں گیارہ سال تک 33 ہزار لوگوں پہ کی گئی تحقیق کے بعد محققین اس نتیجے پہ پہنچے تھے کہ اگر تحقیق کا حصہ بننے والے لوگ ہفتے میں ایک دن محض ایک گھنٹہ کسی بھی طرح کی ورزش کر لیتے تو ان کا 12% ڈپریشن سے بچ سکتا تھا یاد رہے یہ لوگ پھر بھی انزائٹی کا شکار ہو سکتے ہیں ڈپریشن اور انزائٹی دو الگ الگ چیزیں ہیں ڈپریشن ایک بہت برے احساس کا نام ہے جس سے گزرنا اذیت سے کم نہیں اسی طرح ڈپریشن اور انزائٹی بہت نزدیکی تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ ڈپریشن یہ ہے کہ آپ ناامید ہو جائیں اپنے نزدیک خود کی وقعت کھو دیں اور کوشش کرنا وقت کا ضیاع سمجھیں جبکہ انزائٹی یہ ہے کہ آپ حد سے زیادہ پریشان رہیں بہت زیادہ سوچنا شروع کردیں اور لوگوں سے کترانے لگیں اور پھر خودکشی کی سوچ دونوں میں آنے لگتی ہے پہلے جملے کی سادہ سی تشریح یہ ہے کہ جو لوگ ڈپریشن جیسے تلخ احساس سے گزرتے ہیں تو وہ کسی بھی کام پہ توجہ نہیں دے پاتے وہ دکھی نہیں ہوتے مگر ان کا دل کسی ایسے خوف میں مبتلا رہتا ہے جو ان کو زندگی میں کوئی مقصد نہیں دکھاتا ان کا دل کسی بھی چیز میں نہیں لگتا بلکہ ان کی سوئی ایک ہی منفی خیال پہ اٹک کر رہ جاتی ہے وہ خیال ان کے ذہن میں ہر وقت گھومتا رہتا ہے اور وہ زندگی کو بے معنی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ان کا دل کہیں نہیں لگتا ایسے میں اگر آپ ڈپریشن میں ہیں؟ بہت پریشان ہیں؟ تو درج ذیل روٹین کو فالو کرنے کی کوشش کریں جب سو کر اٹھیں تو سب سے پہلے اپنا بستر خود ٹھیک کریں اگر آپ مرد ہیں تو اپنے بال کٹوائیں اور شیو بنوائیں گندے لباس کی بجائے صاف لباس پہنیں اگر دو ہی سوٹ ہیں تو روزانہ دھو کر صاف لباس پہنیں کچھ دنوں تک ان تین کاموں کی روٹین بنائے رکھیں پھر کچھ مزید کام کرنا شروع کریں جیسا کہ سوکر اٹھنے کے بعد شاور ضرور لیں روزانہ رات کو سونے کا اور صبح جاگنے کا وقت سیٹ کریں اور اس پر عمل کریں کھانا چاہے ایک نوالہ کھائیں مگر وقت پہ کھائیں ایک کتاب اور ڈائری لیں کتاب کا ایک صحفہ روزانہ پڑھیں اور ڈائری میں روز اپنی ایک اچھی بات نوٹ کریں وہ بات جو آپ کو خود بہت پسند ہے اگر کچھ بھی پسند نہیں ہے تو آپکا دماغ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے کوشش کریں یہ آپ کو سچ بتائے پانی زیادہ سے زیادہ پئیں کوئی فزیکل گیم یا مشقت شروع کریں یاد رہے! روٹین لائف ڈپریشن سے نکلنے کی طرف اٹھا پہلا قدم ہے کیونکہ ڈپریشن ہمارے دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتا ہے جو کہ روٹین کو سیٹ کرتا ہے جب ہم ڈپریشن میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے یہی حصہ متاثر ہوتا ہے اگر آپ ڈپریشن کی جڑ کو پکڑیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں آپ بہت بہتر حالت میں آ جائیں گے لیکن آپ یہ کام ایک ہی دن میں اچیو نہیں کر سکتے بعض لوگوں کو ہفتے اور بعض کو مہینے لگ سکتے ہیں پھر جا کے یہ جنگ وہ جیت پاتے ہیں لیکن! ہر چھوٹی موٹی پریشانی ڈپریشن ہرگز نہیں ہے مگر ہم اسے ڈپریشن سمجھ بیٹھتے ہیں اسے ڈپریشن مت سمجھیں اور اس پریشانی میں بھی اسی روٹین کو ہی فالو کریں یہ ایک سادہ سا کلیہ ہے جو تمام سائیکالوجسٹ پریشانیوں میں گھرے کسی بھی شخص کو بتاتے ہیں کیونکہ اونٹ کو نکیل ڈالنے کے لئے اس پہ عمل کرنا بہت ضروری ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: QAFIA KHAN

Read More Articles by QAFIA KHAN: 6 Articles with 2758 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2022 Views: 836

Comments

آپ کی رائے